آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر9؍ربیع الثانی 1440ھ 17؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
کراچی (ٹی وی رپورٹ) زیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور نعیم الحق نے کہا کہ عظم سواتی کی سینیٹرشپ کے حوالے سے فیصلہ سپریم کورٹ کرے گی، اس معاملہ پر سپریم کورٹ کا جو بھی فیصلہ ہوگا قبول کریں گے اعظم سواتی کے بیان کاعلم نہیں ہے، اعظم سواتی نے وزیراعظم کو اپنا استعفیٰ پیش کیا جو وزیراعظم نے فوراً قبول کرلیا، اعظم سواتی پندرہ بیس دن پہلے اپنا استعفیٰ لے کر میرے پاس آئے تھے، ان کا خیال تھا کہ جب تک ان کیخلاف معاملہ ختم نہ ہوجائے وہ مستعفی ہوجائیں، میں نے انہیں کہا مزید چند دن دیکھ لیں دیکھتے ہیں حالات کس طرف جاتے ہیں، اس وقت صورتحال اتنی سنگین نہیں تھی کہ وہ استعفیٰ دیتے، جیو کے پروگرام ”آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ“ میں میزبان نے تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ سول ملٹری تعلقات جیسے آج ہیں شاید ماضی میں کبھی نہیں رہے ، سینئر صحافی و تجزیہ کار حامد میر نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کا وہ بیان جس پر اپوزیشن نے تنقید کی، جس کی صفائیاں تحریک انصاف کے رہنماؤں کو دینی پڑی اس کی وضاحت میجر جنرل آصف غفور نے دیدی عمران خان خوش قسمت ہیں کہ ان کی حکومت کو اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کی طرف سے اس مزاحمت کا سامنا نہیں ۔ میزبان شاہزیب خانزادہ نے اپنے تجزیہ میں کہا کہ داخلی پالیسی پر سول ملٹری سوچ میں کوئی فرق نہیں ہے سول

ملٹری تعلقات جیسے آج ہیں شاید ماضی میں کبھی نہیں رہے بلکہ یقینی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ ایسے تعلقات کبھی نہیں رہے، ستر سال کی تاریخ میں کبھی ایسے مثالی تعلقات نہیں رہے، ماضی میں تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے کئی منتخب حکومتوں کو گھر جانا پڑا، حکومت نہیں تو وزرائے اعظم کو گھر جانا پڑا، دھرنے ہوئے، تقاریر ہوئیں، سازشیں ہوئیں بعد میں اندر کے معاملات کھل کر باہر آتے رہے، تعلقات میں کشیدگی واضح محسوس ہوتی رہی مگر تحریک انصاف کی حکومت وہ خوش قسمت حکومت ہے جس کے ساتھ ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے،ملکی و غیرملکی معاملات میں سول ملٹری قیادت کا موقف ایک ہے، ملک کی خارجہ پالیسی پر سول ملٹری سوچ ایک دکھائی دے رہی ہے، داخلی پالیسی پر سول ملٹری سوچ میں کوئی فرق نہیں ہے، میڈیا کے کردار پر بھی سول ملٹری رائے ایک جیسی ہے، ، وزیراطلاعات ہوں یا وزیراعظم وہ اس بات کا دعویٰ کرتے ہیں، سول ملٹری قیادت نہ صرف ایک پیج پر ہے بلکہ کتاب بھی ایک ہی ہے فواد چوہدری یہ بھی کہہ چکے ہیں، جمعرات کو ڈی جی آئی ایس پی آر کی میڈیا بریفنگ سول ملٹری مثالی تعلقات کی ایک بار پھر تصدیق ہوئی، وزیراعظم عمران خان کا وہ بیان جس پر اپوزیشن نے تنقید کی، جس کی صفائیاں تحریک انصاف کے رہنماؤں کو دینی پڑی اس کی وضاحت میجر جنرل آصف غفور نے دیدی۔ شاہزیب خانزادہ کا کہنا تھا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس اس حوالے سے بھی اہم ہے کہ انہوں نے ملک کے موجودہ سیاسی حالات پر بھی تبصرہ کیا۔سینئر صحافی و تجزیہ کار حامد میر نے کہا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے آرمی چیف بننے کے بعد سے فوج اور سویلین حکومت میں تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کی ہے، آرمی چیف کی کوشش ہے کہ نہ صرف حکمراں جماعت سے فوج کے تعلقات ٹھیک ہوں بلکہ پارلیمنٹ میں موجود تمام جماعتوں کے ساتھ تعلقا ت بہتر بنائے جائیں، اس کی ایک مثال چھ ستمبر کو یوم دفاع کی تقریب ہے جس میں شہباز شریف، بلاول بھٹو زرداری اور عمران خان تینوں موجود تھے۔حامد میر کا کہنا تھا کہ عمران خان خوش قسمت ہیں کہ ان کی حکومت کو اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کی طرف سے اس مزاحمت کا سامنا نہیں جیسا پہلی حکو متو ں کو ہوتا تھا، عمران خان نے کہہ دیا کہ فوج پی ٹی آئی کے منشور کے ساتھ کھڑی ہے، اگر کسی دوسر ے لیڈر نے ماضی میں ایسی بات کہی ہوتی تو بڑا مسئلہ ہوجاتا ،لیکن اس پر برداشت کا مظاہرہ کیا گیا اور ڈی جی آئی ایس پی آر نے ڈپلومیٹک انداز میں اس کی وضاحت بھی کی اور اپنی تردید بھی کردی، فوج کی کوشش ہے موجودہ حکومت اور پارلیمانی نظام کامیابی سے آگے بڑھے، عمران خان کو ابھی تک فوج کی طرف سے مکمل تعاون مل رہا ہے، خارجہ پالیسی کے معا ملا ت پر بھی انہیں سہولت دی جارہی ہے، سعودی عرب ، چین اور متحدہ عرب امارات سے ملنے والی امداد میں فوجی قیادت کا بہت اہم کردار ہے، فوج اس کا کریڈٹ خود نہیں لے رہی بلکہ سویلین حکومت کو دے رہی ہے جوا چھی بات ہے، انڈ ین صحافی نے بھی لکھا ہے کہ عمران خان کے ساتھ فوج ہے اور اب پاکستان اور انڈیا کے بہت سے معاملات بھی ٹھیک ہوسکتے ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں