آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ18؍رمضان المبارک1440 ھ24؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
لندن( نیوز ڈیسک) انسانی خون کو مچھروں کیلئے تباہ کن بنانے والی مچھر مار دوائوں سے بچوں میں ملیریا کے خطرات میں20فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، دی ٹیلی گراف نے یہ خبر دیتے ہوئے لکھاہے کہ سائنسدانوں کاکہناہے کہ مچھرمار دوا انورمیکٹن کئی عشروں سے پیراسائٹس کے ذریعے پھیلنےوالے امراض کے علاج کیلئے استعمال کیجاتیرہی ہے، جس میں دریائی نابینا پن اور سکے بیز شامل ہے لیکن تجربات سے ظاہرہواہے کہ یہ دوا ملیریا کے جراثیم کو بھی پھیلنے سے روک سکتی ہے۔ اگرچہ ملیریا کے مرض میں مبتلا ہونے والوں کی تعداد میں2000سے اب تک 48 فیصد کی کمی ہوئی ہے لیکن 2017میں بھی ملیریا کی وجہ سے کم وبیش 4لاکھ35 ہزار افراد موت کاشکار ہوئے جبکہ عالمی ادارہ صحت کاکہنا ہے کہ مچھروں میں جراثیم کش دوائوں کے خلاف مزاحمت کی طاقت بڑھ جانے کی وجہ سےپوری دنیا میں ملیریا کاشکار ہونے والوں کی مجموعی تعداد 219ملین ہے، یہ دوا انسان کے خون کو اسے کاٹنے والے مچھر کیلئے ہلاکت خیز بنادیتاہے جس سے انسان کوکاٹنے والا مچھر خود ہی مرجاتاہے اور ملیریا پھیلنے کی شرح میں کمی ہوجاتی ہے اور اس سے ملیریا پھیلنےکی شرح کم ہوجاتی ہے برکینافاسو کی ایک پوری کمیونٹی کو ہفتہ میں3مرتبہ یہ دوا دی گئی جس سے ملیریا کے جراثیم میں 2.5فی بچہ سے کم ہوکر 2 کیس فی بچہ رہ گیا، جبکہ اس کےکوئی

ضمنی اثرات رونما نہیں ہوئے۔لانسیٹ جرنل میں شائع ہونے والی ریسرچ رپورٹ کے مطابق جب اسے دوسرے امراض کے لئے استعمال کیاگیا تو انورمیکٹن مرض کے پھیلنے کو روکنے اورملیریا کے خاتمے میں مدد دینے کاسبب بنا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں