آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل3؍ربیع الثانی 1440ھ11؍دسمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مولانا محمد امجد خان

حضور اکرمﷺ اللہ کے آخری نبی اور رسول ہیں،آپ کو اللہ نے بے پناہ خوبیوں اور اوصاف سے نوازا۔ آپﷺ کی ذات کو قرآن مجید نے رحمۃ للعالمین فر مایا۔ آپﷺ صرف مسلمانوں کے لیے ہی نہیں، بلکہ کائنات کی ایک ایک چیز کے لیے رحمت بن کرآئے ہیں،اللہ نے تمام انبیائے کرامؑ کو بڑی خوبیوں اور کمالات سے نوازا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے سب سے زیادہ کمالات محبوب کائنات ﷺ کو عطا فرمائے ہیں،خصائص نبویؐ سے وہ فضائل و کمالات مراد ہیں جو حق تعالیٰ جل شانہ نے خاص آنحضرتﷺ کو عطا فرمائے ہیں اور انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والتسلیمات میں کسی نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کوان کا شریک نہیں بنایا۔علامہ جلال الدین سیوطی ؒ نے بیس سال بڑی محنت اور لگن سے احادیث و آثار و کتب تفسیر وتشریح حدیث وغیرہ سے حضورﷺ کے خصائص کا تتبع کیا ہے اور خصائص کبریٰ اور انموذج اللبیب فی خصائص الحبیب تصنیف فرمائیں اور ایک ہزار سے زائد خصائص رقم فرمائے۔ عارف باللہ قطب ربانی امام شعرانی ؒنے کشف الغمہ عن جمیع الامۃ میں اپنے استاد محترم علامہ سیوطی ؒ سے آنحضرت ﷺکے خصائص نقل کیے ہیں ۔

اللہ تعالیٰ نے آنحضرتﷺ کو سب نبیوں سے پہلے پیدا کیا اور سب سے آخر میں مبعوث فرمایا۔عالم ارواح میں آپﷺ کو نبوت سے سرفراز فرمایا گیا اور اسی عالم میں دیگر انبیائے کرام ؑ کی روحوں نے آپؐ کی روح انور سے فیض پایا۔عالم ارواح میں اللہ تعالیٰ نے دیگر انبیائے کرام ؑکی روحوں سے عہد لیا کہ اگر وہ حضور انورﷺکے زمانے کو پائیں تو آپؐ پر ایمان لائیں اور آپؐ کی مدد فرمائیں۔

آپﷺکا اسم مبارک عرش عظیم کے پایہ پر اور ہر ایک آسمان پر اور جنت کے درختوں اور محلات پر لکھا گیا ہے۔حضرت آدم ؑ اور تمام مخلوقات حضورﷺکے لیے پیدا کیے گئے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے مبارک اسماء میں سے آپ ؐ کو اسماء مبارکہ نصیب فرمائے۔ جیسے رؤف،رحیم۔ یہ کل ستر نام ہیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں آپﷺ کو نام لے کر خطا ب نہیں فرمایا، بلکہ القاب سے پکارا جو غایت درجہ کی محبت ہے۔تورات، زبور،انجیل میں آپﷺ اور اصحاب کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے تذکرے فرمائے۔آپ ﷺکا قرن بنی آدم کے قرنوں سے قبیلہ و خاندان تمام قبائل اور خاندانوں سے اور ذات گرامی سب مخلوق سے افضل و برتر ہے۔سیدنا حضرت آدم ؑ سے حضورﷺ کے والد ماجد تک اور حضرت حوا سے حضورﷺ کی والدہ ماجدہ تک نسب شریف میں کوئی بھی آپ سے بڑھ کر نہیں گزرا۔آپﷺجس سال رحم مادر میںآئے،اس سال بانجھ عورتوں کو بھی خالق کائنات نے اولاد سے نوازا۔آپﷺ کی پیدائش کے وقت ایسا نور نکلا کہ ملک شام کے محل روشن ہوگئے۔آپﷺ نے جب کلام فرمایا تو سب سے پہلے اپنے رب کا نام لیا اللہ اکبر کبیراً۔ آپﷺ نے جب وصال فرمایا تو سب سے آخر میں بھی اپنے رب کا نام لیا اَللّٰہَمَّ بِالَّرِفَیْقِ الْاَعْلٰی۔آپﷺ کے گہوارے کو فرشتے ہلاتے تھے۔ آپ ؐ پربعثت سے پہلے گرمی میں بادل سایہ کرتے تھے،آپ ؐکا بول و براز مبارک ہرقسم کی بدبو سے پاک اور خوشبوئوں سے معطّرتھا اور موجب ِشفا بھی تھا ۔آپؐ کا نام مبارک (محمد) اللہ تعالیٰ کے اسم مبارک (محمود)عزوجل سے مشتق ہے۔اللہ تعالیٰ نے آپؐ کے ذکر کو خود بلند فرمایا۔ ور فعنالک ذِکرک۔ اذان، نماز، درود شریف، قبر کے سوالات وجوابات ہر جگہ اپنے ساتھ ذکر فرمایا۔اللہ تعالیٰ نے اپنے نام مبارک کی طرح (اللہ) عزوجل آپ ؐکے نام پاک (محمدؐ) کے نام مبارک کو بھی نقاط سے پاک رکھا۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی پہلی وحی میں اپنے رب ہونے کی نسبت آپ ؐ کی طرف فرمائی جو غایت درجہ کی محبت ہے۔آپؐ کا اسم مبارک احمد ہے۔ آپ ؐسے پہلے جب سے دنیا پیدا ہوئی کسی کا یہ نام نہ تھا تاکہ اس بات میں کسی کو شک و شبہ کی گنجائش نہ رہے کہ کتب سابقہ سماوی میں جس احمدکا ذکر ہے وہ آپؐ ہی کا ہے۔آپ ؐ کو پروردگار کریم بہشت کے طعام سے کھلاتے پلاتے تھے۔آپؐ رات کو اندھیرے میں ایسا دیکھتے جیسا کہ دن کے وقت روشنی میں دیکھتے۔آپؐ کا لعاب مبارک کھارے پانی کو میٹھا بنا دیتا اور شیرخواربچوں کے لیے دودھ کا کام دیتا۔آپ ؐ کا لعاب مبارک گونگے کی زبان پر لگادینے سے وہ گویا ہوجاتا اور کلام شروع کر دیتا ۔ زہر کے لیے تریاق اور امراض کے لیے شفا کا سبب ہوتا۔آپ ؐ کسی پتھر پر چلتے تو پائے مبارک کا نشان پڑ جاتا۔آپؐ کی بغل شریف پاک صاف تھی اور اس سے ہر وقت خوشبو مہکتی تھی۔آپؐ کی آواز مبارک بہت دور تک پہنچ جاتی۔آپؐ کی تلاوت پاک کی تاثیر کی وجہ سے کفار بھی رات کو چھپ کر آپؐ کی تلاوتِ قرآن سننے آتے۔آپؐ کی قوت سامعہ سب سے بڑھ کر تھی۔یہاں تک کہ اکثر اژدحام ملائک کے سبب آسمان میں جو آواز پیدا ہوتی، اسے بھی سن لیتے اور حضرت جبرائیل علیہ الصلوٰۃ والسلام ابھی سدرۃ المنتہیٰ میں ہوتے تو ان کے بازوئوں کی آواز سُن لیتے تھے۔آپ ؐ کی قوت شامہ اتنی تیز تھی کہ جبرائیل امین علیہ الصلوٰۃ السلام ابھی سدرۃ المنتہیٰ پرہوتے تو ان کی خوشبو مبارک کو سونگھ لیتے تھے۔خواب (نیند) میں آپؐ کی چشم مبارک سو جاتی، مگر دل بیدار رہتا۔بعض کہتے ہیں کہ دیگر انبیاء ؑکا بھی یہی حال تھا۔آپؐ کا پسینہ مبارک کستوری سے زیادہ خوشبودار تھا۔آپؐ کا قد مبارک درمیانہ تھا،مگر جب دوسروں کے ساتھ چلتے یا بیٹھتے تو سب سے بلند نظر آتے۔آپؐ کا سایہ مبارک زمین پرنہ پڑتا، تاکہ کسی کے قدموں سے بے ادبی نہ ہو۔آپؐ کے حسن وجمال کو کوئی آنکھ بھر کر نہیں دیکھ سکتا تھا۔آپؐ جب چلتے تو فرشتے (بغرض حفاظت) پیچھے چلتے۔

آپﷺ کے ہاتھ مبارک سے حدیبیہ کے مقام پر پانی کے فوارے پھوٹ پڑے تھے، جب صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو پانی کی ضرورت تھی تو چودہ سو اصحاب رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے وہ پانی استعمال فرمایا۔آپﷺ رات کے وقت دولت خانہ میں تبسم فرماتے تو گھر روشن ہو جاتا۔آپ ؐکے بدن مبارک سے ہر وقت خوشبومہکتی رہتی،جس راستے سے گزر ہوتا تو پتہ چل جاتا کہ آپؐ یہاں سے گزرے ہیں۔آپؐ شب معراج میں جسدمبارک کے ساتھ حالت بیداری میں آسمانوں سے بھی اوپر تشریف لے گئے اور دیدار خداوندی سے مشرف ہوئے۔آپؐ کے لیے شب معرج میں آسمان سے براق لایا گیا۔آپﷺ کو اللہ تعالیٰ نے وہ کتاب عطا فرمائی جو تحریف سے محفوظ اور بہ اعتبار لفظ ومعنی معجزہ ہے ،حالانکہ آپؐ اُمّی تھے۔لکھنا پڑھنا نہ جانتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے آپﷺکو جوامع الکلم عطا فرمائے، یعنی آپ ؐکے کلام شریف میں فصاحت و بلاغت،بدائع حِکم اور محاسن عبارت بلفظ موجز لطیف سب پائے جاتے ہیں۔آپؐ تمام جہانوں (جن وانس) کے لیے پیغمبر بنا کر بھیجے گئے ہیں۔آپؐ خاتم النبیین ہیں۔آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور آپؐ کی یہ خصوصیت سارے خصائص سے افضل ہے۔آپؐ کی شریعت سابقہ شرائع کی ناسخ ہے اور قیامت تک آپؐ ہی کی شریعت پر عمل ہوتا رہے گا۔آپ ؐکے لیے اور آپؐ کی امت کے لیے تمام روئے زمین سجدہ گاہ اور پاک کرنے والی بنا دی گئی۔چاند کا ٹکڑے ہونا، شجر و حجر کا سلام کرنا اور آپؐ کی رسالت کی شہادت دینا۔ درخت کے تنے کا رونا۔ یہ سب معجزات آپ ﷺکو عطا ہوئے۔آپؐ نے حضرت جبرائیل امین علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اپنی اصل صورت میں دیکھا۔آپؐ کو رعب و دبدبہ کے ذریعے ایک مہینے کی مسافت تک بلااسباب ظاہری کے فتح و نصرت عطا کی گئی۔

اللہ تعالیٰ نے آپؐپر درود کو اپنا مستقل عمل قرار دیا۔آپؐ اولاد آدم کے سردار ہیں۔آپؐ کے ساتھ عمداً بلند آواز سے کلام کرنا حرام ہے۔آپؐ کی ازواج مطہراتؓکو مؤمنین کی مائیں قرار دیا۔اللہ تعالیٰ کے نزدیک آپؐ مخلوق میں سب سے زیادہ افضل اور محبوب ہیں ،بلکہ دونوں جہانوں میں ساری نعمتیں اور برکتیں اورخیر اُن ہی کی صدقے میں ہیں۔اللہ تعالیٰ نے آپ ؐکے اصحاب کرامؓ کو دنیا ہی میں اپنی رضا سے نوازا۔اللہ تعالیٰ آپؐ کے روضۂ مبارک پر روزانہ صبح و شام ستر ہزار فرشتے اتارتا ہے،یہ فرشتے آپ ؐ پر دَرود و سلام پڑھتے رہتے ہیں۔

روز محشر آپ ؐکے دستِ مبارکِ میں لوائے حمد ہو گا اور سیدناحضرت آدمؑ اور دیگر انبیائے کرامؑ اس جھنڈے کے نیچے ہوں گے۔قیامت کے دن سیدنا حضرت آدم ؑ کی کنیت ابومحمد ہو گی۔حضورﷺ اپنی امت سمیت سب سے پہلے پل صراط سے گزریں گے روز محشر شفاعت کبریٰ آپﷺکو حاصل ہوگی۔جنت کا دروازہ سب سے پہلے آپ ؐکے لیے کھولا جائے گا۔جنت کے اندر سب سے عمدہ محل،مقام آپؐ کو حاصل ہو گا اوردیدار خداوندی کی سب سے خاص تجلی اور قرب الٰہی آپؐ ہی کو حاصل ہوگا۔آپ ؐکے وسیلے سے مانگی ہوئی ہر جائز حاجت پروردگار عالم فوری قبول فرماتے ہیں۔اللہ تعالیٰ اپنی رحمت اورآپ ؐکے وسیلے سے ہم سب کو حسن خاتمہ نصیب فرمائے اور بلاعذاب قبر جنت نعیم اور اپنے دیدار و قرب مصطفیؐ سے مشرف فرمائے۔ (آمین)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں