آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل17؍شعبان المعظم 1440ھ 23؍ اپریل 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
اسلام آباد (طارق بٹ) چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کے اس اعلان کو، جس کے مطابق وہ سپریم کورٹ کی جانب سے سو موٹو کے اختیار کے پیرامیٹرز کا تعین کریں گے، وکلاء برادری اور بڑی سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل ہوگی۔ ازخوز نوٹس کے اختیار کو پارلیمنٹ ریگولیٹ کرسکے گی ؟ پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین کامران مرتضیٰ نے دی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سو موٹو اختیار کی حدود کا فوری طور پر تعین ہونا چاہیے۔ دو سال قبل پاکستان بار کونسل نے ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں آرٹیکل (3)184کی حدود متعین کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا کیونکہ ہم طریقے کے خلاف ہیں جس کے ذریعے اس کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔ دی نیوز کے رابطہ کرنے پر معروف وکیل رہنما عابد حسن منٹو نے کہا کہ پوری سپریم کورٹ کو آرٹیکل (3)184کے پیرامیٹرز کے تعین کا فیصلہ کرنا چاہیے نہ کہ چند ججزکو تاکہ اس موضوع پر مختلف خیالات سامنے آسکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس آرٹیکل کے استعمال کی حد نہ ہی ماضی میں متعین کی گئی اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی ضابطہ موجود ہے۔ ان معاملات کی شناخت بھی نہیں کی گئی جو سو موٹو کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے ضوابط میں ترمیم کی جاسکتی ہے تاکہ ان معاملات کا تعین کیا جائے جن پر سوموٹو لیا جاسکتا ہے، اور پارلیمنٹ (3)184میں ترمیم کر کے اپیل کا حق دے

سکتی ہے۔ ن لیگ کی پچھلی حکومت نے اس آرٹیکل میں ترمیم کیلئے ایک ڈرافٹ تیا رکیا تھا تاکہ سو موٹو کے اختیار کی حدود قائم کی جاسکیں لیکن اکثریت نہ ہونے اور سیاسی محاذ آرائی کے باعث اسے پارلیمنٹ میں پیش نہ کیا جاسکا۔پیپلز پارٹی نے متعدد بار اس آرٹیکل میں ترمیم کا مطالبہ کیا ہے تاکہ سو موٹو اختیار کی حدود کا تعین کیا جاسکے۔ دونوں پارٹیوں کو آرٹیکل (3)184کے حوالے سے تلخ تجربات کا سامنا رہا ہے۔ کامران مرتضیٰ نے کہا کہ اگر اراکین پارلیمنٹ آرٹیکل (3)184میں ترمیم پر راضی ہو جاتے ہیں تو پاکستان بار کونسل پانچ منٹ میں اپنی تجاویز دے سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس آرٹیکل میں دو شقوں کے اضافے کی ضرورت ہے تاکہ ان معاملات کا تعین ہو سکے جن کا حل موجودہ قوانین میں ممکن نہیں اور جن کیلئے سو موٹو لیا جانا چاہیے، اور اپیل کا حق دیا جانا چاہیے۔ تاہم انہوں نے خیال ظاہر کیا کہ حکومت اور حزب اختلاف میں اعتماد کی کمی کے باعث ایسی کسی ترمیم پر اتفاق ہوتا نظر نہیں آتا، اور کوئی پارٹی اس پوزیشن میں نہیں کا اکیلے اس ترمیم کو پاس کروالے۔ پاکستان بار کونسل کے رہنما نے کہا کہ دو طریقوں سے اس آرٹیکل کے پیرامیٹرز کا تعین ، اور اپیل کا حق دیا جاسکتا ہے۔ ایک طریقہ یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے ضوابط میں ترمیم کی جائے، جو کہ عدالت عظمیٰ خود کرسکتی ہے، اور دوسرا طریقہ یہ ہے کہ پارلیمنٹ ترمیم متعارف کرائے، اور اگر پارلیمنٹ نے ایسا کیا تو ایسا فول پروف نظام وضع ہو گا جسے عدالت بھی تبدیل یا ختم نہیں کر سکے گی۔ کامران مرتضیٰ نے کہا کہ سو موٹو کے فیصلے کے خلاف اپیل لارجر بینچ کو سننی چاہیے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایسی بینچ میں چاروں صوبوں کی نمائندگی ہونی چاہیے، اور اس میں ان ججز کو شامل نہیں ہونا چاہیے جنہوں نے سو موٹو کیس کا فیصلہ دیا۔ انہوں نے خیال ظاہر کیا کہ سو موٹو لینے کا عمل سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری اور میاں ثاقب نثار کے ادوار میں عجیب و غریب تھا۔ آرٹیکل (3)184کہتا ہے کہ اگر عدالت عظمیٰ یہ سمجھے کہ تفویض شدہ بنیادی حقوق میں سے کسی حق کے نفاذ کے سلسلے میں عوامی اہمیت کا کوئی سوال درپیش ہے ، مذکورہ آرٹیکل میں بیان کردہ نوعیت کا کوئی حکم صادر کرنے کا اختیار ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس آرٹیکل میں عدالت عظمی کا لفظ استعمال کیا گیا نہ کہ چیف جسٹس کا، اس کا مطلب ہے کہ کوئی اکیلا جج بشمول چیف جسٹس اس اختیار کواستعمال نہیں کرسکتا۔ کامران مرتضیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور وکلاء کی دیگر تنظیموں کو اس حوالے سے اعتماد مین لینا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی تجویز دی کہ فل کورٹ کو ہر مہینے کم از کم ایک بار اجلاس منعقد کرنا چاہیے، چاہے 15منٹ کیلئے ہی سہی، تاکہ اعلیٰ ترین عدلیہ میں اہم آہنگی پیدا کی جاسکے۔ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے ایک سے زائد مواقع پر کہا تھا کہ آرٹیکل (3)184کو ریگولیٹ کیا جائیگا تاہم عملاً انہوں نے کچھ نہ کیا بلکہ اس اختیار کو استعمال کرتے چلے گئے۔ جسٹس ثاقب نثار کی ریٹائرمنٹ کے موقع پر فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا تھا کہ سو موٹو اختیار کو احتیاط سے اور صرف وسیع تر قومی مفاد میں ہی استعمال کیا جائیگا جہاں کوئی اور چارہ باقی نہیں رہیگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ آرٹیکل (3)184کے اسکوپ اور پیرامیٹرز کے تعین کیلئے عدالتی عمل یا فل کورٹ میٹنگ کے ذریعے نتیجے پر پہنچنے کی کوشش کی جائیگی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں