آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات17؍رمضان المبارک 1440ھ 23؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انسانوں کی طرح جانوروں کے بھی حقوق ہوتے ہیں، جانوروں پر تشدد نہ صرف اخلاقی و سماجی اعتبار سے برا عمل ہے بلکہ مختلف مذاہب میں بھی جانوروں کو نہ مارنے اور ان کی دیکھ بھال کرنے کا حکم ہے۔

حال ہی میں سوشل میڈیا سائٹ فیس بک نے ایک شخص سید قریشی کے دو اکاونٹس بلاک کیے ہیں جن پر ایک بلی کا گلا گھونٹنے سمیت جانوروں کے استحصال کی ویڈیوز اپ لوڈ کی گئی تھیں۔

فیس بک نے ایسی تمام ویڈیوز ہٹادیں ۔ لیکن کیا اس سے جانوروں کے ساتھ بہیمانہ سلوک کا خاتمہ ہوجائے گا ؟ جانوروں پر تشدد عام بات ہے اور افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ اس کا کوئی نوٹس بھی نہیں لیا جاتا۔

پاکستان میں 2018 کے انتخابات میں سیاسی کارکنوں کی جانب سے دوسری پارٹیوں کی مخالفت میں جانوروں پر تشدد کی کئی خبریں اور ویڈیوز منظر عام پر آچکی ہیں۔

جانوروں پر تشدد کی روک تھام کے قانون مجریہ 1890 کے مطابق کسی جانور کو غیر ضروری طور پر بہیمانہ طریقے سے قتل کرنے کی سزا دو سو روپے جرمانہ اور چھ ماہ کی قید ہے۔

ایسے واقعات کی زیادہ تر رپورٹ ہی نہیں ہوتی اور اگر کچھ کیس سامنے آ بھی جائیں تو بھی ملزمان باآسانی بچ نکلتے ہیں۔ جانوروں پر تشدد کے رجحان کا خاتمہ سخت ترین سزاؤں سے ہی ممکن ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں