آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ15؍ رجب المرجب 1440ھ 23؍مارچ2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سپریم کورٹ نے راؤ انوار کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست مسترد کر دی۔

راؤ انوار نے سپریم کورٹ سے درخواست کی تھی کہ وہ ضمانت پر ہیں ،عمرے اور بچوں سے ملنے کیلئے ملک سے باہر جانا چاہتے ہیں ، اس لئے انکا نام ای سی ایل سے نکالا جائے ۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے آج راؤ انوار کی درخواست پر سماعت کی۔

سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ 'راؤ انوار بری کیسے ہوگیا؟'

جس پر وکیل نے بتایا کہ ان کے موکل بری نہیں ہوئے، ضمانت پر ہیں۔

جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ 'اگر ضمانت پر ہے تو ضمانت پر رہنے دیں'۔

ساتھ ہی جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ 'ہمیں پتا ہے کہ کس طرح راؤ انوار کو پکڑوایا تھا، کیا راؤ انوار ریاست کے لیے اتنا اہم ہے کہ اس کے ساتھ اتنا خصوصی سلوک ہو رہا ہے'۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ 'راؤ انوار باہر جانے کی بات کر رہا ہے، اس کا پاسپورٹ ضبط ہونا چاہیے'۔

جس پر وکیل نے کہا کہ 'ان کے کچھ گھریلو مسائل ہیں، جس کہ وجہ سے وہ جانا چاہتے ہیں'۔

تاہم چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ 'گھر والوں کو کہیں راؤ انوار سے یہاں آکر مل لیں'۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ 'ایک جوان بچہ نقیب اللہ مار دیا گیا، راؤ انوار یہاں سے کمایا ہوا پیسہ باہر منتقل کرنا چاہتا ہوگا'۔

واضح رہےنقیب اللہ قتل کیس میں نامزد مرکزی ملزم معطل ایس ایس پی راؤ انوار جعلی پولیس مقابلے، دھماکا خیز مواد رکھنے اور غیر قانونی اسلحہ کیس میں ضمانت پر ہیں اور رواں سال پہلی جنوری کو ملازمت سے ریٹائر ہوگئے۔

یہ بھی واضح رہے گزشتہ سال جنوری میں نقیب اللہ کیس میں نامزدگی کے بعد سے وہ کسی عہدے پرنہیں تھے ، قتل کے مقدمے میں ملوث ہونے کی وجہ سے انہیں معطل کر دیا گیا تھا ۔

راؤ انوار کو سندھ پولیس میں انکاؤنٹر اسپیشلسٹ کے طور پر جانا چاہتا تھا اور انہوں نے کئی پولیس مقابلے کیے جن میں کئی مشتبہ افراد ہلاک ہوگئے تاہم ان پولیس مقابلوں کی صحت ہمیشہ مشکوک ہی رہی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں