• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہندو لڑکیاں، پاک بھارت لفظی جنگ، بھارت نے پاکستان پر الزم لگا کر اپنے ہائی کمشنر سے رپورٹ مانگ لی، مودی کا نہیں نیا پاکستان ہے اقلیتیں ہماری ذمہ داری ہیں، پاکستان

اسلام آباد، لاہور، نئی دہلی (نمائندہ جنگ، مانیٹرنگ سیل، نیوز ایجنسیاں) سندھ کے شہر ڈہرکی سے لاپتہ ہونے والی 2 ہندو لڑکیوں کے مبینہ اغواء پر پاکستان اور بھارت کے درمیان لفظی جنگ جاری ہے، بھارت نے پاکستان پر الزام لگا کر اپنے ہائی کمشنر سے رپورٹ اچھی بات، سشما سوراج اقلیتوں کی بات گھر سے کریں، گورنر پنجاب چوہدری سرور نے بھی ٹویٹر پیغام میں کہا ہے کہ ہم جبری مذہبی تبدیلی کیخلاف ہیں، بھارت ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت سے باز رہے۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے سندھ سے 2 نو عمر ہندو لڑکیوں کے مبینہ اغوا کا نوٹس لے لیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پراپنے میں کہا کہ ایسی اطلاعات ہیں کہ دو ہندو لڑکیوں کو سندھ سے اغوا کر کے رحیم یار خان منتقل کیا گیا ہے جسکا وزیراعظم نے نوٹس لیتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب کو واقعے کی فوری تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ فواد چوہدری کے مطابق وزیراعظم نے وزیراعلیٰ پنجاب کو ہدایت کی کہ اس معاملے کی فوری تحقیقات کی جائیں اور اگر ایسا ہے تو بچیوں کو بازیاب کرایا جائے۔وزیراعظم نے سندھ اور پنجاب حکومت کو یہ بھی ہدایت کی کہ اس معاملے پر مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں اور سندھ حکومت ایسے واقعات کے تدارک کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھائے، پاکستان میں اقلیتیں ہمارے قومی پرچم کا سفید رنگ ہیں اور ہمیں اپنے تمام رنگ عزیز ہیں، اپنے پرچم کی حفاظت ہمارا فرض ہے۔دوسری جانب دونوں ہندو لڑکیوں نے اعترافی بیان دیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے ہم نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا اور شادی کی، کسی نے ہمارے ساتھ زبردستی نہیں کی۔ دونوں لڑکیوں نے لاہور ہائیکورٹ میں تحفظ کیلئے درخواست دائر کردی۔ پولیس کے مطابق ڈہرکی تھانے میں دونوں لڑکیوں کے مبینہ اغواء کا مقدمہ درج کرایا گیا تھا تاہم 22 مارچ کو دونوں لڑکیوں نے منظر عام پر آکر نکاح کرلیا تھا۔پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں بہنوں نے میڈیا کے سامنے اپنی مرضی سے نکاح کا اعتراف کیا تھا۔دوسری جانب خان پور میں پولیس نے ایک شخص کو حراست میں لے لیا، پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ زیر حراست شخص نے مبینہ طور پر نکاح میں مدد کی تھی۔ ادھر وزیراعظم عمران خان نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو دونوں بہنوں کی بازیابی اور معاملے پر مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے کی ہدایت کی جبکہ وزیر مملکت داخلہ نے بھی نوٹس لے رکھا ہے۔ دوسری جانب لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ اقلیتوں کا تحفظ حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے،2 بچیوں کو سندھ سے اغوا کیا گیا، سوشل میڈیا پر ہندو لڑکیوں کی مذہب کی تبدیلی سے متعلق ویڈیو وائرل ہوئی ہے، مبینہ طورپر اغواہونے والی ہندو بچیوں کو سندھ سے اغوا کرکے رحیم یار خان منتقل کیاگیا اورپھر انکو وہاں سے گوجرانوالہ منتقل کردیا گیا، وزیر اعظم کے نوٹس کے بعد سندھ اور پنجاب کے آئی جی صاحبان سے رابطہ کر لیا گیا ہے،جلد ملزمان گرفتار کرلیے جائینگے، تمام ذمہ داروں کو جلد گرفتار کیا جائیگا۔ فواد چوہدری نے کہا کہ بھارتی وزیر خارجہ نے پاکستان میں ہندو لڑکیوں کے اغوا پر تشویش کا اظہارکیا،کیا ہی اچھا ہو بھارتی وزیر خارجہ بھارت میں اقلیتوں کی حالت پر بھی ایسی تشویش کا اظہار کریں، بھارتی ریاست گجرات میں سینکڑوں مسلمانوں کو شہید کیا گیا، بھارتی حکومت وہاں مسلمانوں کیساتھ ہونے والے ظلم کے حوالے سے سوچے، نئے پاکستان میں ہر مذہب، رنگ اور نسل کے لوگ مساوی حقوق رکھتے ہیں، بھارت میں اس وقت اقلیتوں کی جو صورتحال ہے وہ دنیا میں کہیں بھی نہیں ہے،بھارت کا سب کیلئے آواز اٹھانا اچھی بات ہے، وہ اپنے گھر کو بھی درست کرنے کی کوشش کریں،کیا بھارت دعویٰ کرسکتا ہے کہ وہ اقلیتوں کیساتھ کھڑا ہے، اقلیتوں کے حقوق کا اگر بھارت کو اتنا ہی خیال ہے تو اپنے ملک میں انہیں تحفظ دے۔ بچیاں جہاں بھی ہوئیں انہیں بازیاب کروایا جائیگا۔

تازہ ترین