آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ13؍ذیقعد 1440ھ 17؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مرزا شاہد برلاس

 ماہرینِ جینیات نے 2010 ء میںبعض غیر معمولی حالات کے باعث پہلی مرتبہ ایک قدیم انسان کےمکمل جینوم کی ترتیب میں کام یابی حاصل کی تھی ۔یہ ڈی این اے بالوں کے اس گچھے سے حاصل کیا گیا تھا جو4000سال قبل برفانی گر ین لینڈ کی مٹی میں منجمد ہو گیا تھا ۔ اس زمانے سے آج تک اس طر ح کی تحقیق کے طر یقوں میں پیش رفت اور کارکر دگی میں بہتری کے بعد اخراجات میں کافی تخفیف ہوچکی ہے ۔ماہرین کی جانب سے اس کام کے بارے میں اب تک تقریباً 4000سے زیادہ قدیم مردہ انسانوں کے اجداد کے ڈی این اے کی بابت انفرادی مقالے شائع ہوچکے ہیں ،جن کی زندگی کازمانہ گذشتہ 430,000سالوں پر محیط ہے ۔لیکن ان ڈی این اے میں سے تقریباً70 فی صد افراد کا تعلق یوریشیاکے ان علاقوں سے تھا جہاں کا سرد درجہ ٔ حرارت ان کو محفوظ کرنے میں معاون تھا اور جہاں پر آثار قدیمہ کے شعبے کی کھدائیوں میں کافی تحقیقی کام ہو چکا ہے۔ چناں چہ جو افرادیورپ اور ایشیاکی جینیاتی تار یخ میں دل چسپی رکھتے ہیں ان کے لیےان ہڈیوں سے ڈی این اےحاصل کرنےکے کئی مواقع موجود ہیں ۔

ماہرین کے مطابق افریقا وہ علاقہ ہے جہاںپر ہوموسیپین (جدید انسانی نوع) تقریبا 300,000سال پہلے وجود میں آئی تھی اور جب سے ہی ارتقائی منازل طے کررہی ہیں ۔مگر وہاں پر معاملات بہت مختلف ہیں ۔یعنی انسانی تاریخ میں افریقا کی اتنی اہمیت کے باوجود اس براعظم سے صرف 30 قدیم انسانوں کے جینوم شائع کیے گئے ہیں ۔جن کا دور 300 سالوں سے 15000 سالوں پر مشتمل ہے ۔

اس کی وجوہات میں ماحول اور کام کرنے کے طر یقوں کے اختلافات بھی موجود ہیں ۔گرم اور مرطوب حالات ڈی این اے کو اس وقت سے بہت پہلے بر باد کرچکے ہیں جب اس ڈھانچے کی ہڈیوں سے کوئی محقق اس کے حصول کی کوشش کرتا ہے ۔البتہ 2015 ء میں سا ئنس دان اس دور کو بڑھا نے میں کام یاب ہوگئے تھے ۔جب یہ دریافت ہوا کہ تھا کہ کان کی اندرونی ہڈی جسے پیٹرس (petrous)کہا جاتاہے ۔اس ڈھانچےکے دوسر ے حصوں کی نسبت100گنا زیا د ہ وقت کے بعد تک کا ڈی این اے محفوظ رہتا ہے ۔جن ماہرین نے 2018 ء میں ریسرچ کی تھی وہ اس ہڈی سے اب تک کاقدیم ترین افریقی جینیوم حاصل کرنے میں کام یاب ہوگئے ہیں،جس کا ڈھانچہ مراقش کے ایک غار کی کھدائی سے بر آمد کیا گیا تھا ۔

فی الحال تو بظاہر یہ ممکن نظر نہیں آتا کہ جینیاتی ماہرین اس سے زیادہ قدیم افریقی ڈی این اے حاصل کرسکیں گے ۔

لہٰذا پیٹرس سے متعلق دریافت ایک معجزہ ہے لیکن 5000سے 15000سال کے درمیان کی ہڈ یا ں اس ارضیاتی دورسے متعلق ہیں جسے ’’ہولوسین ‘‘ کہا جاتا ہے ۔چنا ںچہ یہ صرف افریقاکے اس دور کے آس پاس کی جینیاتی تاریخ آشکار کرسکتی ہیںجب افریقی آبادی اور علاقوں میں رونما ہونے والی خاص تبدیلیاں اس دور سے کافی پہلے وقوع پذیر ہوچکی تھیں ۔افریقا کے اندرونی علاقوں میں گلہ بانوں اور کسانوں کی ہجرت5000 سال قبل شروع ہوئی تھی ۔چناں چہ مشرقی افریقا میںآثارِ قدیمہ پر کام کرنے والی ایلزی بیتھ ساچک کے مطابق جس دور کے بارے میں ہم اتنا زیا دہ سنتے ہیں وہ 5000 سال پہلےکا زمانہ ہے ۔اگر چہ ہولوسین دور سے قبل کی باقیات ریسرچ کرنے والوں کو اس سے قبل کے دور کے افریقی جینیاتی نقشے کی جھلک دکھا سکے گا جب زراعت سے قبل بڑے پیمانے پر تاریخی ہجرت شروع ہوئی تھی جو اب تیکنیکی طور پر ممکن ہو گیا ہے ۔لیکن ان میں کچھ وجوہات ایسی ہیں ،جس کی بناء پر قدیم ڈی این اے کے جائزوں پر نکتہ چینی کی جاتی ہے ۔ماہرین آثار قدیمہ اور مورخین جینیاتی ماہرین سے کہتے ہیں کہ وہ صرف ڈی این اے کے ڈیٹا کی بنیادپر بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں جن میں وہ صدیوں کے ان جمع کردہ شواہد کو نظر انداز کردیتے ہیں جو دوسرے شعبوں کے ماہرین نے حاصل کیے تھے ۔علاوہ ازیں ان کی سر گرمیوں پر اعتراض بھی اٹھائے گئے ہیں جب وہ کھدائی میں بر آمد کر دہ ڈھانچوں سے نمونے افریقا سے باہر لے جاکر مغربی لیباریٹرز میں ان کے ڈی این اے کے حصول کے لیے ان کو تباہی کے پروسیس سے گزارتے ہیں ۔جن کے نتائج کے حصول کے بعدکچھ علاقوں اور ثقافتی ور ثہ پر آبائی ترکہ کے دعوے سر اُٹھا سکتے ہیں جو موجودہ رہنے والے افراد کو متاثر کرسکتے ہیں جنہوں نے ان تحقیقات کی اجازت نہیں دی تھی۔

ان معاملات کو ذہن میں رکھتے ہوئے کچھ سائنسدان بڑی احتیاط سے قدم بڑھارہے ہیں اور اس کے علاوہ بہت سےا فریقی ڈی این اے کے منصوبوں پر کام جاری ہے۔جن میں سے سب سے بڑا منصوبے پر ساچک آثار قدیمہ کی میری پرینڈ ر گسٹ اور جینیاتی ماہر ڈیوڈ ریش کام کررہے ہیںجو ہارورڈ میڈیکل اسکول آف میڈیسن میں ڈی این اے لیباریٹری میں انجام دیا جارہا ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ وہ علاقہ ہے جہاں ہماری نوع وجود پذیر ہوئی اور جہاں پر وہ طویل ترین زمانے تک مقیم رہی تھی،جس کی بناء پر افریقا میںا س کرۂ ارض کے کسی بھی علاقے کی بہ نسبت سب سے زیادہ جینیاتی تنوع ہے ۔اسی لیے ہماری نوع کی بابت سب سے زیادہ معلومات حاصل کرنے کی گنجائش بھی اسی علاقے میں ہے ۔

افریقا میں ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ یہاں کے بہت سے خطوں میں جغرافیائی ،ماحولیاتی اور سیاسی وجوہات کے باعث داخلہ بھی ممکن نہیں ہے،جس کے نتیجے میں یہاں پر بہت ہی کم آثار قدیمہ کی دریافت کردہ جگہیں اور ڈھانچے موجودہیں جواتنے عظیم رقبے اور طویل عرصے کی مناسبت کے مطابق بہت ہی محدود ہیں یوں بھی اس خطے کا بیشتر حصہ ڈی این اے کی محفوظ گی اور موجودگی کے لیے سازگار نہیںہے ،کیوں کہ بہت زیادہ گرمی ،رطوبت اور پانی کی ہڈیوں کے نامیاتی مواد کو بر باد کردیا ہے ۔چناں چہ اس براعظم سے ایسے ڈی این اے کا حصول ایک خواب ہی ہے ۔تیکنیکی بنیاد پر ممکن ہونے کی وجہ سے بھی سائنس دان افریقی ڈی این اے کے حصول کے لیے بہت ہی زیادہ محتاط ہیں ،کیوں کہ دوسرے خطوں کے مقابلے میں افریقا سے بہت کم ڈھانچے بر آمد ہوئے ہیں ۔ 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں