آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات5؍ ربیع الثانی 1440ھ 13؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
اسلام آباد (نمائندہ جنگ) دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل نے کہا ہے کہ کرتارپور راہداری کھولنے سے مسئلہ کشمیر نظر انداز نہیں ہوگا۔پاکستان اور امریکہ کے درمیان بات چیت کا آغاز اچھی شروعات ہیں ،کشمیر پاکستان کا سرفہرست ایجنڈا رہے گا،زلمے خلیل زاد کے دورے میں کوئی شرط نہیں رکھی گئی،سپورٹ فنڈ پر امریکہ سے بات چیت جاری ہے ، افغانستان میں مفاہمتی عمل بڑھانے پر یقین رکھتے ہیں،کرتارپور راہداری کو بابا گرونانک کے آئندہ جنم دن کے موقع پر کھولنا چاہتے ہیں، مقبوضہ کمشیر کو بھارت کا حصہ بنانے کی خبریں غلط ہیں ، بھارت دنیا کو گمراہ کر نا چھوڑ کرزمینی حقائق تسلیم کرے۔ جمعرات کو دفتر خارجہ میں اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں میڈیا کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے ترجمان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کا وزیراعظم عمران خان کو خط، جس میں انہوں نے افغان مسئلے کے بارے میں تعاون طلب کیا ہے ، پاکستان کے اس موقف کی توثیق ہے کہ افغانستان کا مسئلہ صرف مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیا جاسکتا ہے، ترجمان نے طالبان وفد کی پاکستان آمد سے متعلق لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان افغانستان میں مفاہمتی عمل بڑھانے پر یقین رکھتا ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان اہم مسئلہ ہے اور کرتارپور راہداری

کھولنے سے مسئلہ کشمیر نظر انداز نہیں ہوگا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں