آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ18؍رمضان المبارک1440 ھ24؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کالعدم تنظیموں کی ہمدردی کا الزام،وزراء کو نکالناٹھیک نہیں،تجزیہ کار

کراچی(جنگ نیوز)سینئر تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ بلاول کا کالعدم تنظیموں کی ہمدردی کے الزام میں تین وزراء کو نکالنے کا مطالبہ درست نہیں ہے، پی پی، ن لیگ کے بے شمار لوگوں کی ہمدردیاں بھی ان تنظیموں کے ساتھ رہی ہیں، آغا سراج درانی کی گرفتاری کا موازنہ کسی جہادی تنظیم کیخلاف ایکشن سے نہیں کیا جاسکتا ہے، سیکیورٹی کونسل کا لوگوں کو دہشتگرد قرار دینے کا اختیار درست نہیں ہے۔ان خیالات کا اظہا ر مظہر عباس، ارشاد بھٹی، ریما عمر، بابر ستار اور حفیظ اللہ نیازی نے جیو نیوز کے پروگرام ’رپورٹ کارڈ‘ میں میزبان ابصاء کومل سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ پہلے سوال کالعدم تنظیموں کیلئے ہمدردی رکھنے والے تین وفاقی وزراء کو کابینہ سے نکالا جائے، بلاول، کیا یہ مطالبہ درست ہے؟ کا جواب دیتے ہوئے ارشاد بھٹی نے کہا کہ بلاول اگر ملک کیلئے سنجیدہ ہیں تو شرجیل میمن، ڈاکٹر عاصم اور آغا سراج درانی کو بھی ہٹائیں، اس وقت بلاول کی اپنے پر بنی ہوئی ہے اس لئے لمبی لمبی باتیں جھاڑ رہے ہیں۔حفیظ اللہ نیازی نے کہا کہ تینوں وزیروں کا کسی کالعدم تنظیم سے تعلق ثابت نہیں اس لئے انہیں کابینہ سے نکالنا درست نہیں ہوگا۔مظہر عباس کا کہنا تھا کہ یہ بھی حقیقت ہے کہ طالبان کو بنانے میں پیپلز پارٹی کے وزیرداخلہ نصیر اللہ بابر کا بڑا کردار تھا، ماضی میں

کسی کی ہمدردی انتہاپسند تنظیموں سے رہی ہے تو پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے بے شمار لوگوں کی ہمدردیاں بھی انکے ساتھ رہی ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں