آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ16؍رمضان المبارک 1440ھ22؍ مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستانی بچے اپنی جینیاتی ساخت کی وجہ سے بچپن سے ہی دل کی بیماریوں، شوگراور ہائی بلڈ پریشر ہونے کے خطرات سے دوچار رہتے ہیں، مگر ان کاغیر صحت مندانہ طرز زندگی ان خطرات کو کئی گنا بڑھا رہا ہے۔

پاکستان میں 12سے 18سال کی عمر کے بچے ہائی بلڈ پریشر اور شوگر کے مرض میں مبتلا ہو رہے ہیں، 20اور 30سال کی عمر کے نوجوان دل کے دوروں کے سبب کم عمری میں انتقال کر رہے ہیں،پاکستان میں فوری طور پر قومی سطح کا آگاہی پروگرام شروع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ نوجوان نسل کو دل کی بیماریوں سے بچایا جا سکے،ایسے اسکولوں کو بند کر دیا جائے جہاں کھیل کے میدان نہیں ہیں،بچوں کو بسکٹ، چاکلیٹس اور ڈبہ پیک جوسز کے بجائے پھل کھانے، کھیل کود اور ورزش کا پابند کیا جائے۔

ان خیالات کا اظہار پاکستان کارڈیک سوسائٹی اور ہیلتھ ریسرچ ایڈوائزری بورڈ سے وابستہ ماہرین امراض قلب اور ذیابطیس نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پاکستان کارڈیک سوسائٹی اور ہیلتھ ریسرچ ایڈوائزری بورڈ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔

جس کے تحت ہیلتھ ریسرچ ایڈوائزری بورڈ پاکستان کارڈیک سوسائٹی کی نومبر میں ہونے والی کانفرنس میں پیش کیے جانے والے تحقیقی مقالات پر ماہرین کو نقد انعام اورایوارڈدے گا،مفاہمتی یادداشت پر پاکستان کارڈیک سوسائٹی کے صدر پروفیسر فیروز میمن اور ہیلتھ ریب کے نائب صدر پروفیسر عبد الباسط نے دستخط کیے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر فیروز میمن کا کہنا تھا کہ دنیا کے دیگر خطوں میں لوگوں کی ناصرف جنیاتی ساخت بہتر ہے بلکہ ان کا صحت مند طرز زندگی انہیں کئی بیماریوں سے محفوظ رکھ رہا ہے،بدقسمتی سے پاکستانی ناصرف جنیاتی طور پر بلکہ اپنے غیر صحت مند طرز زندگی کی وجہ سے بچپن اور نوجوانی میں ہائی بلڈ پریشر، شوگر اور دل کے مریض بنتے جا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا کے دیگر خطوں میں ہارٹ اٹیک چالیس اور پچاس سال کی عمر میں ہوتے ہیں لیکن پاکستان میں آج کل بیس اور تیس سال کے نوجوان دل کے دوروں کی وجہ سے کم عمری میں انتقال کر جاتے ہیں،انہوں نے انکشاف کیا کہ پاکستان میں بچوں میں ہائی بلڈ پریشر اور زیابطیس کی مرض کی شرح بڑھتی جا رہی ہے جس کے لیے انہوں نے ہیلتھ ریسرچ ایڈوائزری بورڈ کے ساتھ مل کر تحقیق اور اعدادوشمار جمع کرنے کا منصوبہ شروع کیا ہے۔

نامور ماہر امراض ذیابطیس اور ہیلتھ ریب کے نائب صدر پروفیسر عبد الباسط نے کہا کہ سوائےذیابطیس کے پاکستان میں کسی بھی بیماری کے قابل اعتماد اعدادوشمار موجود نہیں ہیں،ہمارے بچے اور نوجوان غیر متعدی بیماریوں کے نتیجے میں ہلاک اور معذور ہورہے ہیں لیکن ہمیں ان کی درست تعداد اور وجوہات کا ٹھیک طریقے سے علم نہیں ہے۔

انہوں نے اس موقع پر پاکستان کارڈیک سوسائٹی سے درخواست کی کہ وہ پاکستان ہیلتھ ریسرچ کونسل کے تعاون سے دل کی بیماریوں کے حوالے سے اعدادوشمار جمع کرنے کا آغاز کرے،جس کے لیے وہ سوسائٹی کو بھرپور معاونت کے لیے تیار ہیں۔

پروفیسر عبد الباسط کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ایسے اسکولوں کو بند کردینا چاہیے جہاں کھیل کے میدان نہیں ہیں، اشتہارات کے ذریعے بچوں کوبیمار بنانے کی مہم جاری ہے، ہمیں اپنے بچوں کو چاکلیٹس، بسکٹس اورپیک جوسزسے بچا کر پھل اور سبزیاں کھانے پر راغب کرنا ہوگا،ورنہ ہم دنیا میں ایک معذور قوم کے طور پر جانیں جائیں گے۔

اس موقع پر پاکستان کارڈیک سوسائٹی اور خواتین ڈاکٹروں کی تنظیم صحت کہانی کے درمیان ایک معاہدے پر بھی دستخط کیے گئے جس کے تحت ماہرین امراض قلب، صحت کہانی کی تکنیکی معاونت سے پاکستان کے دور دراز علاقوں میں رہنے والے مریضوں کو ڈیجیٹل میڈیم اور ٹیلی میڈیسن کے ذریعے صحت کی سہولیات فراہم کریں گے۔

صحت کہانی کی سی ای او ڈاکٹر سارا سعید، پاکستان کارڈیک سوسائٹی کے جنرل سیکریٹری پروفیسر اشتیاد رسول نے دستخط کیے، اس موقع پر پی این ایس شفاء کے شعبہ امراض قلب کے سربراہ بریگیڈیئرڈاکٹر نصیر سمورنے بھی خطاب کیا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں