آپ آف لائن ہیں
جمعرات9؍ محرم الحرام 1440ھ20؍ ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
دو ہزار سات/آٹھ کی سنگین کساد بازاری کے بعد ترقی یافتہ ممالک نے اپنی معیشتوں کی بحالی کے لئے مالی ترغیبات کا اطلاق کیا اور اس عمل کے دوران بھاری طور پر قرض دار ہو گئے۔ مالی محرک کے اطلاق میں درپیش مشکلات کے پیش نظر معاشی طور پر ترقی یافتہ ممالک نے اپنی معیشتوں کو مالیاتی ذرائع سے تحریک دینے کا فیصلہ کیا جس کے باعث وہ ’کوانٹے ٹیو ایزیئنگ‘(QE)کے تحت ڈھیلی مالیاتی پالیسی پر عمل پیرا رہے ہیں۔ نرم مالیاتی پالیسی پر عملدرآمد کرتے ہوئے امریکہ بنکوں کے نظام میں کھربوں ڈالر داخل کر چکا ہے اور اس نے معیشت کے انجن کو دوبارہ اسٹارٹ کرنے کے لئے شرح سود کو تقریباً صفر درجے پر بھی رکھا ہوا ہے۔ اس بات کا قیاس فطری ہے کہ مالی سرمایہ کار بہتر منافع کی پیشکش کے ساتھ مارکیٹوں میں اپنے فنڈ مختص کرنے میں دلچسپی لے رہے ہوں گے۔ ایشیاء پیسیفک کے خطے میں معیشتوں کی مضبوطی اور شرح سود کے فرق کے باعث یہاں مارکیٹوں میں بڑے پیمانے پر سرمائے کی آمد جاری رہی ہے۔ سرمائے کی یہ آمد ان ممالک میں شرح مبادلہ پر اوپری دباؤ ڈالنے کے ذریعے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ جاری رکھتے ہوئے ملکی برآمدات کو متاثر کر رہی ہے۔ خطے کے متعدد ممالک نے اپنی معیشتوں میں ڈالر کی آمد کی حوصلہ شکنی کرنے کے لئے متعدد اقدامات کئے ہیں مگر پاکستان میں ایسا نہیں

ہے جہاں زرمبادلہ کے ذخائر میں تیزی سے کمی ہو رہی ہے، شرح مبادلہ بری طرح زوال پذیر ہے اور قرضوں کی ادائیگی کا بحران معیشت کی راہ میں غیر یقینی کیفیت کے کانٹے بچھا رہا ہے۔ افسوس کہ پاکستان نے کیسا موقع ہاتھ سے گنوا دیا! جب کہ مشرقی ایشیاء کے ممالک اپنی مارکیٹوں میں سرمائے کی گردش کے عدم خواہاں ہیں کھربوں ڈالر بدستور ان کی مارکیٹوں میں داخل ہونے کے راستے تلاش کئے جا رہے ہیں۔ دوسری طرف وطن عزیز کو ڈالروں کی شدید ترین ضرورت ہے مگر وہ اس سرمائے کا رخ اپنی مارکیٹوں کی جانب موڑنے میں ناکام ہو چکا ہے۔ مشرقی ایشیاء کے ممالک اور پاکستان کے درمیان فرق ان کی معیشتوں کی کارکردگی کا ہے۔ ان ممالک میں میکرو اکنامک مینجمنٹ پاکستان کی نسبت بدرجہا بہتر رہی ہے۔ ان ممالک کی قیادت نے معیشت کو ہمیشہ اولین ترجیح دی ہے جب کہ پاکستان میں معیشت قیادت کی نگاہوں سے کم و بیش اوجھل رہی ہے۔ پاکستان میں گزشتہ پانچ سالوں کے دوران جن میکرو اکنامک پالیسیوں پر عملدرآمد کیا گیا وہ غیر مناسب ہونے کے علاوہ نظم و ترتیب سے بھی محروم تھیں۔ اس دوران اوسط بجٹ خسارہ نہ صرف قومی مجموعی پیداوار کی7فی صد شرح تک رہا بلکہ گزشتہ سال یہ جی ڈی پی کی8.5فی صد کی بلند شرح تک پہنچ گیا۔ مالیاتی پالیسی اپنی کیفیت میں سہولت رساں رہی اور اس نے حکومت کی فضول خرچیوں کو بھرپور سپورٹ کیا۔ ایک طرف بڑے پیمانے پر لئے گئے قرضوں کی وجہ سے سرکاری قرضہ دگنے سے بھی زائد ہو گیا تو دوسری طرف زرمبادلہ کے ذخائر میں بڑے پیمانے پر کمی ہوئی۔ معاشی نمو اوسطاً3.0فی صد سالانہ کی شرح تک کم ہو گئی جو ملکی آبادی میں اضافے کی شرح سے تھوڑا ہی اوپر ہے جب کہ بیروزگاری اور غربت میں زبردست اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔ میکرو اکنامک کی بے ترتیب پالیسیوں کی وجہ سے مقامی اور بیرونی دونوں سرمایہ کاروں نے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ اس تناظر میں جی ڈی پی کی12.5فی صد داخلی سرمایہ کاری گزشتہ پانچ عشروں میں سب سے کم تر سطح پر ہے جب کہ بیرونی سرمایہ کاری کے سوتے بالکل خشک ہو چکے ہیں۔ انفرا اسٹرکچر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور توانائی کے شعبے میں خراب نظم و نسق نے ملکی نمو کی توقعات کو بری طرح تباہ کر دیا ہے۔ قواعد و ضوابط پر پابندی کرانے کے ذمہ دار اداروں کے انحطاط، طرز حکومت اور قانون کی حکمرانی کے ڈھیلے پن اور زوال پذیر ادارے موجودہ حکومت کا نشان امتیاز ہیں۔ درحقیقت پاکستانی حکومت نے بیرونی آمد زر کو روکنے میں کوئی کسر ادھوری نہیں چھوڑی ہے۔ اپنی پالیسیوں کے ذریعے ہم نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو وطن چھوڑنے کی راہ دکھائی ہے۔ بنکوں، توانائی، آئل اینڈ گیس اور کیمیکل شعبوں کے متعدد غیر ملکی سرمایہ کار یا تو واپس جا چکے ہیں یا واپس جانے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر رائل بنک آف اسکاٹ لینڈ پاکستان سے چلا گیا ہے ایک غیر ملکی بینک نے پاکستان میں اپنے آپریشن فروخت کر دیئے ہیں اور سٹی گروپ پاکستان میں آپریشنوں کو محدود کر چکا ہے۔ برٹش پٹرولیم وطن واپس جا چکا ہے اور کالٹیکس واپس جانے کی تیاریاں کر رہا ہے۔ اسی طرح آئرلینڈ کی کمپنی تلو آئل بھی پاکستان سے اپنے سرمائے کو واپس نکال رہی ہے۔ توانائی کے شعبے میں ایک سعودی گروپXenelاور ایک فرانسیسی کمپنیGDFنے اپنے حصص حبکو کو فروخت کر دیئے ہیں۔ اسی طرح توانائی کے شعبے میںAESکی سرمایہ کاری اورICIکے پاکستانی آپریشن بھی بیچے جا چکے ہیں۔ اگر پاکستانی حکومت نے نظم و ضبط برقرار رکھا ہوتا، معیشت کو ترجیح دی ہوتی، ایک اہل معاشی ٹیم بنائی ہوتی، اپنے سرمایہ کاری کے ماحول میں بہتری لائی ہوتی اور درکار استحکام کا تھوڑا بہت حصہ بھی قائم رکھا ہوتا تو مشرقی ایشیاء کی مارکیٹوں کی طرح یہاں بھی گویا ڈالروں کی نہریں بہہ رہی ہوتیں۔ آج پاکستان ڈالروں کے لئے بھیک مانگ رہا ہے، امریکہ سے اتحادی سپورٹ فنڈ دینے کی درخواست کر رہا ہے، تھری جی سیلولر فون لائسنسوں کی فروخت کے ذریعے رقم اکٹھا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، قرضوں کی ادائیگیوں کے سنگین ترین بحران سے دوچار ہے اور اخباری اطلاعات کے(Dec.15)مطابق عالمی مالیاتی ادارے سے قرضوں کی بھاری قسطوں کی ادائیگیوں کو موخر کرنے کی درخواست کر رہا ہے۔ اگر وقت کی صدا پر کان دھرے گئے ہوتے تو آج پاکستان قرضوں کی بھیک مانگنے کے بجائے ڈالروں کے عظیم بہاؤ کو روکنے کے لئے ’میکرو پرو ڈینشیئل‘ اقدامات کر رہا ہوتا۔ تحریر کے اختتام سے قبل میں معاشی ٹیم کو خبردار کرتا ہوں کہ وہ پریس سے بات چیت کرتے وقت الفاظ کے انتخاب میں محتاط رہے۔ آئی ایم ایف اور عالمی بنک اولین درجے کے قرض دہندگان ہیں۔ ان کے قرضوں کی تنظیم نو ہوتی ہے اور نہ ہی ان کی ادائیگیوں کو موخر کیا جا سکتا ہے۔ آئی ایم سے قرضوں کی ادائیگیوں کے التوا کی بات کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ملک عالمی طور پر نادہندہ قرار دیئے جانے کی دہلیز پر کھڑا ہے۔ ایسے بیانات سے اعتماد کے بحرانوں کی رفتار میں اضافہ ہو گا اور ملک سے سرمایہ واپس لے جانے کے عمل کو مزید جواز میسر آئے گا۔ عالمی مالیاتی ادارے کو بڑے پیمانے پر قرضوں کی ادائیگی کی وجہ سے پاکستان کو پہلے ہی سرمائے کے اخراج کا سامنا ہے۔ مزید ازاں اوپر بیان کردہ متعدد عوامل و تبدیلیوں کی وجہ سے مارچ 2013ء تک 400-500 ملین ڈالر کی رقم بھی ملک سے باہر جا سکتی ہے۔ پاکستان میں اپنے آپریشنوں کو فروخت کرنے والے غیر ملکی سرمایہ کار بھی یہاں سے اپنے ڈالر نکال لینا چاہیں گے۔ مرکزی بنک پہلے ہی روپے کے دفاع میں قلیل یا عدم کامیابی کے ساتھ ایکسچینج مارکیٹ میں جارحانہ طور پر مداخلت کر رہا ہے جس کے باعث اس کے پہلے ہی سے قلیل ذخائر میں مزید کمی ہو رہی ہے۔ مرکزی بنک ایکسچینج مارکیٹ میں مداخلت کے ذریعے ناگزیر کمزور معاشی کیفیت اور سرمایہ داروں کی سوچ و رجحانات کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ یہ ایک ناکام جنگ ہے۔ جو نقصان ہونا تھا سو ہو چکا ہے۔ مرکزی بنک اس جرم میں برابر کا شریک ہے۔ ایک نرم مالیاتی پالیسی کے ذریعے یہ ملک سے سرمائے کی واپسی کے راستے کھول رہا ہے۔ صد افسوس کہ ہماری معاشی ٹیم نے وطن عزیز کی معیشت کو با قاعدہ ‘نظم و ترتیب‘ کے ساتھ تباہ کرنے میں ’شاندار‘ کردار ادا کیا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں