آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات17؍رمضان المبارک 1440ھ 23؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسلام آباد (مہتاب حیدر) ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے تحت اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم سے استفادہ کرنے والوں کو مستقبل میں کم شرح پر ٹیکس واجبات کی ادائیگی سے بچنے کے لئے بینکوں کی ڈپازٹ سلپ دکھانا لازمی ہوگا۔جس کا مقصد کم ٹیکس ادائیگیوں کو روکنا ہے۔ اعلیٰ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ جائیداد پر معمول کی ٹیکس شرح 4 فیصد کے مقابلے میں جائیداد منتقلی پر ٹیکس سوا دو فیصد ہوگا۔ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کا آرڈیننس گو کہ منگل تک جاری نہیں ہوا لیکن اس کے نمایاں خطوط سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایمنسٹی اسکیم کے تحت کمپنیوں کی 5 سالہ بیلنس شیٹ کے جائزے کی اجازت ہوگی۔حکام کا کہنا ہے کہ ریونیو پیدا کرنے کی حقیقی صلاحیت کارپوریٹ سیکٹر میں ہے۔مذکورہ اعلیٰ افسر کے مطابق آمدن اور اثاثوں کے ذریعہ بیلنس شیٹ صاف رکھنے کا موقع دینا چاہتے ہیں۔مسلم لیگ (ن) حکومت کی متعارف کردہ گزشتہ ایمنسٹی اسکیم سے موجودہ 95 فیصد ٹیکس دہندگان نے استفادہ کیا ۔کیونکہ حقیقی صلاحیت اور دولت عوام کے پاس ہو تی ہے۔مذکورہ اففسر کے مطابق ایف بی آر نے خامیوں کو دور کر دیا

ہےلیکن اس سے ان کے لئے عملی طور پر مسائل پیدا ہوں گے جن کے بینک کھاتےوں میں پیسے نہیں اور وہ اس سے استفادہ نہیں کرسکتے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بینک ڈپازٹ سلپ دکھانا لازمی قرار دینے کا مقصد مستقبل میں ٹیکس واجبات سے بچنے کی کوشش کو روکنا ہے۔ رابطہ کرنے پر معروف چارٹرڈ اکائونٹینٹ اشفاق تولا نے کہا کہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم پر صدارتی آرڈیننس کےاجراء کے بعد ہی کچھ کہہ سکیں گے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں