آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل12؍ذیقعد 1440ھ 16؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دل ، گردے اور شوگر کے مریض ڈاکٹروں کے مشورے سے پورا رمضان کے روزے رکھ سکتے ہیں،روزہ بلڈ پریشر ،کولیسٹرول اور موٹاپے میں کمی کا سبب بھی بنتا ہے، دل کے دورے سے محفوظ رکھتا ہے، روزے کی حالت میں آنکھ اور کان میں دوا ڈلوانے ، خون کے ذریعے شوگر چیک کرنے ، انسولین یا کسی بھی قسم کا انجکشن لگانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔

ان خیالات کا اظہارماہرین نے کالج آف فزیشن اینڈ سرجن پاکستان میں منعقدہ پانچویں رمضان اور زیابطیس کانفرنس کے اختتامی روز خطاب کرتے ہوئے کیا ، کانفرنس کا انعقاد بقائی انسٹی ٹیوٹ آف ڈائبیٹالوجی اینڈ کرائنالوجی ،رمضان اور حج اسٹڈی گروپ نے ڈار انٹرنیشنل الائنس کے تعاون سے کیا تھا۔

ملکی و غیر ماہرین صحت نے کہا ہے کہ دل ، گردے اور شوگر کے امراض میں مبتلا افراد ڈاکٹروں کے مشورے سے نہایت آسانی کے ساتھ پورے رمضان کے روزے رکھ سکتے ہیں ،مریضوں کو چاہیے کہ وہ رمضان کا مہینہ شروع ہونے سے پہلے اپنے معالجین سے مشورہ کر لیں ۔اتائیوں کے پاس جانے سے گریز کریں، روزے کی حالت میں آنکھ اور کان میں دوا ڈلوانے ، خون کے ذریعے شوگر چیک کرنے ، انسولین یا کسی بھی قسم کا انجکشن لگانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔حاملہ خواتین روزہ رکھ سکتی ہیں لیکن اگر ان کی اور ان کے بچے کی جان کو خطرہ ہو تووہ روزہ توڑ سکتی ہیں۔

کانفرنس میں برطانیہ، قطر، سعودی عرب،متحدہ عرب امارات، مصر،ترکی سمیت مشرق بعیداور افریقہ کے ماہرین نے شرکت کی۔

کانفرنس سے انٹرنیشنل ڈائبٹیز فیڈریشن کے اعزازی صدر پروفیسر عبد الصمد شیرا، معروف گائناکولوجسٹ ڈاکٹر شبین ناز مسعود ، متحدہ عرب امارات سے آئی ہوئی ماہر ڈاکٹر اسما دیب، برطانوی ماہرذیابیطس ڈاکٹر عظمیٰ خان، ڈاکٹر عبد الجبار اور کانفرس کے آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئرمین پروفیسر یعقوب احمدانی نے بھی خطاب کیا۔

برطانوی ماہر صحت اورکارنیل یونیورسٹی دوحہ سے وابستہ پروفیسر ریاض ملک کا کہنا تھا کہ گردے کے امراض میں مبتلا افراد حتیٰ کہ وہ لوگ جو ڈائیلیسز کروا رہے ہیں وہ بھی روزہ رک سکتے ہیں لیکن انہیں اپنے معالج سے مشورہ ضرور کرنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ گردے کے مریضوں پر ترکی ،سعودی عرب اور پاکستان میں ہونے والی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ روزے کا گردوں کی بیماری میں مبتلا افراد پر کوئی منفی اثر نہیں پڑتا۔

لیاقت نیشنل اسپتال سے وابستہ ماہر امراض قلب ڈاکٹر کلیم اللہ شیخ کا کہنا تھا کہ دل کے مریضوں کے لیے روزے کے فوائد بے تحاشہ ہیں کیوں کہ روزہ رکھنے سے انسان کے کولیسٹرول، بلڈ پریشر اور وزن میں کمی ہوتی ہے جس سے دل کے دورے کے امکانات کم ہوجاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ بات اب تحقیق سے ثابت ہو چکی ہے کہ روزہ رکھنے سے بلڈ پریشر میں کمی آتی ہے اورمحض چند ڈگری بلڈ پریشر کم ہونے سے دل کے دورے کے امکانات کافی حد تک کم ہوجاتے ہیں، اسی طریقے سے روزہ نقصان دہ کولیسٹرول کو کم کرنے اور موٹاپے میں کمی کا سبب بھی بنتا ہے جس کے بے شمار طبی فوائد ہیں۔

دارالعلوم کراچی سے وابستہ مفتی نجیب خان کہنا تھا کہ روزے داروں کو اپنے ڈاکٹر کے مشورے سے روزہ رکھنے یا نہ رکھنے کا فیصلہ کرنا چاہیے اور اگر ان کا ڈاکٹر انہیں کسی بات سے منع کرے تو انہیں اس کی رائے کو مقدم جاننا چاہیے۔

حاضرین کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ شرعی طور پر کانوں اور آنکھوں میں دوا ڈالنے ، روزے کی حالت میں سوئی چبھوکر شوگر چیک کرنے ، انجکشن اور ڈرپ لگوانے اور دانت نکلوانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔

ان کا کہنا تھا کہ روزے کی حالت میں اگر جان جانے یا جسم کے اعضاء کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہو تو روزہ توڑا جا سکتا ہے ، جس کے بدلے میں صرف قضا روزہ رکھنا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ حاملہ خاتون اپنی یا اپنے بچے کی جان کو پہنچنے والے نقصان سے بچنے کے لیے روزہ توڑ سکتی ہے۔

کانفرنس کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی لاہور کے وائس چانسلر اور سی پی ایس پی کے وائس پریذیڈنٹ پروفیسر خالد مسعود گوندل نے کہا کہ ذیابیطس اور رمضان کانفرنس کروڑوں مسلمانوں میں آگہی پھیلانے کا سبب بن رہی ہے جس کے لیے منتظمین مبارکباد کے مستحق ہیں ۔

انہوں نے اس موقع پر لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اتائیوں کے پاس جانے کے بجائے ماہرین صحت اور ڈاکٹروں سے رجوع کریں تاکہ ان کی صحت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے سے بچایا جا سکے۔

معروف ماہر امراض ذیابیطس پروفیسر ڈاکٹر عبد الباسط کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ہزاروں پرائمر کیئر ڈاکٹروں کی ضرورت ہے تاکہ وہ ذیابیطس کے مریضو ں کو پیچیدگی سے بچا سکیں۔

انہوں نے اس موقع پر کالج آف فزیشن اینڈ سرجن پاکستان کوپیش کش کی کہ ان کا ادارہ ذیابیطس کے پوسٹ گریویجویٹس تربیتی کورس مرتب کرنے کے لیے اپنی خدمات مہیا کر سکتا ہے جب کہ ان کے ماہرین اساتذہ کو بھی تربیت دے سکتے ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں