آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل14؍شوال المکرم 1440ھ 18؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایک عورت کو موذی مرض ہو گیا، ڈاکٹر نے بتایا کہ اب اُس کے پاس زندہ رہنے کے لئے صرف چھ ماہ ہیں، سو مشورہ یہ ہے کہ تم کسی ماہر معاشیات سے شادی کر لو، عورت نے پوچھا کہ کیا اِس سے یہ مرض ختم ہو جائے گا، ڈاکٹر نے جواب دیا ’’نہیں، مگر تمہیں چھ ماہ کا عرصہ بہت طویل محسوس ہو گا‘‘۔ یہ لطیفہ ہمارے حالات پر فِٹ بیٹھتا ہے، ہم بھی اسی قسم کے معیشت دانوں کے ہتھے چڑھے ہوئے ہیں جہاں ایک ایک دن ایک سال جتنا بھاری لگ رہا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ پاکستان پہلا ملک ہے جہاں مہنگائی ہوئی ہو یا پہلا ملک ہے جہاں کرنسی کی قدر گری ہو یا پہلا ملک ہے جہاں شرح سود میں اضافہ ہوا ہو یا پہلا ملک ہے جہاں بے روز گاری کی شرح بڑھی ہو۔ امریکہ سمیت دنیا کے بیشتر ممالک میں یہ ہوتا رہا ہے، دیکھنا یہ ہے کہ اِن ممالک نے اپنے حالات کیسے تبدیل کیے۔ اِس کام کے لئے ہمیں ایک کتاب پڑھنا پڑے گی، نام ہے The General Theory of Employment, Interest and Moneyاز جان مینارڈ کینز۔ معیشت پر اگر دنیا میں سے صرف پانچ کتابوں کا انتخاب کرنا پڑے تو یہ کتاب بلاشبہ اُس فہرست میں شامل ہوگی، جان کینز نے معیشت کی ایک نئی جہت متعارف کروائی جسے Keynesian Economicsکہا جاتا ہے، کینز کا کمال یہ تھا کہ اُس نے کلاسیکی معیشت کے تصورات کی بنیادی ہلا دیں۔ کلاسیکی معیشت ہمیں یہ بتاتی ہے کہ کسی بھی ملک میں آزاد تجارت اور مقابلے کی فضا جس میں حکومت کا کوئی عمل دخل نہ ہو اُس ملک کی معاشی ترقی کا باعث بنتی ہے، ایسی آزاد فضا میں لوگ وہ اشیا بناتے ہیں جن کے گاہک موجود ہوتے ہیں اور نفع کماتے ہیں، طلب و رسد کا ایک خود ساختہ نظام وجود میں آجاتا ہے، جس چیز کی ڈیمانڈ ہوتی ہے وہ کارخانوں میں بننا شروع ہو جاتی ہے، اُس کی طلب میں اضافہ ہوتا ہے تو قیمت بڑھ جاتی ہے، مانگ کم ہوتی ہے تو قیمت گر جاتی ہے، اجرت کا تعین بھی مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کے مطابق ہوتا ہے اور یوں لوگوں کے باہمی تعاون سے ایک خود کار نظام وجود میں آجاتاہے جس سے معیشت کا پہیہ چلتاہے، کلاسیکی معیشت کے اصول کے مطابق اس نظام میں ٹانگ اڑانے کی حکومت کو کوئی ضرورت نہیں۔

ایڈم سمتھ کے بیان کردہ یہ اصول اس قدر جاندار تھے کہ کینز بھی انہی کا قائل تھا مگر جوں جوں وقت گزرتا گیا توں توں کینز پر آشکار ہوا کہ بات اتنی سادہ نہیں، مثلاً کلاسیکی معیشت میں یہ فرض کر لیا جاتا ہے کہ مندی کے دور میں لا محالہ اجرتوں میں کمی ہو جائے گی، یہ بات سرمایہ دار کو آمادہ کرے گی کہ وہ سستی لیبر بھرتی کر لے کیونکہ اس سے نفع بڑھے گا اور یوں از خود روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ کینز کو یہ بات ہضم نہ ہوئی، اُس نے کہا کہ اِس دوران ایسا وقت بھی آئے گا جب لوگ روزگار تلاش کر رہے ہوں گے یا اُنہیں کام کے مواقع نہیں مل رہے ہوں تو ایسے وقت میں اُن کے گھر کا چولہا کیسے جلے گا، لوگ اِس انتظار میں نہیں بیٹھ سکتے کہ کب آزاد معیشت اپنے آپ کو درست کرتی ہے! اِس کے علاوہ کینز نے اِس خامی کی نشاندہی بھی کی کہ ڈیمانڈ اور سپلائی کا نظام اتنا بھی کامل اور بے عیب نہیں ہوتا کہ اس کے ساتھ اجرتوں کا بھی فوری تعین ہوتا رہے، کم اجرت سے معیشت کو بڑھاوا نہیں ملتا بلکہ غریب لوگوں کی زندگیاں اجیرن ہو جاتی ہیں، عین ممکن ہے کہ طویل مدت میں معیشت اپنے خود کار نظام کے تحت ٹھیک ہو جائے مگر اُس طویل مدت میں کروڑوں لوگوں کی زندگیاں تباہ ہو سکتی ہیں، کینز کا شہرہ آفاق جملہ کہ In the long run we are all deadاسی تکلیف کی نشاندہی کرتا ہے۔ ایسے میں جان کینز نے معیشت کی بحالی کے لئے ایک ایسا حل تجویز کیا جس نے معاشی دنیا میں ہلچل مچا دی۔ حل کیا تھا؟

کینز نے کہا کہ جب غیر یقینی صورتحال ہو تو لوگ سرمایہ باہر نہیں نکالتے، بےروز گاری بڑھ جاتی ہے اور معیشت گرتی چلی جاتی ہے، ایسے میں ڈیمانڈ اور سپلائی کے روایتی اصول بیکار ہو جاتے ہیں کیونکہ لوگوں کے پیش نظر ضرورت کے مطابق اشیا خریدنا نہیں ہوتا بلکہ مستقبل کے اندیشے اور منصوبہ بندی بھی ہوتی ہے، ایسے میں حکومت کا کردار ادا کرنا بے حد ضروری ہو جاتا ہے، کینز از راہ مذاق کہتا ہے کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ کرنسی کو بڑی بڑی بوتلوں میں بند کر کے زمین میں دفنا دے اور پھر ہزاروں لوگوں کو اس کام کے لئے بھرتی کرے کہ وہ زمین کھود کر پیسہ باہر نکالیں۔ ملکی معیشت چلانے اور گھر چلانے میں فرق ہوتا ہے، اگر کسی گھر کی آمدن کم ہو جائے تو سربراہ کو چاہئے کہ وہ اخراجات کم کر لے مگر ملکی معیشت کو گرداب سے نکالنے کے لئے ضروری ہے کہ حکومت پانی کی طرح پیسہ بہائے، کینز کا ماننا تھا کہ شروع میں یہ فضول خرچی لگے گی مگر جونہی حکومت بڑے بڑے منصوبے شروع کرے گی، بجٹ خرچ کرے گی اور PSDPمیں اضافہ کرے گی تو یکدم معیشت سنبھلنا شروع ہو جائے گی، عوام کا اعتماد بحال ہو گا، لوگ اپنا سرمایہ باہر نکال لیں گے، روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، قوت خرید بڑھنا شروع ہو جائے گی، پیداوار میں اضافہ ہو جائے گا اور یوں معیشت کا پہیہ چلنے لگے گا۔ اِس کا یہ مطلب نہیں کہ حکومت اپنی شاہ خرچیوں میں اضافہ کرے اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت وسیع پیمانے پر پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام شروع کرے، جو بھی پیسے اُس کے پاس موجود ہوں انہیں روک کر نہ رکھے، اپنی مانیٹری پالیسی کے ذریعے شرح سود کم کرے نہ کہ اسے کھلا چھوڑ دے، یہ وہ کام ہیں جو حکومت کے اختیار میں ہیں، انہیں مارکیٹ کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ جب معیشت کا پہیہ چلنے لگے تو دوبارہ حکومت اپنے اخراجات کو محدود کر سکتی ہے مگر یہ وقت حکومت کے پیسہ خرچ کرنے کا ہے اگر اِس وقت حکومت نے کسی سفید پوش گھرانے کے سربراہ کی طرح ہاتھ روک لیا تو پھر ہمیں کلاسیکی معیشت کے نظریے کے طویل انتظار کرنا ہوگا جب معیشت از خود ٹھیک ہوگی۔

جس زمانے میں کینز یہ سب باتیں لکھ رہا تھا تو اسی وقت یہ درست بھی ثابت ہو گئیں۔ امریکی صدر روز ویلٹ نے جب اقتدار سنبھالا تو امریکی معیشت بد ترین حالات میں تھی، ایسے میں روز ویلٹ نے پہلے سو دن کا پروگرام دیا جسے ’’نیو ڈیل‘‘ کہا جاتا ہے، اس نے ایک مردہ معیشت میں جان ڈال دی، بڑے بڑے منصوبوں کی شروعات کی گئیں، ڈیم، پُل اور سڑکیں بنائی گئیں، ان منصوبوں پر اعتراضات بھی اٹھائے گئے مگر روز ویلٹ کی پالیسی درست ثابت ہوئی، معیشت یکدم چھلانگ مار کر اپنے پیروں پر کھڑی ہو گئی، لوگوں کے پاس پیسہ آ گیا، انہوں نے خرچ کرنا شروع کردیا، کارخانے چل پڑے، مندی تیزی میں بدل گئی۔ جان مینارڈ کینز نے تباہ حال معیشت ٹھیک کرنے کا جو حل بتایا بظاہر وہ ہمیں اس لئے ناقابل عمل لگتا ہے کیونکہ آج کے دور میں حکومتوں پر پیسے سوچ بچار سے خرچ کرنے کے حوالے سے بہت دباؤ ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ معیشت بھی ویسے ہی چلائی جائے جیسے ایک سمجھدار شخص اپنا گھر چلاتا ہے، حالانکہ دونوں باتوں میں کوئی تال میل نہیں، ہم جتنی جلدی یہ فرق سمجھ جائیں اچھا ہے، امید البتہ کم ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں