آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ16؍ ذیقعد 1440 ھ 20؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آج سندھی زبان وجود رکھتی ہے اس کا کریڈٹ شاہ لطیف کو جاتا ہے، ڈاکٹر مبارک

حیدرآباد (رپورٹ/اے بی سومرو) نامور محقق اور دانشور ڈاکٹر مبارک علی نے کہا ہے کہ سندھ کی سب سے بڑی شناخت شاہ عبدالطیف بھٹائی ہیں اور اگر آج بھی سندھی زبان وجود رکھتی ہے تو اس کا کریڈٹ بھی لطیف کو ہی جاتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے حیدرآباد ادبی میلے کے تیسرے اور آخری روز میں سندھ کے نامور شاعر حضرت شاہ عبدالطیف بھٹائی کے دور میں سندھ اور اس خطے کی سیاسی اور سماجی حالات کے موضوع پر ایک نشست میں بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ نامور محقق اور اسکالر ڈاکٹر مبارک علی نے مزید کہا کہ سندھ کی تحریری تاریخ عربوں کے حملے کے بعد لکھی گئی جو سندھ کے نہیں بلکہ عربوں کے نکتہ نظر سے لکھی گئی ہے‘ عربوں کے حملے کے بعد سندھ مذہبی طور پر دو حصوں میں تقسیم ہوگئی‘ سندھ پر جو مغلوں نے حملہ کیا وہ تاریخی اعتبار سے بہت بڑا تھا‘ اکبر بادشاہ نے زبردستی سندھ پر قبضہ کیا اور بعدازاں رضا کارانہ طور پر قبضہ ختم کیا اور سندھ کو کلہوڑوں کے حوالے کیا اور نادر شاہ نے سندھ کو افغانستان کے سپرد کیا۔ انہوں نے کہا

کہ شاہ لطیف کے زمانے میں فارسی زبان رائج تھی مگر لطیف نے سندھی میں شاعری کی جو کہ بہت بڑا قدم تھا اگر آج بھی سندھی زبان موجود ہے تو اس کا کریڈٹ شاہ عبدالطیف بھٹائی کو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاہ عبدا لطیف بھٹائی نہ ہوتے تو سندھی زبان بھی نہ ہوتی جن کی شاعری میں عام آدمی بھی نظر آتا ہے اگر سندھ کے عوام کی تاریخ کو دیکھا جائے تو شاہ لطیف کی شاعری میں اس کا اہم حصہ موجود ہے کیونکہ لطیف عوام کے درمیان میں رہتے تھے اور اس کی شاعری سندھ کی تاریخ کا زبردست باب ہے جس میں وہ خدا کو سندھ کے عوام کے درد بتاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاہ لطیف نہ صرف ایک بڑا شاعر ہے بلکہ سندھ کی سب سے بڑی شناخت بھی ہے جس نے کسی بادشاہ کے لیے لکھا اور نہ ہی قصیدے کہے اس کی شاعری مکمل طور پر عوامی ہے جس پر الزامات لگانا غلط ہے۔ اس سے قبل منچھر جھیل کے عنوان سے ایک نشست رکھی گئی جس کے ماڈریٹر مجاہد حسین سید تھے جبکہ نامور نامہ نگار اور صحافی وسعت اللہ خان اور دیگر کو مذکورہ موضوع پر بات کرنے کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔ اس موقع پر وسعت اللہ خان نے کہا کہ منچھر جھیل کو ہم اپنی ماں اور دریائے سندھ کو باپ کا درجہ دیتے ہیں مگر ہم دونوں کا ادب نہیں کرسکے ، ماحولیات پر کام کرنے والی صحافی شبینہ فراز نے کہا کہ منچھر ایک جھیل نہیں بلکہ اس سے ایک ثقافت منسلک ہے‘ منچھر قدرتی آفات کی وجہ سے نہیں بلکہ انسانی المیے نے اس کو تباہ و برباد کردیا ہے۔ ماحولیاتی ماہر ناصر پنہور نے کہا کہ بدانتظامی نے منچھر کو تہس نہس کردیا ہے‘ جھیلوں اور نہروں کو بچانا حکومتی ایجنڈے میں ہی شامل نہیں ہے۔ اس موقع پر مقررین نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا کہ پانی کے ذخائرکو بچانے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں اورشعبہ سیاحت کو فروغ دینے اور منچھر کو دوبارہ زندہ و جاوید رکھنے کے لیے منچھر ڈولپمنٹ اتھارٹی قائم کی جائے۔ دوسری جانب میلے کے تیسرے روز بھی کتابوں‘ ثقافت کو اجاگر کرنے والے کپڑوں‘ کھانے پینے کے اشیاءکے بھی اسٹال لگائے گئے تھے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں