آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ12 ربیع الاوّل 1440ھ 21؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی (ٹی وی رپورٹ)حکومتی ترجمان برائے اقتصادی امور فرخ سلیم نے کہا ہے کہ بارہ ارب ڈالر کا مالیاتی خلاء پُر کرنے کیلئے آئی ایم ایف اور دوست ممالک ہی آپشن ہیں، چین اور سعودی عرب کے علاوہ مزید دو دوست ممالک سے جلد خوشخبری ملے گی، چین نے اصولی طور پرا مدادی پیکیج کی منظوری دیدی ہے، چین کے ساتھ امدادی پیکیج کے ڈھانچے اور حجم سے متعلق بات چیت جاری ہے۔ وہ جیو کے پروگرام ”نیا پاکستان طلعت حسین کے ساتھ“ میں میزبان طلعت حسین سے گفتگو کررہے تھے۔ پروگرام میں ن لیگ کے رہنما سینیٹر ڈاکٹر مصدق ملک،پی ٹی آئی کے رہنما ڈاکٹر رمیش کماروانکوانی اور اے این پی کے رہنما زاہد خان بھی شریک تھے۔مصدق ملک نے کہا کہ اس وقت دھونس دھاندلی کا بازار گرم نظر آرہا ہے، ایک ریاستی ملازم ٹیلیویژن پر آکر عدلیہ اور شواہد پر اثر انداز ہونے کی کوشش کررہا ہے، اس صورتحال میں کیسے انصاف کی توقع رکھ سکتے ہیں، نیب میں حکومت کا عمل دخل نہیں تو وزیراعظم کیوں کہتے ہیں میں این آر او نہیں دوں گا، جہاں گالم گلوچ ہورہی ہو اس پارلیمان میں کیا

قانون سازی ہوگی۔زاہد خان نے کہا کہ تحریک انصاف کے لوگ کیسوں کے باوجود گرفتار نہیں ہوں گے تو سوال اٹھے گا،،بدقسمتی ہے کہ اپوزیشن بھی اپنا کردار ادا نہیں کررہی ہے۔رمیش کمار وانکوانی نے کہا کہ نیب مقدمات اورا نکوائریوں میں حکومت کا کوئی کردار نہیں ہے، ڈی جی نیب لاہور کے ٹی وی انٹرویوز اور شہباز شریف کی اسمبلی کے فلور پر نیب سے متعلق باتیں مناسب نہیں تھیں، نیب میں خامیاں دور کرنے کیلئے اصلاحات ضروری ہیں۔حکومتی ترجمان برائے اقتصادی امور فرخ سلیم نےکہا کہ نئی حکومت کیلئے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بہت بڑا چیلنج تھا، ن لیگ کی حکومت میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تین ارب سے اٹھارہ ارب پر پہنچ گیا،دنیا میں شاید ہی کوئی معیشت ملے جس کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 600گنا بڑھ گیا ہو، بیرونی قرضہ جی ڈی پی سے نہیں آمدنی اور ایکسپورٹ سے اتارنا ہوتا ہے، معیشت کیلئے بڑا خطرہ بیرونی ادائیگیوں کیلئے ڈالر کا تھا جو ٹلتا نظر آرہا ہے، بارہ ارب ڈالر کا مالیاتی خلاء پُر کرنے کیلئے آئی ایم ایف اور دوست ممالک ہی آپشن ہیں، سعودی عرب تین ارب ڈالر ہمارے خزانے میں دے گا، ہر سال تین ارب ڈالر کا تیل ادھار پرملے گا یہ پیسہ بھی خزانے میں جمع ہوگا۔ فرخ سلیم نے کہا کہ اسد عمر نے بتایا ہے کہ آئی ایم ایف سے پانچ سے چھ ارب ڈالر لینے کا پلان ہے، پچھلے جمعرات تک اسٹیٹ بینک کے پاس آٹھ ارب ڈالر کے ذخائر موجود ہیں۔سینیٹر مصدق ملک نے کہا کہ اس وقت دھونس دھاندلی کا بازار گرم نظر آرہا ہے، قانون کے مطابق سرکاری افسران ٹیلی ویژن پر آکر کوئی تبصر ہ نہیں کرسکتے، مصدق ملک کاکہنا تھا کہ ہمارا کبھی خیال نہیں رہا کہ ن لیگ کیلئے حالات بہترہوجائیں گے، ایک مکمل فاشسٹ نظام حکومت نظر آرہا ہے جس میں ریاست اور حکومت کی تفریق ختم ہوتی جارہی ہے، زلفی بخاری پاکستانی شہریت نہیں رکھتے وہ کیسے وزیراعظم کے مشیر بنے بیٹھے ہیں،۔رمیش کمار وانکوانی نے کہا کہ تحقیقات کے دوران ڈی جی نیب لاہور کے ٹی وی انٹرویوز اور شہباز شریف کی اسمبلی کے فلور پر نیب سے متعلق باتیں مناسب نہیں تھیں، نیب میں بھی خامیاں ہیں جنہیں دور کرنے کیلئے اصلاحات ضروری ہیں، نیب کو اتنا خودمختار بنایا جائے کہ کوئی مداخلت نہ کرسکے، احتساب کے دوران سیاسی انتقام کی بو نہیں آنی چاہئے۔ رمیش کمار وانکوانی کا کہنا تھا کہ نیب مقدمات اورا نکوائریوں میں حکومت کا کوئی کردار نہیں ہے، شریف برادران پر کیسز موجودہ حکومت کے دور میں قائم نہیں ہوئے، موجودہ حکومت نیب یا ایف آئی اے کو نئے کیس بھیجتی ہے تب تو الزام لگایا جاسکتا ہے، ماضی میں ہم نے بھی اداروں میں اصلاحات کی بات کی لیکن اصلاحات نہیں کی گئیں، حکومت کو تاریخ سے سیکھ کر اچھے اقدامات کرنے چاہئیں، نئے پارلیمنٹرینز کچھ جذباتی ہیں لیکن سیاست میں جذبات نہیں چلتے، ن لیگ میں تھا تب بھی غلط کو غلط کہتا تھا آج بھی غلط کو غلط کہتا ہوں۔زاہد خان کا کہنا تھا کہ عمران خان، عبدالعلیم خان، پرویز خٹک اور پرویز الٰہی پر بھی کیسز ہیں ان کو کیوں گرفتار نہیں کیاجارہا ہے، نیب کرپٹ ادارہ ہے اس میں بیٹھے تمام لوگ کرپٹ ہیں، نیب بلاتفریق احتساب کرتا ہے تو کسی کو اعتراض نہیں ہوگا، نواز شریف اور شہباز شریف کو گرفتار کرتے ہیں تو عمران خان اور پرویز خٹک کو بھی گرفتار کرے، اگر تحریک انصاف کے لوگ کیسوں کے باوجود گرفتار نہیں ہوں گے تو سوال اٹھے گا۔ زاہد خان نے کہا کہ جو کچھ بھی ہورہا ہے اس کا نقصان حکومت کو ہی ہورہا ہے، ہماری بدقسمتی ہے کہ اپوزیشن بھی اپنا کردار ادا نہیں کررہی ہے، سعودی عرب سے پیکیج کن شرائط پر ملا پارلیمان نے نہیں پوچھا، ملک اس وقت کسی کی جنگ میں جانے کا متحمل نہیں ہوسکتا، ملک کو نقصان پہنچا تو اپوزیشن بھی اس کی ذمہ دار ہوگی۔  

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں