آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 23؍ذوالحجہ 1440ھ 25؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جرمنی میں آپ بطور سیاح ، طالب علم، یا روزگار کے سلسلے میں اہل خانہ کے ساتھ طویل دورانیے کے لیے تشریف لائیں تو ٹکٹ اور ویزا کے ساتھ ایک اور چیز کا بندوبست لازمی ہے اور وہ ہے ہیلتھ انشورنس۔

یوں تو جرمنی مختلف اقسام کی ہیلتھ انشورینس کی پیشکش موجود ہے لیکن بطور سیاح سفری انشورنس اور طویل عرصے کے لیے الگ انشورنس ہوتی ہے۔انشورنس کے مختلف پیکیجز پرائیوٹ اور سرکاری کمپنیوں کی جانب سے پیش کی جاتی ہیں۔

یہاں یہ امر اہم ہے کہ جب کوئی نیا اسٹوڈنٹ یا نوکری پیشہ شخص سفری انشورنس کے ساتھ جرمنی پہنچ جائے اور اس کو اپنی ہیلتھ انشورنس تبدیل کروانی ہو تو کیا کرے، ہیلتھ انشورنس سرکاری کروائے یا پرائیوٹ، سستی اور معیاری آفر کے بارے میں کہاں سے معلوم کرے۔

اسی نوعیت کے سوالات کے جوابات کے حوالے سے جرمن دارالحکومت برلن میں پاکستان اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن ’پی ایس اے‘ اور سفارتخانہ پاکستان نے مشترکہ طور پر  پہلی مرتبہ ایک سیمینار منعقد کیا۔ اس سیمینار میں جرمنی میں طبی سہولیات کے معیار اور ہیلتھ انشورنس پر بات کرنے کے لیے پاکستانی و جرمن طبی ماہرین کو رجوع کیا گیا۔ پاکستانی اور جرمن ڈاکٹرز نے دانتوں کی دیکھ بھال سے لے کر صحت کے لیے مفید غذائیت پر بات کی۔

سیمینار میں صحت کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹرز نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جرمنی اور یورپ میں ہر شہری کو تندرست صحت کے لیے یکساں اور معیاری سہولیات فراہم کرنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اشتراکی جمہوری نظام کے تحت تمام شہری ہیلتھ انشورنس اپنی آمدن کے مطابق ادا کرتے ہیں یعنی امیر شخص اپنی ہیلتھ انشورنس زیادہ کرے گا تاکہ جن افراد کی آمدن کم ہے یا بے روزگار ہیں ان کی صحت کا خیال مجموعی رقم سے ادا کیا جاسکے۔

سیمینار میں مرد و خواتین اسٹوڈنٹس کے ساتھ ساتھ نوکری پیشہ افراد نے خصوصاً فیملیز کے ساتھ شرکت کی۔ ماہرین نے شرکا کو جرمنی میں ایمرجنسی کی صورتحال سے لیکر ریگولیٹ چیک اپ کے بارے میں آگاہی فراہم کی۔

علاوہ ازیں سفارتخانہ پاکستان کی جانب سے ڈپٹی سفیر محترمہ مریم آفتاب نے ’پی ایس اے‘ کی اس کاوش کو سرہاتے ہوئے کہا کہ پاکستانی اسٹوڈنٹس جرمنی میں پاکستان کے سفیر ہیں۔ انہوں نے جرمنی میں پاکستانی ڈاکٹرز کو پیش پیش دیکھ کر خوشی کا اظہار بھی کیا۔

اس موقع پر برلن میں پاکستانی کمیونٹی کے سرگرم شخصیت ڈاکٹر نعمان توصیف نے کہا کہ برلن کی سطح پر پہلی بار ایک ایسی معلوماتی تقریب کا انعقاد کیا گیا ہے جو انتہائی ضرورت کا حامل ہے۔ جب کوئی شخص پاکستان سے جرمنی منتقل ہوتا ہے تو مقامی قوانین اور نظام سے واقف نہیں ہوتا لہٰذا جرمنی میں مقیم پاکستانی ڈیاسپورا کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ان تک یہ اہم معلومات پہنچائے۔

تقریب میں جرمنی میں صحت کے شعبے سے منسلک پاکستانی اور جرمن ماہرین کو پذیرائی کے لیے اعزازی سرٹیفکیٹ بھی پیش کیے گئے۔

ماہرین کے پینل میں ڈاکٹر عدنان احمد، ڈاکٹر انیکا ہائیڈرش، ڈاکٹر کاشف چغتائی اور ڈاکٹر جمیلہ حق شامل تھے۔

صحت سے مزید
خاص رپورٹ سے مزید