آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 14؍رمضان المبارک 1440ھ20مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اختیارات کی کشمکش: گورنر، وزیر اعلیٰ اور اسپیکر پنجاب اسمبلی میں سے کون طاقتوار

تجمل گرمانی، لاہور

صوبے میںتین بڑوں وزیر اعلیٰ عثمان بزدار ، گورنر چودھری محمد سرور اور اسپیکر چودھری پرویز الٰہی کے درمیان اختیارات کی کشمکش زور پکڑ گئی ہے اور تین بڑوں کے درمیان اقتدار کی کھینچا تانی اسمبلی کی ایوانوں تک پہنچ چکی ہے ۔ پنجاب اسمبلی کے حالیہ اجلاس کے دوران تین متنازع قوانین منظور کئے گئے ۔ ان میں پہلا قانون پنجاب پراونشل اسمبلی سیکرٹریٹ ایمپلائیز بل تھا جو اسمبلی ملازمین کی بھرتی، ترقی ، تبادلوں سے متعلق تھا۔ صوبائی اسمبلی رولز1986 کے مطابق اسمبلی سیکرٹریٹ ملازمین کے معاملات میں گورنر پنجاب کی منظوری ناگزیر تھی جس سے اسپیکر اور گورنر کے درمیان چیک اینڈ بیلنس کا نظام موجود تھا ، اس بل کی منظوری سے گورنر چودھری محمد سرور کے اختیارات ختم کر کے اسپیکر کو تمام اختیارات تفویض ہو گئے ہیںاور آئندہ725 اسمبلی ملازمین کے معاملات میں اسپیکر کو مکمل اتھارٹی حاصل ہو گی۔ اس قانون کے مطابق فرد واحدا سپیکر کو اعلیٰ عہدوں پر ملازمین کی بھرتی ، ان کی تقرری ، تبادلوں کے اختیارات حاصل ہو گئے ہیں،ا سپیکر ایڈہاک بھرتیوں سمیت کسی بھی صوبے اور وفاق میں کام کرنے والے افسران کی ڈیپوٹیشن پر خدمات حاصل کر سکیں گے ، صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میںافسران کی ڈیپوٹیشن اور تقرر و تبادلے پہلے بھی ہو تے تھے لیکن آئندہ اسپیکر افسران کو اسمبلی سیکرٹریٹ سے باہر نکال کر صوبے میں کسی بھی جگہ صادق آباد اور بھکر بھی بھیج سکیں گے ، وہ چاہیں تو افسران کو دوسرے صوبوں اور وفاقی محکموں میں بھیج سکیں گے ۔ گورنر پنجاب کے اختیارات اسپیکر کو منتقل کرنے کا قانون نہایت عجلت میں منظور ہو گیا۔ اسمبلی روایت کے مطابق ایوان میں پیش ہونے والے قانون کو مجلس قائمہ کے سپرد کیا جاتا ہے جو اجلاس طلب کر کے ارکان سے مشاورت کر تی ہے ، قائمہ کمیٹی برائے قانون و پارلیمانی امور جس دن قائم ہوئی اسی دن قانون کا مسودہ اس کے سپرد کر دیا گیا اور اس کی فوری منظوری لے کر ایوان میں چند منٹوں کے دوران منظوری بھی لے لی گئی ۔ اس قانون کی منظوری میں سیکرٹری اسمبلی محمد خان بھٹی نے مرکزی کردار اد اکیا ، واقفان حال کہتے ہیں کہ قانون کی منظوری کے بعد گورنر کے اختیارات اسپیکر کو تفویض ہوگئے ہیں ، سوال پیدا ہو تا ہے کہ 33برس پرانے قواعد ختم کر کے نئی قانون سازی کی ضرورت موجودہ اسپیکر کے عہد میں کیوں محسوس ہوئی ہے ؟پنجاب اسمبلی میں گزشتہ ہفتے منظور ہونے والے عوامی نمائندگان ترمیمی بل کو عوامی حلقوں میں شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جس سے وزیر اعلیٰ،ا سپیکر ، ڈپٹی اسپیکر،کابینہ میں شامل 35وزیروں، 38پارلیمانی سیکرٹریوں، قائمہ کمیٹیوں کے 40چیئرمینوں ، وزیر اعلیٰ کے3 مشیروں ، 5معاونین خصو صی سمیت تمام 371ارکان اسمبلی کی تنخواہوں، مراعات بشمول ہائوس رینٹ، دفتری کرایہ، مہمان داری الائونس، یوٹیلیٹی بلوںو دیگر میں کئی گنا اضافہ ہو گیا۔ ایم پی اے کی ماہانہ تنخواہ 83ہزار روپے سے بڑھ کر ایک لاکھ 85ہزار روپے، وزیر اعلیٰ ماہانہ 59ہزار روپے سے بڑھکر 3لاکھ 50ہزا ر روپے ،ا سپیکر ماہانہ 49ہزا روپے سے بڑھ کر ایک لاکھ 75ہزا ر روپے ، ڈپٹی اسپیکر ماہانہ 55ہزا روپے سے بڑھ کر ایک لاکھ 65ہزا ر روپے ، وزرا کی ماہانہ تنخواہ45ہزا ر روپے سے بڑھ کر ایک لاکھ 85ہزا ر روپے ہو گئی ہے ۔ارکان اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات میں مجموعی اضافے کا تخمینہ 220فیصد لگایا گیا ہے ، عجیب بات ہے کہ سرکاری و نجی اداروں کے ملازمین کی تنخواہوں میں سالانہ دس فیصد اضافہ ہو تاہے لیکن مراعات یافتہ طبقے کی تنخواہوں اور مالی مراعات میں حیرت ناک اضافہ کر دیا گیا۔ حد تو یہ ہے کہ 2002کے بعد تمام وزرائے اعلیٰ جو چھ ماہ تک وزیر اعلیٰ کے عہدے پر فائز رہے انھیں تاحیات مراعات ملیں گی، ان میں 2500سی سی گاڑی، پانچ سکیورٹی اہلکار، ایک ذاتی سیکرٹری، دو جونیئر کلرک، عملہ کی گاڑی، دس ہزار ماہانہ ٹیلی فون الائونس، لاہور میں ذاتی گھر نہ ہونے پر سرکاری رہائش کی سہولت، ہر سابق رکن کو بلیو پاسپورٹ اور ہوائی اڈوں کے وی آئی پی لائونج استعمال کرنے کی مراعات شامل ہیں،وزیر اعظم عمران خان نے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار سے بل کی منظوری پر سخت اظہار ناراضی کیا اور گورنر کو دستخط سے روک دیا تاہم اسمبلی ذرائع کے مطابق بل واپس بھیج دیا گیا تو سابق وزیر اعلیٰ اور ارکان کی تاحیات مراعات ختم کر کے تنخواہوں اور الائونسوں کی منظوری کا امکان ہے جس کے لئے بل میں ترامیم کی جائیں گی۔ اس بل کا عجیب پہلو ہے کہ سب سے زیادہ فائدہ پرویز الٰہی اور عثمان بزدار کو ہو رہا ہے کیونکہ 2002میں وزیر اعلیٰ پرویز الٰہی تھے ، موجودہ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار جب بھی عہدے سے فارغ ہوئے وہ مراعات کے اہل ہوگئے ، اس بل کے محرک تحریک انصاف کے رکن غضنفر عباس چھینہ تھے جبکہ قائمہ کمیٹی میں شامل ارکان میں پیپلزپارٹی کے پارلیمانی لیڈر حسن مرتضی سمیت مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے اراکین نے متفقہ طور پر منظور کر لیا، اسمبلی کے ایوان میں بھی کسی طر ف سے اعتراض نہ کیا گیا گویا سرکاری مراعات لینے کے لئے مسلم لیگ ن ، پیپلزپارٹی ، تحریک انصاف سبھی کے درمیان اتفاق ہے ۔ پنجاب اسمبلی میں تیسر ا متنازع قانون منظور ہوا وہ پنجاب آب پاک اتھارٹی بل ہے ، اس نئی اتھارٹی کے سرپرست اعلیٰ گورنر پنجاب چودھری محمد سرور ہوگئے ،یہ پہلا موقع ہے صوبے میں کسی محکمہ کا سربراہ چیف ایگزیکٹو یعنی وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے بجائے گورنر کو بنا دیا گیا۔اپوزیشن حلقوں کا کہنا ہے کہ آب پاک اتھارٹی پنجاب میں 35ہزار واٹر فلٹریشن پلانٹ لگائے گی ل، اس کے علاوہ بوتلوں کا پلانٹ لگائے گی جس سے بوتلوں میں پانی فروخت ہو گا، ڈونر ایجنسیوں ، انفرادی ڈونر ز اور بیرون ملک پاکستانیوں سے عطیات بھی جمع کرے گی ۔ ذرائع کہتے ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان ان حالات میں پنجاب حکومت کی کار کر دگی سے سخت مایوس ہو چکے ہیں اور جلد بے رحم فیصلے کرنے والے ہیں، وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کو ہٹایا جا رہا ہے اور نئے وزیر اعلیٰ کی تلاش اور مشاورت شروع ہے ، پرانے ناموں مخدوم ہاشم جواں بخت، میاں محمود الرشید، یاسر ہمایوںکے ناموں پر غور جاری ہے ، شاہ محمود قریشی کے نام بھی قرعہ نکل سکتا ہے ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں