آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ14؍رجب المرجب 1440 ھ22؍ مارچ 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’امریکہ سے ایسے تعلقات کے لیے ہرگز تیار نہیں جس میں پاکستان کی حیثیت کرائے کے سپاہی یا بندوق کی ہو‘ اب وہی کریں گے جو ہمارے قومی مفادمیں ہو گا‘‘ وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ روز ممتاز امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کو دیئے گئے انٹرویو میں اپنے اس دوٹوک اعلان سے فی الحقیقت پوری پاکستانی قوم کے دلی جذبات کی بالکل درست ترجمانی کی ہے۔ اپنے ما فی الضمیر کو انہوں نے ان الفاظ سے مزید واضح کیا کہ ’’سپر پاور سے تعلقات کون نہیں چاہے گا لیکن ہم واشنگٹن سے چین جیسے تعلقات چاہتے ہیں‘‘۔ یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ امریکہ حاکمانہ رویہ اختیار کرکے پاکستان کو اپنے مفادات کیلئے استعمال کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے جبکہ پاک چین تعلقات دوستی، باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر ہیں اور ایک خوددار قوم دوسری اقوام سے انہی بنیادوں پر تعلقات قائم کرتی ہے لیکن عاقبت نا اندیشانہ فیصلوں کے سبب قیام پاکستان کے بعد ابتدائی برسوں ہی میں ہماری خارجہ پالیسی غیر جانبداری کے اصول پر استوار ہونے کے بجائے مکمل طور پر امریکہ کے زیر اثر آ گئی، نتیجتاً ہم سپر پاور کے مفادات کا آلہ کار بن کر رہ گئے۔ سیٹو اور سینٹو جیسے دفاعی معاہدوں میں شمولیت کی بناء پر امریکہ پاکستان کو تو اپنے مقاصد کیلئے آخری حد تک استعمال کرتا رہا لیکن ہمیں

جب بھی بھارتی جارحیت کا سامنا کرنا پڑا یہ معاہدے لکڑی کی تلوار ثابت ہوئے۔ اپنے قومی مفادات کی قیمت پر امریکہ کے ہاتھوں استعمال ہونے کا یہ سلسلہ نائن الیون واقعات کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر افغانستان پر امریکی فوج کشی میں ہماری جانب سے مکمل تعاون کے فیصلے سے اپنی انتہا کو پہنچ گیا۔ اس فیصلے کا نتیجہ یہ نکلا کہ جس پرائی جنگ میں ہم شریک ہوئے تھے وہ ہماری اپنی سرزمین پر شروع ہو گئی اور ہمیں سمجھایا جانے لگا کہ یہ ہماری اپنی جنگ ہے۔ دہشت گردی سے نجات پانے کیلئے مسلح تنظیموں سے بات چیت کی کوششوں میں ناکامی کے بعد فوجی آپریشن ناگزیر ہو گیا اور اللہ کا شکر ہے کہ اس کے نتیجے میں اب پورے ملک میں امن و امان بحال ہو چکا ہے لیکن موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ڈرا دھمکا کر پاکستان کو ان مزاحمت کار قوتوں سے متصادم کر دینے کیلئے کوشاں رہے ہیں جنہیں امریکہ اور اس کے اتحادی 17سال کی جنگ میں ہتھیار ڈالنے پر مجبور نہیں کر سکے۔ لیکن خدا کے فضل سے پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت دونوں پُرعزم ہیں کہ پرائی جنگ لڑنے کی غلطی اب دہرائی نہیں جائے گی۔ ایک دن پہلے پاک فوج کے ترجمان کہہ چکے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر کی گئی کارروائی میں شریک ہوکر ہم نے سخت نقصان اٹھایا اور اب پاک فوج ایک ایک اینٹ چن کر پاکستان دوبارہ بنا رہی ہے لہٰذا ہم اب کسی اور کی جنگ نہیں لڑیں گے جبکہ وزیراعظم نے صدر ٹرمپ کے ٹویٹر پیغام کا بے لاگ جواب دے کر جس جرأت مندانہ طرزِ عمل کا آغاز کیا تھا، اس انٹرویو میں اسی روش کو قائم رکھتے ہوئے انہوں نے امریکہ پر واضح کر دیا کہ ’’ہم اب کبھی اس طرح کے تعلقات نہیں چاہیں گے کہ جس میں پاکستان کی حیثیت کرائے کے سپاہی کی ہو کیونکہ اس سے نہ صرف ہمارا ملک تباہی کا شکار ہوا بلکہ ہماری عزتِ نفس کو بھی نقصان پہنچا‘‘۔ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کی امریکی خواہش کی تکمیل کیلئے تعاون کی یقین دہانی کے ساتھ ساتھ وزیراعظم نے لگی لپٹی رکھے بغیر بتا دیا کہ یہ کوئی آسان کام نہیں۔ نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر افغانستان پر فوج کشی کیلئے پوری دنیا کو ساتھ دینے کیلئے مجبور کرنے کی خاطر امریکی قیادت کے اس دھمکی آمیز اعلان کو کہ ’’آپ یا تو ہمارے ساتھ ہیں یا ہمارے دشمن کے‘‘ عمران خان نے ’’سامراجی طرزِ فکر‘‘ قرار دے کر اور اس حقیقت کی نشاندہی کرکے کہ کسی کی پالیسیوں سے عدم اتفاق کا مطلب اس کا دشمن ہونا نہیں ہوتا، امریکہ کو بتا دیا کہ آج کا پاکستان 17سال پہلے کے پاکستان سے یکسر مختلف ہے۔ فی الواقع خودداری اور خود مختاری کا یہ مظاہرہ وہ حقیقی اور مثبت تبدیلی ہے جو آج ملک میں بہت نمایاں طور پر دکھائی دے رہی ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں