آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر9؍ربیع الثانی 1440ھ 17؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تحریر:نعیم عباسی نقشبندی…لندن
قیامِ پاکستان کو سات دہائیاں ہو چکیں اور چونکہ اللہ رب کعبہ نے اس دھرتی ماں کو دوسرے انعامات کیساتھ ساتھ ’’ایٹمی طاقت“ ’’دُنیا کی بہترین فوج “اور مضبوط ترین ’’انٹیلی جنس ایجنسیز‘‘ جیسی بے شمار نعمتوں سے نوازا ہوا ہے پاکستان سات دہائیوں سے اندرونی و بیرونی خطرات سے دوچار ہونے کے باوجود قائم و دائم اور شاد و آباد ہے اور یہی بات اغیار کی نیندیں اڑانے کے ساتھ ساتھ ان کے نظام انہظام پر بھی بُرے اثرات مرتب کر رہی ہے۔ جس کا وہ گاہے بگاہے اظہار کرتے رہتے ہیں۔ جب اغیار اور ملک دشمن عناصر کو.1971,1965،کارگل اور دہشت گردی (آپریشن ضرب عضب،راہ نجاتاور ردالفساد) کی جنگ میں منہ کی کھانا پڑی تو پھر وہ ففتھ جنریشن وار اور” اینٹی پاکستان” مختلف پراجیکٹس لاںچ کرنے کے ساتھ ساتھ ’’پاک چین اکنامک کوریڈور‘‘ سی پیک اور ڈیمز کے قیام میں رکاوٹیں پیدا کرنے پر مامور ہو گئے یہ وہی اندرونی اور بیرونی طاقتیں ہیں جو پاکستان کے اندر قیام امن ،سیاسی ،سماجی و معاشی استحکام، عوام کی فلاح و بہبود اور خوشحالی سے خائف ہیں۔ ’’مملکت خُداداد‘‘ کو نئے ڈیمز کی اشد ضرورت کے پیش نظر دیامیر بھاشا ڈیم کا قیام ناگزیر ہو چکا اور چیف جسٹس نے اپنی تخلیقی کاوشوں سے چند ماہ پہلے اس پروجیکٹ کا باقاعدہ

آغاز کر کے “فنڈریزنگ” اکاؤنٹ کھول کر دنیا بھر میں بسنے والے پاکستانیوں سے بڑھ چڑھ کر اپنا اپنا حصہ ڈالنے کی اپیل کی۔ تارکین وطن اس نوبل کاز کیلئے بڑھ چڑھ کر عطیات دے رہے ہیں بالخصوص برطانیہ میں بسنے والے اوورسیز پاکستانیوں نے ’’دھرتی ماں سے محبت و عقیدت “ کا والہانہ اظہار کرتے ہوئے چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار کا ساؤتھ مڈلینڈ اور نارتھ زون آف انگلینڈ کے تمام بڑے شہروں لندن،برمنگھم اور مانچسٹر میں نہ صرف والہانہ استقبال کیا بلکہ برطانیہ بھر سے تقریباً ایک ارب روپے کے لگ بھگ ڈیم فنڈ میں عطیات بھی جمع کروائے اورمستقبل کیلئے بڑی رقمیں پلیج بھی کیں۔ جناب چیف جسٹس نے چونکہ پچھلے ڈیڑھ سال سے ملکی اداروں کومستحکم ومنظم کرنے اور مثبت تبدیلیاں لانے کیلئے “ازخود نوٹسز “ کیساتھ ساتھ کرپش کے خلاف جو راست اقدام کا سلسلہ شروع کیا تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی اور اس دوران جناب چیف جسٹس کے کامیاب دورہ برطانیہ اور تارکین وطن سے ملنے والی پُرخلوص محبت اور عقیدت و احترام۔ اغیار اور حاسدین کو ایک آنکھ نہ بھایا اور بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر سوچی سمجھی سازش کے تحت ’’فنڈ ریزنگ ایونٹس‘‘ میں شر پسندی اور بدنظمی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ چیف جسٹس کے ہمراہ اس نوبل کاز میں میاں ظفر اقبال کلانوری ایڈووکیٹ اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر سید کلیم احمد خورشید بھی متحرک و نمایاں نظر آئے۔ راقم کو متعدد بار جناب چیف جسٹس اور میاں ظفر اقبال کے کامیاب اور تاریخی دورہ برطانیہ کے دوران ملاقات اوران کے خیالات سننے کا موقع ملا۔جناب چیف جسٹس اور میاں ظفر کلانوری نے ڈیم فنڈ ریزنگ کے مختلف ایوینٹس میں “دھرتی ماں کے حوالے سے اپنی تقاریر میں حب الوطنی سے لبریز مگر ٹھوس الفاظ میں ملک دشمن اندرونی و بیرونی عناصر اور ان کے پیروکاروں کو سخت پیغام دیا۔ ظفر کلانوری نے تقاریر میں کہا کہ ’’خالق کائنات وجہِ تخلیق کائنات‘‘بانی پاکستان اور دھرتی ماں کے خلاف کوئی ہرزہ سرائی نہ ہی برداشت کی جا سکتی ہے اور نہ ہی بحث ،نتیجتاً انہیں اہلیہ کے ہمراہ جوکہ لاہور چیمبر آف کامرس کی کار پوریٹ ممبر ہیں،ایک ایونٹ میں تضحیک آمیز رویے اور دھکے دے کر بدسلوکی کا مظاہرہ کیا گیا۔اس تمام واقعہ کے ویڈیو کلپس بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے جس پر محب وطن اوورسیز کمیونٹی میں بے حد بے چینی پائی جاتی ہے۔میاں ظفر اقبال وہ ماہر قانون ہیں جو ڈیڑھ سو سالہ تاریخ میں لاہور ہائیکورٹ بار کےسب سے کم سن صدر منتخب ہوئے۔ انہوں نے برطانیہ سے الیکٹرونکس میں انجینئرنگ کی ڈگری بھی حاصل کر رکھی ہے مزید یہ کہ میاں ظفر اقبال کلانوری ایڈوکیٹ کے والد میاں اقبال حسین ایڈووکیٹ اور دادا میاں ضیاالدین ایڈووکیٹتین نسلوں سے قانون کے شعبہ میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔اس واقعہ کے ذمہ داران کو میاں ظفر کلانوری سے اخلاقی طور پر سر عام معافی مانگنی چاہئے بصورت دیگر وہ پاکستان اور برطانیہ میں قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ یاد دہانی کیلئے عرض کرتا چلوں کہ برطانیہ میں گزشتہ چھ دہائیوں سے چوتھی نسل پروان چڑھ رہی ہے۔ پہلی دو نسلوں نے لیبر کلاس میں سخت محنت و مشقت کی جب کہ تیسری چوتھی اس کا ثمر کھانے کیساتھ ساتھ تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو کر برطانیہ بھر میں سول سوسائٹی، سیاسی،سماجی ،کاروباری،صحافتی اور مذہبی حلقوں میں ایک منفرد مقام رکھتی ہے جس کی واضح چند مثالیں پاکستان نژاد برٹش ورلڈ چیمپئن باکسر عامر خان ،برطانوی وزیر داخلہ ساجد جاوید، میئر آف لندن صادق خان سمیت 12 برٹش ممبر آف پارلیمنٹ،ممبرز ہاؤس آف لارڈز، درجنوں ٹاؤن میئرز اورتقریباّ 400کے لگ بھگ کونسلز موجود ہیں اور برطانیہ کے تقریباً 15لاکھ اوورسیز پاکستانیوں نے یہ جاننے کے باوجود کہ پچھلی چھ دہائیوں پر محیط حکومتوں نے تارکین وطن سے “سوتیلی ماں” کا سُلوک کیا اور ان کے مسائل کو سنجیدگی سے حل کرنے اور آسانیاں پیدا کرنے کی بجائے مشکلات میں اضافہ کیا گیا مگر پھر بھی اگر پاکستان میں کبھی بھی زلزلہ ،،سیلاب یا ناگہانی آفات یا دھرتی ماں میں بسنے والوں پر آزمائش کی گھڑی آئی تو اوورسیز پاکستانیز نے اپنے ،جان ، مال ، وقت حتی کہ دھرتی ماں کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کرنے کے عہد کی تجدید کرتے ہوئے بڑھ چڑھ کر اپنا حصہ ڈالااب سمندر پار پاکستانی چاہتے ہیں کہ وزیر اعظم تارکین وطن کیلئے آسانیاں پیدا کرنے کیلئے نئی قانون سازی کریں تاکہ اوورسیز کمیونٹی اور نئی نسل کا اداروں پر اعتماد بحال ہو پاکستان سے آنے والے ’’ارباب اختیار ‘‘ کیلئے عموماً لندن ہائی کمیشن سیکورٹی کے انتظامات کرتا ہے اور ہونا بھی ایسے ہی چاہئے چونکہ ادارے سے بہتر سیکورٹی معاملات کوئی نہیں جانتا ہائی کمیشن لندن حسب معمول پاکستان سے آئے ہوئے ہائی پروفائل’’ ارباب اختیار‘‘ کے اعزاز میں ہمیشہ کمیونٹی لیڈرشپ کو مدعو کر کے ملاقات اور استقبالیہ کا اہتمام کرتا ہے اور چونکہ فنڈ ریزنگ ایونٹس میں کمیونٹی کو شامل ہونے کیلئے ٹکٹ خریدنا پڑا اس لئے کمیونٹی کی بڑی تعداد جو چیف جسٹس سے ملاقات کر کے اپنا حصہ ڈالنا چاہتی تھی، قاصر رہیحالانکہ استقبالیہ کے انعقاد سے فنڈ ریزنگ میں مزید مدد ملتی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں