آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات5؍ ربیع الثانی 1440ھ 13؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈاکٹر جاوید اقبال،راول پنڈی

بین الاقوامی سطح پر ہر سال 3دسمبر کو ’’معذوری سے بچاؤ کا عالمی دِن‘‘ منایا جاتا ہے، جس کا مقصدعوام میں اس بات کا شعور بیدارکرنا ہے کہ ذہنی و جسمانی معذورین سے مشفقانہ برتائو نہ صرف ہمارا دینی و اخلاقی فریضہ ، بلکہ سماجی و معاشرتی ذمّے داری بھی ہے۔ اقوامِ متحدہ نے 1992 ء میں ایک قرارداد پیش کی، جس میں ِ اقوامِ عالم سے اپیل کی گئی کہ دُنیا بَھر کے معذور افراد اس بات کا بَھرپور حق رکھتے ہیں کہ اُنہیں ایک بہتر زندگی گزارنے کا حق دیا جائے۔نیز،انھیں نظر انداز کرنے یا تضحیک کا نشانہ بنانے کی بجائے معاشرے کا ایک عام فرد سمجھا جائے۔جس کے بعد سے ہرسال یہ یوم ایک تھیم منتخب کرکے باقاعدگی سے منایا جاتا ہے۔امسال جو تھیم مقرر کیا گیا وہـ"Empowering Persons With Disabilities And Ensuring Inclusiveness And Equality" ہے۔یعنی معذور افراد کو برابری کی سطح پر نہ صرف حقوق دیے جائیں، بلکہ انہیں معاشرے میں مناسب مقام دے کر ان کی حوصلہ افزائی بھی کی جائے۔دراصل عالمی ادارۂ صحت نے صحت کے حوالے سے ایک ایجنڈا پیش کیا تھا، جس کے مطابق2030ء تک چند اہداف لازماً مکمل کرنے ہیں،اور مذکورہ تھیم بھی اسی ایجنڈے کی ایک کڑی ہے،جس کی تکمیل کے لیے نہ صرف حکومتی اداروں، معذور افراد کی فلاحی تنظیموں، تعلیمی اداروں ،نجی سیکٹرز سے منسلک لوگوں،بلکہ خود معذور افراد کو بھی مل جُل کرکام کرنا ہوگا۔

ہمارے معاشرے میں یہ تصوّر عام ہے کہ معذوری کا مطلب کسی بھی فرد کا اپنے ہاتھوں، پیروں یا چند ذہنی صلاحیتوں کا مکمل طور پر استعمال نہ کرناہے،لیکن طبّی سائنس معذوری کی تشریح کچھ اور ہی کرتی ہے۔جس کے مطابق معذوری کی بہت سی صورتیں ہوسکتی ہیں، جب کہ معذوری کا سبب بننے والے عوامل بھی مختلف ہوتے ہیں۔ اب قدرتی آفات اور حادثات ہی کو دیکھ لیں، جن میںبہت سے افرادعُمر بَھر کی معذوری کا شکار ہوجاتے ہیں۔پھر بعض بیماریاں اور موروثی عوامل بھی تاعُمر معذوری کا سبب بن جاتے ہیں۔ایک تحقیق کے مطابق دُنیا بَھر میں معذوری کی بڑی وجہ کمر کے نچلے حصّے میں درد رہنا ہے کہ دُنیا کی کُل آبادی میں سے9.4فی صد افراد کمر کی تکلیف کا شکار ہیں۔ ان میںایک بڑی تعدادمغربی یورپ کے افرادکی ہے۔ان کے بعد شمالی افریقا اور پھر مشرق ِوسطیٰ کا نمبر آتاہے۔ کمردرد کی سب سے کم شرح کیریبین جزائر اور لاطینی امریکا میں پائی جاتی ہے۔چند دہائیاںقبل تک بچّوں میں وٹامن ڈی کی کمی سے ہڈیوں اور خاص طور پر ریڑھ کی ہڈی کے ٹیڑھے ہونے کا نقص عام تھا۔ایسا بچّہ نہ صرف ناقابلِ علاج تھا،بلکہ عُمر بھر کے لیے معذور بھی ہوجاتا تھا۔اسی طرح ہڈیوں کا بُھربُھرا پن یعنی آسٹیوپوروسس بھی ایک ایسا عارضہ ہے،جو معذوری کا سبب بن سکتا ہے۔اس عارضے میں ہڈیوں کا حجم کم ہوکر ساخت میں تبدیلی واقع ہوجاتی ہے۔نیز، متاثرہ افراد کی ہڈیاں بغیر کسی فریکچر کے گلنا سڑنا شروع ہو جاتی ہیں ۔چوں کہ یہ عارضہ خاموشی سے ہڈیوں کو کم زور اور خستہ کرتا ہے، اس لیے عموماً تشخیص تاخیر سے ہوتی ہےاور اگرآسٹیوپوروسس یا آسٹیومائی لائٹس (Osteomyelitis)کے عوارض بروقت تشخیص نہ ہوں، علاج بھی نہ کیا جائے، تو ہڈیوں کے سرطان میں مبتلا ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ہڈیوں کا سرطان جسے "AVN:Avascular Necrosis Of Bone"کہا جاتا ہے،انتہائی پیچیدہ اور خطرناک عارضہ ہے، جو متاثرہ فرد کو معذور کردیتا ہے،کیوں کہ اگر ایک بار ہڈی میں خون کی فراہمی منقطع ہوجائے، تو پھر اسے دوبارہ رواں کرنا ممکن نہیں۔ گو کہ یہ عارضہ زیادہ عام نہیں ، لیکن ایسے افراد، جو اپنی ہڈیوں کی طرف سے بالکل لاپروائی برتتے ہیں، وہ اس مرض کا شکار ہوسکتے ہیں۔یہ مرض عموماً گھٹنے کے جوڑ کی ہڈیوں کو متاثر کرتا ہے۔علاوہ ازیں، جوڑوں کے امراض بھی دُنیا بَھر میں عام ہیں،جو جسمانی معذوری سے دوچار کردیتے ہیں، بلکہ تحقیقات و مشاہدات اس بات کے شاہد ہیں کہ آرتھرائٹس کا عارضہ معذوری کا ایک بڑا سبب مانا جاتا ہے۔یہ عارضہ30سے40برس یا اس سے زائد عُمر کے افراد کو متاثر کرتا ہے اور مَردوں کی نسبت خواتین میں اس کی شرح بُلند ہے۔یہ بیماری جوڑوں، جِلد، پٹھوں اور دیگر اعضاء کو متاثر کرتی ہے ،نتیجتاًمریض کا چلنا پھرنا دوبھر ہو جاتا ہے۔ دراصل اس تکلیف دہ عارضے میں جوڑوں کو ملانے والی نرم ملائم ہڈی کی ساخت بدل جاتی ہے۔ نیز، ہڈیوں کےجوڑوں پر سوزش یا وَرم کے باعث جوڑوں کو حرکت دینے میں شدید قسم کادرد ہوتا ہے۔اس کے علاوہ رہیوماٹائڈ آرتھرائٹس بھی معذوری کا سبب بن سکتاہے کہ اس عارضے میں نہ صرف جسم کا مدافعتی نظام خراب ہوجاتا ہے،بلکہ انگلیوں، کلائیوں، کولھے، گھٹنے اور پاؤں کے جوڑ، عضلات، نسیں اور بافتیںتک متاثر ہوجاتی ہیں۔سیپٹک آرتھرائٹس بھی جوڑوں کے مرض کی ایک تکلیف دہ قسم ہے، جو جسمانی معذوری کا سبب بن سکتاہے۔پھرہڈیوں کا ٹوٹنا یا چوٹ لگنا بھی معذوری کی وجہ بن سکتی ہے۔ویسے تو جسم کے کسی بھی حصّے کی ہڈی ٹوٹ جائے یا چوٹ لگ جائے، تو کوئی پیچیدگی جنم لے سکتی ہے، لیکن ریڑھ کی ہڈی کی چوٹ یا فریکچر زندگی بھر کے لیے چلنے پھرنے اور روزمرّہ کے امور انجام دینے سے معذور کردیتاہے۔ ریڑھ کی ہڈی کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ جسم کے ڈھانچے کو سنبھالنے اور اسے مناسب ہیئت دینے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔

بعض کیسز میں بچپن کی کوئی بیماری بھی زندگی بَھر کی معذوری کا سبب بن جاتی ہے۔جیسا کہ پولیو،جسےبچّوں کا فالج بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ایک شدید سرایت کرنے والا مرض ہے،جو اپنی خطرناک حالت میں عصبی نظام پر اثر انداز ہوتا ہے۔اس کا وائرس مُنہ کے ذریعے اور بعض حالتوں میں ناک کے ذریعے جسم میں داخل ہوکر دماغ، اعصاب اور حرام مغز کو متاثر کردیتا ہے، جس کے نتیجے میں پٹّھے یا عضلات کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔اس بیماری سے بچاؤ ویکسی نیشن کے ذریعے ممکن ہے۔ تاہم،وہ بچّے، جنھیں پولیو کے قطرے نہ پلائے جائیں، اُن میں مرض سے متاثرہ ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔پولیو کی تین اقسام ہیں،مگر"Paralytic polio" اپاہج کردینے والے اثرات کی وجہ سےسب سےخطرناک تصوّر کیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق پولیو کے حملے کا خطرہ بچّےکی پیدایش کے پہلے برس میں زیادہ پایا جاتا ہے۔ اسی لیے پیدایش کے فوراً بعد اس بیماری کے خلاف ویکسی نیشن کروانا ضروری ہے۔ عمومی طورپر تپِ دق کی ویکسین کے ساتھ ہی پولیو کے قطرے بھی پلا دیے جاتے ہیں اور یہ قطرے مختلف خوراکوں کے ذریعے ایک مخصوص وقت کے بعد پلائے جاتے ہیں۔

تاحیات معذوری کا سبب بننے والا ایک عارضہ فالج بھی ہے۔فالج کا مرض عموماً 50سال کے بعد ہی حملہ آور ہوتا ہے۔کبھی یہ تصوّر کیا جاتا تھا کہ فالج بوڑھے افراد کا مرض ہے، مگر اب ہر عُمر کے افراد اس کا شکار نظر آتے ہیں۔اس مرض کا حملہ مریض کو معمولی سے لے کر شدید نوعیت تک کی معذوری میںمبتلا کردیتا ہے۔یہ دماغ کا ایک عارضہ ہے، جس میں دماغ کا ایک حصّہ اچانک ہی کام چھوڑ دیتا ہے۔عموماً فالج کا حملہ اچانک ہوتا ہے۔ مریض گھر پر یا کہیں باہر ہو، تو ابتدا میں سَر میں شدید درد محسوس ہوتا ہے، چکر آتے ہیں اور وہ بے ہوش ہو جاتا ہے۔ ان میں سے بیش تر مریض سکتے یا کومےمیں چلے جاتے ہیں۔ خاص طور پر ایسے مریض، جن پر مرض کا شدید حملہ ہوا ہو۔ مریض کے ہوش میں آنے کے بعد اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ فالج کے اثرات جسم کے کس کس حصّے پر مرتّب ہوئے ہیں۔ یعنی دماغ کے کون کون سے حصّے متاثر ہوئے ہیں۔ عام طور پر دماغ کا دایاں حصّہ متاثر ہوتا ہے، جس کی وجہ سے جسم کا بایاں حصّہ مفلوج ہوتا ہے، لیکن بعض کیسز میں اس کے برعکس بھی ہوسکتا ہے۔ مریض کو ہوش میں آنے کے بعد یہ یاد نہیں رہتا کہ اُسے کیا ہوا تھا اور وہ کتنا عرصہ بے ہوش رہا ۔ فالج عارضی یا مستقل نوعیت کا ہوسکتا ہے اور یہ بیماری یا خلیات کے متاثر ہونے پر منحصر ہے۔ فالج کا شمار نوع انسانی کی بہت قدیم بیماریوں میں کیا جاتا ہے۔قدیم دَور میں جب کوئی فرد فالج کا شکار ہوتا ، تو لوگ مختلف قسم کے توہمّات کا شکار ہوجاتے، نتیجتاً مرض بگڑ جاتا اور شفایابی کے امکانات بھی معدوم ہو جاتے۔ بدقسمتی سے اس جدید دَور میں بھی اس مرض کے علاج معالجے کے حوالے سے عزیز و اقارب مختلف طرح کے مشورے دیتے نظر آتے ہیں۔مثلاً کبھی مریض کو جنگلی کبوتر کا خون لگانے کا مشورہ دیا جاتا ہے،تو کوئی مالش کروانے کو کہتا ہے اور ان فرسودہ باتوں کاسارا خمیازہ مریض ہی کو بھگتنا پڑتا ہے۔یاد رکھیں، فالج کے حملے کی صورت میں مریض کو فوری طور پر کسی مستند اسپتال لے جانا لازم ہے،کیوں کہ بروقت اور درست علاج کی بدولت ہی مریض کے موت اور معذوری سے محفوظ رہنے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ یہ مرض دُنیا میں اموات کی وجوہ کے اعتبار سے تیسرے نمبر پر ہے۔ اس کے علاوہ یہ مرض طویل المیعاد معذوری (chronic disability) کا بھی سب سے بڑا سبب سمجھا جاتا ہے۔ فالج کی شرح مَردوں میں خواتین کی نسبت ڈیڑھ گنا زیادہ پائی جاتی ہے۔نیز، معذوریوں کی ایک قسم حِسی معذوری (Sensory Disability)بھی ہے۔اس میں جذباتی، ذہنی پس ماندگی کے ساتھ کبھی کبھی سُننے اور دیکھنے کی صلاحیت بھی متاثر ہوجاتی ہے۔ پھر بعض معذوریاں پیدایشی بھی ہوتی ہیں۔ مثلاً اعضا کی کمی، ایسے بچّوں کا پیدا ہونا، جو ایک دوسرے سے جُڑے ہوئے ہوں اور آپریشن سے بھی علیحٰدہ نہ کیے جاسکیں وغیرہ وغیرہ۔

مختلف قسم کی معذوریوں سے بچاؤ کے لیے ہمیں من حیث القوم ایسے تمام عوامل کا خاتمہ کرنا ہوگا، جو کسی بھی طرح کی معذوری کا سبب بن سکتے ہیں۔ نیز، انفرادی سطح پر ہمیں اپنے اردگرد کے ماحول پر بھی نظر رکھنی چاہیے،تاکہ کسی بھی طرح کے حادثے سے بچاؤ کے اقدامات کیے جاسکیں۔اس کے باوجود اگر کوئی آفت آجائے، تو اس سے نمٹنے کے لیے بھی بروقت تیار رہا جائے۔یہ ذہن نشین کرلیں کہ کسی بھی آفت یا حادثے کے وقت سب سے ضروری کام، متاثرہ افراد کو فرسٹ ایڈ فراہم کرناہے۔ اچانک بے ہوشی، شدید درد، طبّی پیچیدگیوں یا کسی تکلیف میں مبتلا کسی فرد کی زندگی بچانے کی کوشش اور حالت مزید بگڑنے سے بچانے، تکلیف کی شدّت کم کرنے کے لیے بطور معاون سب سے پہلے جو طریقہ اختیار کیا جائے یا ادویہ استعمال کروائی جائیں، انہیں ابتدائی طبّی امداد(فرسٹ ایڈ) کہتے ہیں۔فرسٹ ایڈ کے بعد مریض اپنی تکلیف میں کمی محسوس کرتا ہے اور ہمیشہ کی معذوری سے بھی محفوظ رہ سکتا ہے۔عمومی طور پران حالات میں فرسٹ ایڈکی ضرورت پڑسکتی ہے:مثلاً اوپر سے کوئی وزنی شے آکر گرجائے، تو اپنے طور پر مریض کو جہاں تک ممکن ہو، طبّی مدد فراہم کریں اور فوری اسپتال لے جائیں۔ آگ لگنے کے نتیجے میں اگر خدانخواستہ پورا جسم یا کوئی حصّہ جل جائے،تومریض کو صدمے سے نکالنے اور جل جانے والے اعضاء پر پانی ڈالا جائے۔ ٹریفک حادثے میں ہڈی ٹوٹ جانے کی صورت میں مریض کے متاثرہ حصّے کو کسی کپڑے سے باندھ کر جلد از جلد اسپتال لے جائیں۔اگر کسی کو کرنٹ لگ جائے،تو سب سے پہلے اپنا آپ بچا کر مریض کو بجلی کے سوئچ بورڈ یا کھمبے سے الگ کرنے کی تدابیر کی جائیں۔بم دھماکے میں مریضوں کو جلد از جلد اسپتال پہنچانے کی سعی کی جائے۔سیلاب کی صورت میں متاثرہ افراد کو بروقت ایسی جگہ منتقل کیا جائے، جہاں پانی آنے کے خدشات کم سے کم ہوں۔علاوہ ازیں،کسی بھی حادثے کی صورت میں شدید جریانِ خون روکنے کی کوشش کریں اور مریض کو جلد از جلد قریبی کلینک یا اسپتال لے جائیں۔ 

(مضمون نگار، القائم اسپتال، راول پنڈی میں خدمات انجام دے رہے ہیں)

مضمون نویس معالجین توجہ فرمائیں!!

سنڈے میگزین کے سلسلے’’ہیلتھ اینڈ فٹنس‘‘میں لکھنے کے شائق، معالجین سے درخواست ہے کہ اپنے مضامین کے ساتھ، اپنی پاسپورٹ سائز واضح تصاویر بھیجیں اور مکمل تعارف اور رابطہ نمبر بھی لازماً تحریر کریں۔ہماری پوری کوشش ہے کہ اپنے اس سلسلے کے ذریعے قارئیں کو مختلف امراض اور عوارض سے متعلق جس قدر بہترین، جامع اور درست معلومات فراہم کرسکتے ہیں،ضرور کریں، مگر بعض اوقات ڈاک سے موصول ہونے والی کچھ تحریروں میں لکھی جانے والی مخصوص طبّی اصطلاحات یا کسی ابہام کی تصیحح یا درستی کے لیے مضمون نگار سے براہِ راست رابطہ ضروری ہوجاتا ہے، لہٰذا تمام مضمون نویس معالجین اپنی ہر تحریر کے ساتھ اپنا رابطہ نمبر ضرور درج کریں۔ تحریریں اس پتے پر ارسال فرمائیں:

ایڈیٹر،سنڈے میگزین، صفحہ’’ہیلتھ اینڈ فٹنس‘‘روزنامہ جنگ، شعبۂ میگزین ، اخبار منزل، آئی آئی چندریگر روڈ ، کراچی۔

ای میل: [email protected]

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں