آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 13؍شوال المکرم 1440ھ17؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
امریکی معیشت کی شرحِ نمو تیز،چینی معیشت مستحکم رہی ٭ڈالر کے مقابلے میں اُبھرتی معیشتوں کی کرنسیز کی قدر میں کمی آئی٭پاکستان کو آئی ایم ایف سے رجوع کا فیصلہ کڑی شرائط کے سبب مؤخر کرنا پڑا

 2018ء میں عالمی اقتصادی صورتِ حال مجموعی طور پر بہتری کی جانب گام زن رہی ۔ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ(آئی ایم ایف) کے تجزیوں کے مطابق، گزشتہ برس عالمی معیشت کی شرحِ نمو 3.7سے 3.9کے درمیان رہی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ 2016ء میں شروع ہونے والے اقتصادی بحالی کے عمل میں استحکام آیا ہے اور دُنیا اقتصادی بُحران سے نکل چُکی ہے۔ تاہم، ترقّی کی رفتار ہر مُلک میں یک ساں نہیں رہی۔ البتہ امریکی معیشت کی شرحِ نمو میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ گزشتہ برس اُس وقت ’’ٹریڈ وار‘‘ کا ذکرسُننے میں آیا کہ جب ٹرمپ انتظامیہ نے چینی درآمدات پر بھاری محصولات عاید کر دیے، جس کا جواب چین نے بھی امریکی درآمدات پر ٹیرف لگا کر دیا۔ تاہم، اس کے نتیجے میں کوئی غیرمعمولی صورتِ حال پیدا نہیں ہوئی۔ گرچہ چین کی، جو دُنیا کی دوسری بڑی اقتصادی قوّت ہے، معیشت مستحکم رہی، البتہ اس کی ترقّی کی رفتار میں متوقّع طور پر کمی واقع ہوئی اور اس کے نتیجے میں ایشیا کی اکثر معیشتوں کی ترقّی کی رفتار بھی سُست رہی۔ اسی طرح یورپ اور جنوبی امریکا کی معیشتوں کی بحالی کا عمل جاری رہا، لیکن ترقّی کی رفتار معتدل رہی اور اس کی بڑی وجہ اپریل میں اور اس کے بعد امریکا اور دیگر ممالک کا ایک دوسرے کی درآمدات پر ٹیکس لگانا تھا، جس نے غیر یقینی صورتِ حال پیدا کر دی۔ دوسری جانب سال کے آغاز میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ بھی معیشت پر اثر انداز ہوا، بالخصوص درآمدی بِل میں فوری اضافے کا کم زور معیشتوں پر منفی اثر پڑا۔ تاہم، دسمبر تک تیل کی قیمتیں دوبارہ نیچے آگئیں۔ اُبھرتی معیشتوں کی ترقّی کی رفتار میں کچھ اضافہ ہوا، لیکن وہ تیزی نہ آسکی، جو رواں صدی کے اوائل میں دیکھی گئی تھی۔

گزشتہ برس امریکی معیشت کی شرحِ نمو خاصی تیز رہی۔ گرچہ اس کا آغاز اوباما دَور ہی میں ہوگیا تھا، لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ ٹرمپ کی حکمتِ عملی نے اسے تیز تر کر دیا۔ اس تیزی کی بنیادی وجہ مالیاتی پیکیجز تھے۔ علاوہ ازیں، چینی درآمدات پر ٹیکس عاید کرنے سے صنعتی پیداوار میں اضافہ ہوا۔ تاہم، دیکھنا یہ ہو گا کہ ترقّی کی یہ رفتار دیر پا ثابت ہوتی ہےیا نہیں، کیوں کہ چین نے بھی جواب میں امریکی مصنوعات پر ٹیکسز عاید کر دیے ہیں۔ امریکا کے اقتصادی پالیسی ساز عالمی بُحران کے بعد شروع ہونے والے بحالی کے عمل میں کسی بھی قسم کی سیاسی مداخلت روکنے میں کام یاب رہے اور اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ٹرمپ کی ’’امریکا فرسٹ پالیسی‘‘ کے باوجود بھی معیشت کی بحالی کا عمل تسلسل سے جاری ہے۔ دوسری جانب چین10برس کی انتہائی تیز رفتار ترقّی کے بعد اپنی معیشت مستحکم کرنے کے مرحلے میں داخل ہوا اور اس ضمن میں اس نے اصلاحات بھی کیں۔ گزشتہ برس چین کی زیادہ تر توجّہ اندرونِ مُلک صارفین پر مرکوز رہی کہ اس کی اپنی مارکیٹ ہی کم و بیش ایک ارب 44کروڑ افراد پر مشتمل ہے۔گو کہ امریکا کی جانب سے چینی درآمدات پر ٹیکس لگانے سے اس کی معیشت متاثر ہوئی، لیکن مذاکرات اور دیگر اقدامات سے چین نے اس کے منفی اثرات پر قابو پانے کی کوشش کی۔ ہر چند کہ یورپ اور برطانیہ میں معاشی بحالی کا عمل جاری رہا، لیکن معاشی ترقّی کی رفتار سُست تھی اور بریگزٹ پر ہونے والے مذاکرات اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بے یقینی نے دونوں کو متاثر کیا۔

گزشتہ برس تجارتی معاملات میں پیدا ہونے والا تنائو بھی عالمی معیشت کی رفتار میں کمی کا باعث بنا۔ اپنی حفاظتی پالیسی کے تحت امریکا کی جانب سے دیگر ممالک کی درآمدات پر ٹیکسز لگانے اور جواب میں اُن ممالک کی جانب سے امریکی درآمدات پر محصولات عاید کرنے سے تجارتی ماحول پر منفی اثرات مرتّب ہوئے۔ نیز، سرمائے کی منتقلی کی رفتار سُست ہو گئی۔ اپریل 2018ءکے بعد امریکا نے چین اور اپنے اتحادیوں کی درآمدات پر مجموعی طور پر200ارب کے ٹیکسز لگائے جس کے نتیجے میں عالمی تجارتی تعاون کو شدید دھچکا لگا۔ تاہم، خوشی کی بات یہ ہے کہ سال کے آخری مہینے میں چین اور امریکا کے درمیان جاری تجارتی جنگ ختم ہو گئی۔ ارجنٹائن کے دارالحکومت، بیونس آئرس میں بیس بڑی عالمی معیشتوں پر مشتمل ممالک کے اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی چینی ہم منصب سے ملاقات میں بڑا بریک تھرو دیکھنے میں آیا، جب دونوں قائدین نے ایک دوسرے کی درآمدات پر ٹیکس لاگو کرنے کا معاملہ فی الحال مؤخر کرنے کا اعلان کیا۔ اس سے نہ صرف ان دونوں مُلکوں، بلکہ دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹس پر بھی مثبت اثرات مرتّب ہوئے۔ ترقّی یافتہ معیشتوں میں، جن میں برطانیہ اور یورو زون کے ممالک کے علاوہ جاپان بھی شامل ہے، جو تیزی 2017ء کے آخری 6ماہ میں دیکھی گئی تھی، وہ 2018ء کے پہلے 6ماہ کے بعد برقرار نہ رہ سکی۔ تجارت اورصنعتی پیداوار میں کمی آئی، جب کہ افراطِ زر کی صورتِ حال غیر متوازن رہی۔ یعنی کہیں زیادہ اور کہیں کم۔

2018ء میں اُبھرتی معیشتوں میں مِلا جُلا رجحان دیکھا گیا۔ توانائی کی برآمدات زیادہ رہیں۔ تُرکی، برازیل اور ارجنٹائن کی معیشت سُست روی کا شکار رہی، مگر اس میں بیرونی عوامل کی بہ جائے ان ممالک کے اندورنی حالات کا عمل دخل زیادہ تھا۔ مثال کے طور پر تُرکی پر امریکا اور اس کے درمیان جاری سیاسی تنازعے کی وجہ سے پابندیاں عاید ہوئیں اور لیرا کی قدر میں غیر معمولی کمی سمیت دیگر عوامل کی وجہ سے اس کی معیشت دبائو میں آ گئی۔تاہم، تنازعے کا سبب بننے والے امریکی پادری کی رہائی کے بعد امریکا اور تُرکی کے تعلقات میں بہتری آئی، جس کا تُرک معیشت پر بھی اچھا اثر پڑا اور لیرا دباؤ سے قدرے باہر آگیا۔ برازیل میں انسدادِ بد عنوانی مُہم کی وجہ سے پائی جانے والی بے یقینی اور انتخابات میں قوم پرست رہنما کی فتح کے سبب معیشت متاثر ہوئی اور سابق صدر، جیلیما روزیف کی معزولی کے بعد سے اب تک معاشی ابتری پر قابو نہیں پایا جا سکا۔ اسی طرح ارجنٹائن میں پایا جانے والا سیاسی عدم استحکام، معیشت کی ترقّی کی راہ میں رکاوٹ بنا ۔ گزشتہ برس اُبھرتی ہوئی اور ترقّی پزیر معیشتوں کے افراطِ زر میں اضافہ ہوا، لہٰذا ان ممالک کی حکومتوں کو سخت اقدامات کرنا پڑے، جس کا نتیجہ یوں مہنگائی کی صورت برآمد ہوا کہ ان ممالک کی کرنسی کی قدر میں خاصی کمی واقع ہوگئی۔ امریکا کے جوہری معاہدے سے نکلنے کے بعد ایرانی معیشت مشکلات سے دوچار ہوئی اور اس کی کرنسی پر غیر معمولی دبائو پڑا۔ گرچہ ایرانی حکومت نے معاشی بحالی کے دعوے کیے، لیکن بہ ظاہر ایسی کوئی پیش رفت نظر نہیں آرہی۔ اگر دیکھا جائے، تو کرنسی کے اعتبار سے 2018ء اکثر ممالک کے لیے بُرا ثابت ہوا اور ڈالر کے مقابلے میں بیش تر کرنسیز کی قدر میں کمی دیکھی گئی۔ مثال کے طور پر چین اور بھارت جیسے مضبوط معیشت کے حامل ممالک کو بھی اپنی کرنسی کی قدر گھٹانا پڑی۔ تاہم، اس کا سبب وہ برآمدات میں اضافہ بتاتے ہیں۔ علاوہ ازیں، سیاسی تنازعات، داخلی عدم استحکام یا بیڈ گورنینس کے باعث بھی کئی ممالک کی کرنسی کی قدر گرتی رہی، جن میں ایران، تُرکی، پاکستان، افغانستان، برازیل اور وینزویلا سمیت بہت سے افریقی ممالک شامل ہیں۔

2018ء پاکستان کی معیشت کے لیے ایک تکلیف دہ سال تھا۔ اگست کے دوسرے عشرے میں پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت برسرِ اقتدار آئی، تو وزیرِ اعظم ، عمران خان نے اپنی پہلی ہی تقریر میں مُلک کو بدترین معاشی بُحران کا شکار قرار دیتے ہوئے سابقہ حکومتوں کو اس کا ذمّے دار ٹھہرایا اور کہا کہ ’’بیرونی قرضے معیشت کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن گئے ہیں۔‘‘ اس بُحران سے نمٹنے کے لیے حکومت نے دو نکات پر مشتمل ایک فوری پالیسی تشکیل دی۔ اس پالیسی میں دوست ممالک سے امداد لینا اور آئی ایم ایف سے بیل آوٹ پیکیج حاصل کرنا شامل تھا۔ خیال رہے کہ ماضی میں عمران خان غیر مُلکی امداد کے شدید مخالف رہے ہیں۔ عمران خان کے ناقدین کا ماننا ہے کہ گرچہ وہ مُلک کی ابتر معاشی صورتِ حال کا ذمّے دار ماضی کی حکومتوں کو ٹھہراتے ہیں، لیکن ان کی اقتصادی ٹیم نے بھی اس بُحران سے نجات حاصل کرنے کی کوئی خاطر خواہ تیاری نہیں کی۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت سال کے آخر تک معاشی بُحران کا ذکر تو کرتی رہی، لیکن اس کے خاتمے کے لیے کوئی سمت تک متعین نہ کر سکی۔ حکومت نے دعویٰ کیا کہ امداد کے حصول کے لیے عمران خان کے سعودی عرب، چین اور متّحدہ عرب امارات کے دورے کام یاب ثابت ہوئے اور ان کے نتیجے میں حکومت کو اربوں ڈالرز اور تیل کی خریداری میں رعایت سمیت دیگر تجارتی فواید ملے ۔ بعد ازاں، وفاقی وزیرِ خزانہ، اسد عُمر نے کہا کہ ادائیگیوں میں عدم توازن کا خطرہ فوری طور پر ٹل گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی آئی ایم ایف سے مالیاتی پیکیج لینے کا معاملہ جنوری تک مؤخر کر دیا گیا۔ اس بارے میں وفاقی وزیرِ خزانہ کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف نے کرنسی کی قدر میں کمی، سبسڈی ختم کر نے، گیس و بجلی کے نرخ میں اضافے اور افراطِ زر کنٹرول کرنے جیسی سخت شرایط عاید کی ہیں۔ تاہم، اس کے باوجود حکومت نے یہ اقدامات اُٹھائے، جس سے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت کا اندازہ ہوتا ہے۔ ان اقدامات کے نتیجے میں مہنگائی میں اضافہ ہوا، جس کے سبب پہلے ایک سو روز ہی میں حکومت کی مقبولیت کا گراف کافی نیچے چلا گیا۔

اس وقت ایک عام پاکستانی شہری حکومت سے خاصا شاکی نظر آتا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، افراطِ زر کی شرح8فی صد تک پہنچ چُکی ہے، جو آئی ایم ایف کے مطابق، مارچ تک 10سے بھی کہیں زیادہ ہو جائے گی۔ تاہم، سرکاری ذرایع اس سے اتفاق نہیں کرتے ، لیکن اگر ایسا ہوتا ہے، تو اس کے سبب50لاکھ مکانات کی تعمیر کا منصوبہ متاثر ہوگا، جس کا دارومدار بینکس سے لیے گئے قرضوں پر ہے ۔ گزشتہ برس وزیرِ اعظم، عمران خان کرپشن کے خلاف تُند و تیز بیانات دیتے رہے اور ان کے وزراء نے بھی اپوزیشن کے خلاف محاذ گرم رکھا۔ پی ٹی آئی کی حکومت کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ کرپشن کرنے والے جیل جائیں گے اور لوٹی ہوئی رقم قومی خزانے میں واپس آئے گی۔ اس موقعے پر ماہرین کا کہنا تھا کہ کسی بھی حکومت کے لیے اپوزیشن رہنمائوں کو جیل بھیجنا کوئی مشکل کام نہیں ہوتا، لیکن کرپشن کے ذریعے حاصل کیے گئے اربوں ڈالرز کو، جو حکومت کے بہ قول نقد رقوم اور اثاثوں کی صورت میں بیرونِ مُلک رکھے گئے ہیں، فوری طور پر مُلک میں واپس لانا تقریباً نا ممکنات میں سے ہے۔ اس مقصد کے لیے حکومت کو اپنے ذرایع سے زیادہ دیگر ممالک سے معاہدوں اور تعاون پر بھروسا کرنا پڑتا ہے، جو پاکستان کے دوسرے ممالک سے نہ ہونے کے برابر ہیں۔ پھر پاکستان کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ہر نئی حکومت کرپشن ختم کرنے کے نعرے لگاتی ہے، لیکن جب اس کا دَور ختم ہوتا ہے، تو اگلی حکومت کو اپنا سفر پھر صفر سے شروع کرنا پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر سابق صدر، ایّوب خان سمیت تمام آمروں نے سابقہ حُکم رانوں، سیاست دانوں اور کاروباری شخصیات کے خلاف کارروائیاں کیں اور اس کا سبب کرپشن ہی کو بتایا، جب کہ بُھٹّو سمیت دیگر جمہوری حکومتیں بھی’’ احتساب، احتساب‘‘ کی مالا جَپتی رہیں۔ ایک زمانے میں 22خاندانوں کی اجارہ داری کا خاصا چرچا تھا۔ پھر نجی اداروں کے خلاف کارروائی ہوئی اور بینکس، تعلیمی ادارے اور کارخانے قومیائے گئے۔ پھر ’’قرض اتارو، مُلک سنوارو اسکیم‘‘ کاغلغلہ ہوا اور سابق صدر، پرویز مشرف کے دَور میں احتسابی عمل میں تیزی آئی اور اس کے لیے قومی احتساب بیورو کے نام سے ایک ادارہ بھی بنایا گیا، لیکن نتیجہ ’’وہی ڈھاک کے تین پات‘‘۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ عمران خان نے کوئی نئی بات نہیں کہی، لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ کرپشن جیسے ناسور کا خاتمہ ضرور ہونا چاہیے، کیوں کہ اس نے مُلکی معیشت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔

عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق، 2019ء میں پاکستان کی معیشت کو مزید چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا کہ زرِ مبادلہ کے ذخائر توازنِ ادائیگی کے لیے کافی نہیں۔ نیز، شرحِ نمو، جو کہ گزشتہ مالی سال کے اختتام پر 5.2تھی اور اگلے برس اس کے 5.8پر پہنچنے کی توقّع تھی، اب 4یا اس سے بھی کم ہو جائے گی۔ دوسری جانب سال کے آخر میں روپے کی قدر میں ریکارڈ کمی دیکھی گئی اور ڈالر 142روپے کا ہو گیا، جب کہ سال کے آغاز میں ایک ڈالر106روپے کے مساوی تھا۔ ماہرین کے مطابق، جب تک تجارتی خسارہ بڑھتا رہے گا، روپے کی قدر میں کمی جاری رہے گی۔ بعض تجزیہ کار مُلک کی موجودہ معاشی صورتِ حال کا سبب جولائی 2017ء میں شروع ہونے والا سیاسی عدم استحکام بھی بتاتے ہیں۔ علاوہ ازیں، اقتصادی پالیسیز میں عدم تسلسل بھی معاشی بدحالی کی وجہ بنا۔ گرچہ حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ تارکینِ وطن کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر، زرِ مبادلہ میں فوری اضافے کا سبب بنیں گی، لیکن اس کے آثار کم ہی دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم، حکومت کی جانب سے ایک کروڑ نوکریاں فراہم کرنے اور 50لاکھ مکانات کی تعمیر کا وعدہ قابلِ ستائش ہے۔ نیز، کفایت شعاری کی پالیسی پر عمل درآمد کے نتیجے میں عوام کے پیسے کا زیاں رُک جائے گا۔ دوسری جانب سال کے آخر میں سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں تجاوزات کے خلاف مُہم میں تیزی آئی، جو مستقبل میں بہتر نتائج دے گی اور اس کے نتیجے میں اربوں روپے مالیت کی سرکاری املاک پر قابض قبضہ مافیا کی حوصلہ شکنی ہو گی۔ تاہم، مارکیٹس کی مسماری اور شاہ راہوں کو کشادہ کرنے کے لیے چلائی گئی مہم کے نتیجے میں معاشی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔ مُلکی معیشت کے دیرپا استحکام کے لیے ایک جامع پالیسی پر مُلک کی تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق ضروری ہے۔  

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں