آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات 20؍ ذوالحجہ 1440ھ 22؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ملتان(ایجنسیاں)حکومت نے جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کیلئے مسلم لیگ (ن)اورپیپلزپارٹی سے مددمانگ لی ‘وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ نیاصوبہ بنانے کیلئے آئین میں ترمیم درکار ہے‘نئے صوبے کے آئینی بل کو قومی اسمبلی میںکثرت رائے سے منظور کیا گیا،آرٹیکل 51میں ترمیم سے جنوبی پنجاب صوبہ وجود میں آئے گا،جنوبی پنجاب صوبہ ملتان، بہاولپور اور ڈیرہ غازی خان ڈویژن پر مشتمل ہوگا،جنوبی پنجاب صوبے کی120سیٹیں ہونگی،جس کے بعدبالائی پنجاب کی سیٹیں کم ہوکر251رہ جائیں گی،آرٹیکل 218میں ترمیم کرکے پاکستان کے پانچ صوبے بن جائیں گے،جنوبی پنجاب کیلئے علیحدہ ہائی کورٹ اور چیف جسٹس ہوگا،دو تہائی سے آئینی ترمیم کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کی حمایت درکار ہو گی‘عوام رکاوٹ ڈالنے والوں کا بائیکاٹ کریں‘مسلم لیگ (ن)کو قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے والے جنوبی پنجاب صوبے کے ترمیمی بل کی حمایت کرنی چاہیے‘مسلم لیگ(ن)اب اپنے فیصلے پر نظرثانی کرتے ہوئے جنوبی پنجاب کو صوبہ بننے دے‘ن لیگ کے کچھ لوگ ماضی کے اس بل کی

قید میں پھنسے ہوئے ہیں جوانہوںنے پیش کیاتھا۔سرکٹ ہائوس ملتان میں بدھ کے روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہاکہ بہاولپور صوبہ ویسے بھی منطقی بات نہیں ہے،جنوبی پنجاب صوبے کی جدوجہد گزشتہ کئی عشروں سے جاری ہے،یہ بھلا کیسے ممکن ہے کہ صرف تین ضلعوں پر مشتمل صوبہ بنایاجائے،اس کی الگ اسمبلی ہو اور سینیٹ میں بھی اس کی نشستیں ہوں،اس طرح بات آگے بڑھتے دکھائی نہیں دیتی‘نئےصوبے کے قیام کے لیے دوتہائی اکثریت ضروری ہے اورہم اس پر اتفاق رائے کے لیے کوششیں جاری رکھیں گے‘ پیپلز پارٹی اس صوبے کے قیام کے لیے ہمارے ساتھ ہے‘ہم مل کر آگے بڑھیں گے،ماضی میں دوتہائی اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے پیپلزپارٹی یہ صوبہ نہیں بناسکی تھی اب اسے ہمارا ساتھ دینا چاہیے‘پیپلزپارٹی کے ساتھ اگلے اجلاس میں خورشید شاہ ،نوید قمر اور راجہ پرویز اشرف کے ساتھ اس مسئلے پر مزید بات چیت ہوگی،ہم قومی اسمبلی میں ن لیگ سمیت دیگر جماعتوں کوبھی قائل کریں گے‘ تحریک انصاف نے جو آئین میں ترمیم کا بل پیش کیا ہے وہ اس میں آئین کے آرٹیکل 1 ، آرٹیکل 51، 59، 106، 198 اور 218 میں ترمیم تجویز کی گئی ہے،ان آرٹیکلز میں ترمیم کے بعد جنوبی پنجاب صوبہ حقیقت کا روپ دھارلے گا۔آرٹیکل 1 کی شق 2 میں ترمیم کے ذریعے آئین میں سائوتھ پنجاب کا لفظ شامل کیا جائے گا،اسی میں یہ بھی تشریح موجودہے کہ سائوتھ پنجاب سے مراد کیاہے اور یہ علاقہ کون سا ہوگا،یہ صوبہ ملتان ،بہاولپور اورڈیرہ غازی خان ڈویژنوں کے اضلاع پر مشتمل ہوگا ۔ آرٹیکل51 میں ترمیم کے ذریعے ایک الگ اسمبلی وجود میں آجائے گی۔آٰرٹیکل 59 میں ترمیم کے ذریعے پاکستان کے صوبوں کی تعداد چار کی بجائے پانچ قرار دے دی جائے گی۔

اہم خبریں سے مزید