آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ 18؍ صفر المظفّر 1441ھ 18؍ اکتوبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
کیا قومی اسمبلی کی دو اور صوبائی اسمبلیوں کی سات نشستوں کے لئے ہوئے حالیہ ضمنی انتخابات نے کچھ عرصے بعد ہونے والے عام انتخابات کے لئے کسی رجحان کا تعین کیا ہے؟ کیا ان انتخابی نتائج سے زیادہ احتیاط کے ساتھ کوئی نتیجہ اخذ کرنا چاہئے، کیوں کہ پورے ملک میں سیاسی تحرکات باہم بہت مختلف ہیں؟ کیا ضمنی انتخابات کے کچھ پہلو آنے والے انتخابات کے لئے کوئی اشارہ ہیں؟ سندھ میں صوبائی اسمبلی کی ایک نشست کے سوا دیگر8نشستوں کے لئے انتخابات وسطی پنجاب میں ہوئے جو پاکستان مسلم لیگ ن کی طاقت کا مرکز باور کیا جاتا ہے۔ یہ نو نشستیں دہری شہریت کے معاملے پر خالی ہوئی تھیں اور ان اراکین کو سپریم کورٹ کے احکام پر استعفیٰ دینا پڑا تھا جن پر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے عملدرآمد کرایا تھا۔ ضمنی انتخابات میں پی ایم ایل این نے8میں سے7نشستوں پر فتح یاب ہو کر اپنی برتری کو قائم رکھا اور وہ تمام نشستیں دوبارہ حاصل کر لیں جن پر اس نے2008ء کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی۔ مسلم لیگ ن نے گجرات(NA-107) اور ساہیوال(NA-162)میں قومی اسمبلی کی دو اور صوبائی اسمبلی کی5نشستیں بالترتیب جہلم، ساہیوال، گوجرانوالہ اور سیالکوٹ(PP-122&129) میں جیتیں۔ مسلم لیگ ق نارووال میں محض ایک صوبائی نشست حاصل کر پائی۔ پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب میں ایک بھی نشست حاصل

کرنے میں ناکام رہی اور صرف نوشہرو فیروز میں اپنی ایک نشست بر قرار رکھ سکی۔ عمران خان کی تحریک انصاف…جس نے انتخابات میں حصہ نہیں لیا تھا…کے حمایت یافتہ ایک امیدوار نے ساہیوال میں متاثر کن کارکردگی دکھائی۔ وہ پی ایم ایل این کے فاتح امیدوار کے مقابلے میں نزدیکی شرح کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا مگر اس نے کم و بیش اتنے ہی ووٹ حاصل کئے جو اس نے2008ء کے انتخابات میں آزاد امیدوار کی حیثیت سے جیتے تھے۔ صرف ساہیوال کی نشست دوسری جماعت کے پاس گئی اور وہ بھی اس وجہ سے کہ فاتح امیدوار چوہدری زاہد اقبال نے ووٹنگ سے قبل پی پی پی کو چھوڑ کر پی ایم ایل این میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔ مجموعی طور پر یہ نتائج غیر حیران کن ہو سکتے ہیں کیوں کہ پاکستان میں ضمنی انتخابات عام طور پر حامل اقتدار جماعت کے حق میں جاتے ہیں مگر عام انتخابات سے اتنے قریب ہونے کی وجہ سے ان نتائج سے پی ایم ایل این کو ایک نوعیت کی نفسیاتی برتری حاصل ہوئی ہے جس نے ضمنی انتخابات میں معمولی نہیں بلکہ فیصلہ کن غلبہ حاصل کیا۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی انتخاب کنندگان کی نئی تصدیق شدہ فہرست کی بنیاد پر ہونے والے رائے دہی کے اس عمل سے پی ایم ایل این کو مزید اہمیت ملی۔ انتخابی نتائج کا گہری نظروں سے جائزہ لینے پر سامنے آنے والی متعدد چیزیں اہم ترین اور فیصلہ کن سیاسی رجحانات کا نشان ہو سکتی ہیں۔ اول اہم بات پی ایم ایل این کی فتح کا مارجن یا شرح ہے۔ ضمنی انتخابات میں رائے دہندگان عام طور پر عام انتخابات کے مقابلے میں کم شریک ہوتے ہیں اور ٹرن آؤٹ اکثر کم ہوتا ہے۔ گزشتہ ہفتے ہوئے انتخابات میں پی ایم ایل این کے امید واروں نے ان اکثر نشستوں پر اپنی پوزیشن میں نمایاں طور پر اضافہ کیا جنہیں انہوں نے دو بارہ جیتا۔ جہلم میں پی ایم ایل این کے ایک امیدوار نے73ہزار سے زائد ووٹ حاصل کئے جو2008ء کے انتخابات میں حاصل ہوئے ووٹوں سے دگنے ہیں۔ پی ایم ایل این نے گجرانوالہ میں2008ء کے انتخابات میں حاصل کردہ 24,632کی نسبت36,537،سیالکوٹ کی پی پی122میں36,798کی نسبت 52,195اور ساہیوال میں15,172کی نسبت دگنے سے کہیں زائد 42,294ووٹ حاصل کئے۔ پی ایم ایل این کے ووٹوں کی تعداد میں نمایاں اضافے کے متعدد معنی ہو سکتے ہیں۔ اول پارٹی نے اپنی بنیاد کو توانائی فراہم کرنے کا انتظام کرنے کے علاوہ عام انتخابات سے قبل ہی اپنے حامیوں کو ’انتخابی موڈ‘ میں لاکھڑا کیا ہے۔ اس سے پارٹی کو عام انتخابات سے پہلے ایک تحرک حاصل ہوا ہے جس نے اسے اپنے حریفوں کے مقابلے میں ایک نوعیت کی برتری سے بہرہ ور ہونے کے قابل بنا دیا ہے۔
دوم پی ایم ایل این کے بڑے ووٹنگ مارجن کا سبب ق لیگ ہو سکتی ہے۔ سوم باوجود یہ کہ پی ایم ایل این پنجاب میں حکمراں جماعت ہے ضمنی انتخابات کے دوران سیاسی حریفوں کے خلاف جذبات کا مشاہدہ نہیں کیا گیا۔ اس سے ضمنی انتخابات کے ایک دیگر فیصلہ کن پہلو پر توجہ مرتکز ہوتی ہے۔ پی پی پی اور پی ایم ایل کیو کا اتحاد جس کا بہت شہرہ تھا پی ایم ایل این سے ایک بھی سیٹ چھیننے، کانٹنے کا مقابلے کرنے یا اپنے مشترکہ یا انفرادی ووٹوں کی تعداد بڑھانے میں ناکام ہو گیا اور ان کے مشترکہ امیدوار کو گجرات میں بری طرح شکست ہوئی۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ الیکٹورل ارینج مینٹ ان دونوں جماعتوں کو فائدہ نہیں بلکہ نقصان پہنچا رہی ہے اور حتیٰ کہ پی ایم ایل این کے مفاد میں کارگر ہے۔ ق لیگ اور پی پی پی کے رائے دہندگان سے کہا جا رہا ہے کہ وہ دونوں جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ان امیدواروں کو ووٹ دیں جنہیں وہ ایک طویل عرصے سے سیاسی دشمن باور کرتے آئے ہیں اور ضمنی انتخابات کے نتائج اس بات کا ثبوت ہیں کہ رائے دہندگان ایسا کرنے میں کتنی ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد نے مستقبل میں ق لیگ کی پوزیشن کو سنوارنے کے بجائے اس کا ووٹ بنک مزید کم کر دیا ہے۔ قومی اسمبلی کی نشست کے لئے گجرات میں ہوئے مقابلے میں جو ق لیگ کے رہنماؤں کا مضبوط گڑھ تصور کیا جاتا ہے اس کے امیدوار نے پی پی پی کی ظاہر حمایت کے باوجود سابقہ انتخابات کی نسبت تقریباً20ہزار ووٹ گنوا دیئے اور اپنے حریف کے مقابلے میں محض مٹی کا پتلا ثابت ہوا۔ یہ خراب کارکردگی رواں سال کی ابتدا میں انٹرنیشنل ری پبلکن انسٹیٹیوٹ کی طرف سے کئے گئے ایک سروے کے نتائج سے ہم آہنگ ہے۔ ان نتائج کے مطابق ق لیگ کو ملکی سطح پر سب سے کم مقبولیت حاصل ہے اور اسے اس کی موقع پرست پالیسیوں کی بنا پر ملک کے بڑے حصے میں مسترد کر دیا گیا ہے تاہم اس کے باوجود یہ جماعت نارووال میں اپنی نشست برقرار رکھنے میں کامیاب رہی مگر اس کے سوا ہر جگہ اس کے ووٹوں کی تعداد میں کمی ہوئی اور پارٹی اراکین جماعت کے پی پی پی کے ساتھ اتحاد کے بارے میں کھلے عام سوالات اٹھا رہے ہیں۔ پی پی پی کے رہنماؤں اور اراکین کا بھی یہی رویہ ہے۔ گجرات میں پارٹی اراکین نے اعلیٰ قیادت سے آئندہ عام انتخابات میں ق لیگ کے ساتھ اتحاد کے بارے میں دوبارہ سوچنے کا مطالبہ کیا۔ پارٹی کے مقامی حامیوں نے پی پی پی اور ق لیگ کے رہنماؤں کی جانب سے انتخابی دھاندلی کے الزامات کو بھی مسترد کر دیا اور زور دیا کہ وہ بہانے ڈھونڈنے کے بجائے اپنی ناکامی کے اسباب کا تجزیہ کریں۔ ضمنی انتخابات کا تیسرا پہلو یہ ہے کہ پی پی پی کے ووٹوں میں کمی آئی ہے۔ اس کا سب سے ڈرامائی ثبوت سیالکوٹ کے ضمنی انتخابات میں سامنے آیا جہاں اس کے صوبائی سیکریٹری اطلاعات راجا عامر مقابلے کے لئے کھڑے ہوئے تھے، وہ صرف5ہزار ووٹ حاصل کر پائے جو2008ء میں حاصل کردہ تقریباً11ہزار ووٹوں کی نسبت نصف سے بھی کم ہیں۔ اسی طرح گجرانوالہ میں اس کے امیداوار نے2008ء میں حاصل کردہ 23,892 ووٹوں کی نسبت16,492ووٹ حاصل کئے۔ حکمراں اتحاد اس کا سبب ضمنی انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کی عدم شرکت کو قرار دیتے ہوئے دلیل دے سکتا ہے کہ عام انتخابات میں صورتحال مختلف ہو گی جب پی ایم ایل این کے ووٹوں پر پی ٹی آئی کی انتخابات میں شرکت سے اثر پڑے گا اور جس کا فائدہ پی پی پی کو جائے گا تاہم یہ نظریہ ابھی ثابت شدہ نہیں۔ ضمنی انتخابات میں چیچہ وطنی، ساہیوال کا حلقہ انتخاب وہ واحد جگہ تھی جہاں پی ٹی آئی کا حمایت یافتہ امیدوار مقابلے کے لئے کھڑا ہوا تھا مگر وہاں ووٹوں کی تقسیم کے کوئی شواہد سامنے نہیں آئے۔ پی ایم ایل این اور پی ٹی آئی دونوں جماعتوں کے امیدواروں نے قابل ذکر ووٹ حاصل کئے تاہم پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار نے رائے دہندگان کو اپنی جانب متوجہ کیا جس کا سبب اس کی مقامی مضبوط حیثیت تھی اور شاید اس نے سوئنگ ووٹ کا فائدہ بھی اٹھایا۔ اگر پی پی پی پنجاب میں اپنے چانس کو سہارا دینے کے لئے ق لیگ کے ساتھ اتحاد اور پی ایم ایل این اور پی ٹی آئی کے مابین ووٹوں کی تقسیم پر انحصار کر رہی ہے تو ضمنی انتخابات کے نتائج اس حکمت عملی کو موثر ثابت نہیں کرتے بلکہ اس کے بارے میں شکوک و شبہات کو جنم دیتے ہیں۔ بظاہر پی پی پی اپنی ایک اور انتخابی حکمت عملی کے تحت عالمی ڈونرز کے تعاون سے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے دیگر پروگراموں پر کثیر فنڈ خرچ کر رہی ہے اور اس کا ماننا ہے کہ اس طرح اسے کثیر تعداد میں ووٹ حاصل ہوں گے مگر ضمنی انتخابات کے نتائج اس خیال کو خام ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں۔ سب سے بڑھ کر بجلی کی قلت، قیمتوں میں اضافے اور پی پی پی کے طرز حکومت کے خراب ریکارڈ کے باعث جنم لینے والے دیگر معاشی مسائل کی وجہ سے رائے دہندگان کا غصہ اس حکمت عملی کا اثر امکانی طور پر زائل کر دے گا۔ اس کے علاوہ رائے عامہ کے سروے اور تاریخی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس بار عام انتخابات میں گزشتہ انتخابات کے برعکس بہت بڑی تعداد میں سوئنگ ووٹ اپنا کردار ادا کریں گے۔ آئی آر آئی پول میں غیر وابستہ رائے دہندگان کی ایک بڑی تعداد کا انکشاف ہوا ہے اور کم از کم18فی صد رائے دہندگان اپنا ذہن نہیں بنا سکے ہیں۔ اس کا مطلب ہے رجسٹرڈ ووٹرز کی ایک بڑی تعداد کسی بھی پارٹی کے حق میں جا سکتی ہے۔ اس طرح آئندہ انتخابات کے بارے میں کوئی بھی پیشگوئی کرنا فی الوقت ممکن نہیں۔ انتخابی مہم کے تحرکات بھی یقینی طور پر رائے دہندگان کے انتخاب پر اثر انداز ہوتے ہوئے سیاسی جماعتوں کے مستقبل کا تعین کریں گے۔ انتخابات کا وقت پی پی پی کے انتخابی چانس پر اثر ڈالتے ہوئے پارٹی کے لئے سیاسی رسک بن سکتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ پی پی پی مارچ2013ء کے وسط میں پارلیمان کی ’مکمل‘ مدت پوری ہونے کے بعد انتخابات کے انعقاد کا ارادہ رکھتی ہے چنانچہ انتخابات مئی کے مہینے میں ہو سکتے ہیں مگر یہ وہ وقت ہے جب لوڈشیڈنگ اپنے عروج پر ہوتی ہے اور دیہی رائے دہندگان ملک کے بعض حصوں میں فصل کی کٹائی میں منہمک ہو سکتے ہیں۔ اس لئے انتخابات کا یہ وقت دیہی علاقوں پر بنیاد کرنے والی پی پی پی کے لئے نیک شگون ثابت نہیں ہو گا۔ اگرچہ چار دسمبر کے ضمنی انتخابات کے نتائج عام انتخابات کے نتائج کے بارے میں کوئی حتمی پیشگوئی نہیں کرتے مگر اس کے باوجود حکمراں جماعت کے لئے انتباہ کے اشارے ضرور دیتے ہیں۔ 2008ء میں پی پی پی کی کمزور اکثریت کے تناظر میں یہ پنجاب میں ایک درجن سے بھی کم نشستیں حاصل کر پائے گی اور پارٹی تبدیل کرنے کی وجہ سے دیگر حصوں میں چند مزید نشستیں اس کے حصے میں آئیں گی جس سے ملک میں طاقت کا توازن فیصلہ کن طور پر تبدیل ہو جائے گا۔