آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل11؍رجب المرجب 1440ھ 19؍مارچ 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر تاریخ کی بلند ترین سطح144روپے پر پہنچنے کے بعد کم ہونا شروع ہوگیا۔

ٹریڈنگ کے دوران ڈالر کی قیمت میں 8 روپے اضافہ ہوا جس کے بعد انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر144روپے کی سطح پر پہنچا تاہم کچھ دیر اس میں کمی واقع ہوئی اور 138 روپے 50 پیسے کی سطح پر آگیا جو اب بھی بلند ترین سطح ہے۔

گزشتہ روز ڈالر کی قیمت 134 روپے تھی،اوپن مارکیٹ میں ایک ڈالر 141 روپے 50 پیسے کا ہے ۔اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت6 روپے10 پیسے کا اضافہ ہوا ۔

ڈالر مہنگا ہونے سے قرضوں کا بوجھ 430 ارب روپے بڑھ جائےگا ۔

پی ٹی آئی حکومت آنے کے بعد سے اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں 14 روپے 50 پیسے کا اضافہ ہوا ہے جبکہ انٹر بینک میں ڈالر کی قدر میں 19 روپے 50 پیسے کا اضافہ ہوا ہے ۔

نئی حکومت کے برسرار اقتدار آنے کے بعد قرضوں کا بوجھ 1377 ارب روپے بڑھا ہے ۔

معاشی تجزیہ کار محمد سہیل کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے ڈالر اور روپے کی قدر میں توازن لانے پر زور دیا تھا اور بظاہر لگ رہا ہے کہ حکومت کی جانب سے ڈالر میں اضافے کو مینج کیا جارہا ہے اور ہم آئی ایم ایف پروگرام کی طرف جارہے ہیں۔

سینیٹر نعمان وزیر خٹک کا کہنا ہے کہ ڈالر ایک سو پینتالیس روپے پر پہنچ کر ٹھیک ہوجائے گا ۔ ایک ٹی وی شو میں بات کرتے ہوئے نعمان خٹک نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ مہنگائی ضرور آئی ہے، لیکن ڈالر ایک سو پینتالیس پر پہنچے گا تب ہی ٹھیک ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ اسحاق ڈار نے ڈالر کو سو روپے پر غیر ضروری طور پر ہولڈ کیا ہوا تھا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں