آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ7؍ ربیع الاوّل 1440ھ 16؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لاہور( خالد محمود خالد)بھارتی حکومت نے بھارتی پنجاب کے مختلف شہروں میں مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے لئے زندگی اجیرن کر دی ہے۔امرتسر اور جالندھر میں زیر تعلیم اور پنجاب پولیس کی زیر حراست پانچ کشمیری طلبہ ذاکر موسیٰ ، اس کے کزن یوسف رفیق بھٹ ، زاہد گلزار، محمد ادریس شاہ عرف ندیم اور سہیل احمد بھٹ کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آر کوبھارت کی بدنام زمانہ "نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی"کے حوالے کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی ان پانچوں طلبہ کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آرنمبر 34کو ری رجسٹر کرے گی۔بھارتی ذرائع کے مطابق بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے رہائشی مذکورہ تینوں کشمیری طلبہ بھارتی پنجاب کے سکھوں کے ساتھ مل کر خالصتان تحریک کو ہوا دے رہے ہیں اور سکھوں کی الگ ملک کے قیام کے لئے چلائی جانے والی مہم "ریفرنڈم 2020ـ"کا ساتھ دے رہے ہیں۔وزارت داخلہ کو اس سلسلے میں ایک خط بھی لکھا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ذاکر موسیٰ کا نام انتہائی مطلوب دہشت گردوں کی فہرست میں

شامل ہے اور اس کا تعلق انصار غزوہ الہند سے ہے جو مبینہ طور پر بھارت مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہے۔ان تمام طلبہ کومزید تحقیقات کے لئے نئی دہلی منتقل کرنے کی کارروائی بھی کی جا رہی ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں