آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات16؍شوال المکرم 1440ھ 20؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سردار نذر محمد خان، آزاد جموں کشمیر

آزاد کشمیرمیں 21جولائی 2016ء کے انتخابات میں مسلم لیگ ن نے دوتہائی سے زائد اکثرت حاصل کرکے ایک نیاریکارڈقائم کیاگیااس وقت مسلم لیگ ن برسراقتدارتھی۔آزاد کشمیرمیںپاکستان پیپلز پارٹی برسراقتدارتھی الحاج سردار محمد یعقوب خان صدر ریاست اورچوہدری عبدالمجید وزیراعظم آزاد کشمیر کے عہدہ پرفائز تھے۔ان انتخابات میں مسلم لیگ ن کاجموں کشمیرپیپلزپارٹی کے ساتھ انتخابی اتحادتھا۔جبکہ بعض حلقوں میں جماعت اسلامی کے ساتھ بھی اتحاد تھا۔ان انتخابات کے بعدجب حکومت سازش کاوقت آیاتھاتوعام تاثریہ تھاکہ مشتاق منہاس (موجودہ وزیراطلاعات) کو مسلم لیگ ن کاپارلیمانی لیڈر بنایا جائے گا اس وقت سردار خالد ابراہیم خان نے راجہ فاروق حیدرخان کابھرپورساتھ دیاتھااورمسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت پرواضح کیاتھاکہ مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے پارلیمانی لیڈرراجہ فارو ق حیدرہیں ان کی قیادت میں پارٹی نے انتخاب لڑااوربھاری اکثریت حاصل کی اس لیے ضرورت اس امرکی ہے کہ پارٹی صدرپارلیمانی لیڈربناکروزیراعظم کاعہدہ دیاجائے۔ اس تجویز سے میاں محمدنوازشریف نے اتفاق کیاراجہ فاروق حیدر وزیراعظم نامزد ہوئے اس کے بعدآزادکشمیرمیں جب عہدہ صدارت پرنامزدگی کاوقت آیاتوایک بیوروکریٹ کوصدرکے عہدہ کے لئے نامزد کیا گیا تھا اس پرسردارخالدابراہیم خان نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور اتحاد توڑنے کا اعلان کردیا تھا۔حکومت سازی کے وقت سردار خالد ابراہیم خان نے حصہ نہیں لیاتھااب گزشتہ ایک ماہ سے مسلم لیگ ن آزادکشمیرسے تعلق رکھنے والے ممبران اسمبلی اوروزراء کے درمیان وزیراعظم سے خاصے اختلافات سامنے نظرآرہے ہیں۔آزادکشمیرکے اسمبلی اسپیکرشاہ غلام قادرجوحکمران جماعت کے جنرل سیکرٹری ہیں اورحکمراں جماعت سینئرنائب صدر اور سینئروزیرحکومت چوہدری طاروق فاروق جن کاتعلق بھمبر سے اس معاملے میں پیش پیش ہیں۔آزادکشمیرکے سابق صدرسابق وزیر اعظم اورمسلم لیگ ن کے مرکزی نائب صدرسردارسکندرحیات خان بھی کھل کرراجہ فاروق حیدرخان کے خلاف میدان اترآئے ہیں۔سدھنوتی سے منتخب ہونے والے ممبراسمبلی جوراجہ فارو ق حیدرخان کی کابینہ میں وزیرہیں یعنی ڈاکٹرنجیب نقی اورحویلی سے بھی تعلق رکھنے والے چوہدری محمدعزیزکے حوالے سے بھی کہاجارہاہے کہ وہ حکومت کی تبدیلی کے لئے شاہ غلام قادر اور چوہدری طارق فاروق کی مکمل حمایت کررہے ہیں۔گزشتہ چنددنوں سے سردارسکندرحیات خان چوہدری طارق فاروق اورشاہ غلام قادرکے انٹریوزاوربیانات بڑے واضح دوٹوک اورواضح ہین انہوں نے راجہ فاروق حیدرپرالزام لگایاہے کہ وہ وزراء اورممبراسمبلی کوبائی پاس کرکے بیوکریسی کواہم فیصلہ جات میں ترجیح دیتے ہیں اور بیورو کریسی کے کہنے پرہی اپنے حکومت چلارہے ہیںان زعماء کاکہناہ کہ اب وقت آگیاہے کہ آزادکشمیرمیں حکومتی اورجماعتی سطح پر اصلاح واحوال کی جائے۔یعنی ان کی مرادہے کہ راجہ فاروق حیدرکی حکومت کوتبدیل کرکے ان ہائوس تبدیلی کے ذریعے نیاوزیراعظم لایا جائے۔ جبکہ راجہ فاروق حیدرخان کے کیمپس سے تعلق رکھنے والے وزراء اورممبراسمبلی کاموقف ہے کہ پارٹی کے اندر کوئی اختلاف نہیں ہے محض دوتین افرادچائے کی پیالی میں طوفان کھڑاکررہے ہیں۔ان لوگوں کے کچھ ذاتی مفادات ہیں جن کووہ پارٹی کارکنان کے استحصال کانام دے کراپنے مقاصدحاصل کررہے ہیںان کواس میں کسی صورت کامیابی نہیں ہوگی ۔راجہ فاروق حیداپنی آئینی مدت پوری کریں گے ۔اسی دوران راجہ فاروق حیدر نے آزاد کشمیر کابینہ کاایک اجلاس طلب کیاجس میں سینئروزیرراجہ فارو ق حیدرکے سواتمام وزراء نے شرکت کی۔اسی روزراجہ فاروق حیدرنے وفاقی وزیرامورکشمیرعلی امین گنڈاپور سے تفصیلی ملاقات کی بلکہ وفاقی وزیرامورکشمیرراجہ فاروق حیدرسے ملاقات کیلئے کشمیر ہائوس اسلام آبادتشریف لائے تھے نہ کہ راجہ فاروق حیدر وزیر امور کشمیرکے دفترگئے تھے ۔اس ملاقات کے فوری بعدراجہ فاروق حیدرمسئلہ کشمیرکواجاگرکرنے کے لئے بیرون ملک دورے پرچلے گئے ۔جس دن راجہ فاروق حیدر برسلز کے لئے روانہ ہوئے اسی دن کوٹلی میں سردارسکندرحیات خان اورچوہدری طاروق فاروق کے درمیان طویل ترین مذاکرات ہوئے جس کے بعدجو پریس نوٹ جاری کیا گیا اس میں کہاگیاکہ راجہ فاروق حیدرکی حکومت عوام کے اعتمادپرپورانہیں اتررہی کارکنان کااستحصال کیاجارہاہے۔وقت آگیاہے کہ ضروری اصلاح واحوال کی جائے اورایسی حکومت لائی جائے جوعوام کی خدمت اورمسلم لیگ ن کے منشور پر عملدر آمد کرے۔ جن مقاصدکیلئے مسلم لیگ ن کواقتدارمیں لاتھا وہ مقاصد حاصل کیے جائیں۔ اس وقت پیپلزپارٹی کی قیادت یعنی آصف علی زرداری نے جوکہ آزادکشمیرمیں حکومت کی تبدیلی نہیں چاہتے تھے براہ راست مسلم لیگ ن کے قائد اور وزیراعظم پاکستان میاں محمدنوازشریف سے بات کی اورانہیں کہاکہ وہ اس حوالے سے پیپلزپارٹی کی مددکرے اوراپنے ممبران اسمبلی کوعدم اعتمادکی تحریک میں ووٹ دینے سے روکیں۔چنانچہ میاں محمدنوازشریف نے مسلم لیگ ن آزادکشمیرکے ممبران اسمبلی کوہدایت جاری کی کہ وہ فوری طورپراپنے آپ کوقراردادعدم اعتمادکے پراسس سے علیحدہ رکھیں۔ آزاد کشمیر کے موجودہ وزیراعظم راجہ فاروق حیدرکے خلاف عوامی سطح پرجوتحفظات پائے جاتے ہیں وہ اپنی جگہ موجود ہیں۔ اوران کوجب تک راجہ فاروق حیدرکی حکومت دورنہیں کرتی اس وقت تک اس قسم کے خطرات منڈالتے رہیں گے ۔ 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں