آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات23؍ ربیع الاوّل 1441ھ 21؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

سپر جیٹ کی تباہی نے روس کی ملکی صنعت کو درپیش مشکلات نمایاں کردیں

ماسکو : میکس سیڈن

روس نے 2018میں ان برآمدات کے متبادل کی کوششوں پر637.5ارب روبیل خرچ کیے، ایک اقتصادی انجیکشن جسے ولادی میر پیوٹن پابندیوں کا ایک فائدہ کہتے ہیں۔ کریملن نے امریکا،یورپی یونین، جاپان اور آسٹریلیا سے غذائی اشیاء کی درآمدات پر بھی پابندی عائد کردی ہے۔

جیسا کہ حال ہی میں روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے اپنے جرأت مندانہ اقتصادی اہداف پر پالیسی سیشن کے اجلاس کی سربراہی کی، ایک سینئر اتحادی نے روسی صدر پر ملکی صنعت کو عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کے قابل بنانے کے ارادے سے بھاری سبسڈیز کو جاری رکھنے کیلئے زور دیا۔

تاہم اجلاس کا آغاز ایک سب سے بڑے مقصد کی ناکامی پر علامتی ایک منٹ کی خاموشی کے ساتھ شروع ہوا،ایک روز قبل روس کے پہلے تجارتی ہوائی جہاز سخوئی سپر جیٹ 100 کے بیرون ملک کریش میں 41 افراد کی ہلاکت ہوئی۔

ہوائی جہاز کی تباہی کا ابتدائی طور پر الزام پائلٹ کی غلطی کو دیا گیا، تاہم طیارے کیلئے تازہ ترین بری خبر ہے کہ مینوفیکچرنگ اور مرمت کے خدشات کی وجہ سے کریملن کی ملکیت ایروفلوٹ کے علاوہ کوئی سنجیدہ خریدار تلاش کرنے میں ناکامی ہوئی۔

سپر جیٹ کی جدجہد نے عالمی سطح پر مسابقتی کمپنیوں بنانے میں روس کی مشکلات کی نشاندہی کی۔

ولادی میر پیوٹن نے مغربی پابندیوں کو ایک محرک کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی تاکہ روس کی تیل کی آمدنی کو غذائی اشیا سے لے کے سافٹ ویئر تا بھاری مشینری تک ان شعبوں میں قومی چیمپیئن تیار کرنے کیلئے جن پر اب تک غیرملکی تجارتی شراکت داروں پر انحصار کررہے تھے۔

روس نے 2018 میں ان برآمدات کے متبادل کی کوششوں پر 637.5 ارب روبیل خرچ کیے،ایک اقتصادی انجیکشن جسے ولادی میر پیوٹن پابندیوں کا ایک فائدہ کہتے ہیں۔ کریملن نے امریکا،یورپی یونین،جاپان اور آسٹریلیا سے غذائی اشیاء کی درآمدات پر بھی پابندی عائد کردی ہے۔

تاہم گزشتہ سال تک ،روس کی وزارت اقتصادیات کو پتہ چلا کہ تیل،گیس اور دھاتوں کی فروخت دراصل مجموعی برآمدات کا بڑا حصہ لے رہی تھی کیونکہ روس کے ملکی سطح پر تیار کردہ صارفین کے سامان اور مشینری کے بارے میں معیار کے خدشات پائے جاتے ہیں۔ بعدازاں، وزیر اقتصادیات میکسم اوششکن نے خاموشی سے روس کی برآمدات کی صلاحیت کو بڑھانے کیلئے متبادل درآمدات کو کم کردیا۔

کارنیگی ماسکو سینٹر کے اسکالر اینڈری موخوا نے کہا کہ روسی حکومت طلب کو بڑھارہی ہے،لیکن مسابقت کو نہیں۔ معیار میں کمی اور قیمت بڑھ رہی ہے۔ یہ مکمل طور پر سویت کا آئیڈیا ہے،حکام اچھا نہیں چاہتے،سستے پروڈیوسر۔۔۔ وہ لاگت کو زیادہ سے زیادہ اوپر لے جانا چاہتے ہیں،لہذٰا عوام بہت زیادہ قیمت پر غیر معیاری سامان خریدتے ہیں۔

یورپین بینک برائے تعمیر نو اور ترقی کے چیف اکنامسٹ سرگی گوریو کے مطابق ملک کی نسبتا چھوٹی مارکیٹ کا حجم، سالانہ مجموعی پیداوار 1.57 ٹریلین ڈالر ہے،جو امریکا اور یورپی یونین سے دس گنا کم ہے،جس کا مطلب ہے کہ کریملن ملکی پروڈیوسرز کی حوصلہ افزائی کیلئے ملکی طلب کو ترغیب نہیں دے سکتی۔

مسٹر گویو نے کہا کہ روس کے پاس عالمی مسابقتی چیمپیئن تیار کرنے کیلئے مارکیٹ کا حجم نہیں ہے۔ 70 سال قبل یہ مختلف دنیا تھی جہاں والمی ویلیو چینز نہیں پائی جاتی تھیں۔آپ ملکی سطح پر کچھ تعمیر کرسکتے تھے، آج کوئی بھی کمپنی عالمی قابلہ نہیں کرسکتی اگر یہ ٹیکنالوجیکل ہم عصروں کے ساتھ مقابلہ نہیں کرسکتی۔

2014 میں پہلی مغربی پابندیوں کے بعد جب تیل کی قیمتوں میں کمی ہوئی تو ڈالر کے مقابلے میں روبیل کی قدر میں نصف کمی دیکھی گئی،ملک کی خریداری کی قوت میں کمی ہونے کے باعث روس کی درآمدات کا حجم اس کی شرح تبادلے کی روش کے قریب نیچے کی طرف تھی۔

تاہم گزشتہ سال درآمدات مسلسل 238 بلین ڈالر پر جاری رہی یہاں تک کہ پابندیوں کے خوف سے روبیل کی قدر میں 14 فیصد کمی دیکھی گئی۔

روسی فارن ٹریڈ اکیڈمی کے انٹرنیشنل اکنامک اینڈ فنانس ڈپارٹمنٹ کے سربراہ ا؛یگزینڈر کنوبل کے مطابق کرنسی سے درآمدی مارکیٹ کو الگ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ مقامی متبادل نہ ہونے کی وجہ سے کمپنیاں غیرملکی اشیاء خرییدنے کیلئے زیادہ قیمت دینے پر مجبور کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ کوئی روسی سامان ان اشیاء سے مطابقت نہیں رکھتا۔

پابندیوں نے مؤثر طریقہ سے کچھ شعبوں کو غیر ملکی مارکیٹوں سے خارج کردیا ہے، ساتھ ہی ان کے مسابقت میں کمی جبکہ درآمدات کیلئے ضرورت کو بڑھادیا۔ ٹیکنالوجی اور خلائی تحقیق خاص طور پر متاثر ہوئے۔

سرکاری اخراجات کی نگرانی کرنے والے ادارے آڈت چیمبر کی رپورٹ کے مطابق ریاستی اداروں کو روسی سافٹ ویئر پر منتقل کرنے کی حکومت کی کوششوں کے باوجود گزشتہ سال 96 فیصد یہ ادارے غیر منظور شہ غیر ملیکی پروگرام استعمال کررہے تھے، جبکہ وزارتیں اور ریاستی کمپنیوں نے حکومت کے ضابطوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر ملکی سافٹ ویئر پر 3 ارب روبیل خرچ کیے۔

2018 میں صرف آریکل نے سافٹ ویئر میں روسی حکومت کو 13.3 ارب روبیل کی فروخت کی،یہ پابندیاؓں متعارف کرنے کے بعد سے اب تک سب سے بڑا کل میزان ہے۔

دریں اثنا ان پابندیوں نے روس کی اعلیٰ سطح کی کمپنیوں کے مغربی توسیعی منصوبوں کو کمزور کردیا،جن میں اینٹی وائرس سافٹ ویئر بنانے والے کاسپرسی لیب اور قرض دہندہ سبر بینک شامل ہیں۔

الیگزینڈر کونبیل نے کہا کہ روسی حکومت کی درآمدی متبادل سے برآمدی مسابقت منتقلی کی حالیہ پالیسی کی منتقلی مددگار ہوسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر درآمدات پر آپ کی طویل مدتی تحفظ پسندی ہے تو غیرملکی برآمدات کے ساتھبرآمدات کا کم مقابلہ ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلآخر یہ جمود کی طرف لے جاتا ہے۔

تاہم سپر جیٹ کی مشکلات سے ظاہر ہوتا ہے کہ روس کو ابھی مزید کتنی جدوجہد درکار ہے۔ اگرچہ 2 ارب ڈالر کے طیارے کو ذہن میں عالمی مقابلے کے ساتھ تصور کیا گیا تھا۔ تقریبا 80 فیصد پرزے فرانس،اٹلی اور امریکا سمیر غیر ملکی سپلائرز سے آئے، سپر جیٹ کو خریدار کو متوجہ کرنے میں مشکلات درپیش ہیں۔

ایروفلوٹ نے 2011 میں 50 سپر جیٹ کا بیڑہ خریدا تھا،جب وہ سب سے پہلے قابل عمل بن گئے تھے اور 2026 تک مزید 100 طیارے بھیجنے کا آرڈر دیا تھا۔ لیکن طیارے کی تباہی کے بعد سے اس نے درجنوں فلائٹس منسوخ کی ہیں اور گزشتہ ہفتے مرمت کے نئے معاہدے سے سپر جیٹ طیارے بنانے والے یو اے سی کو خارج کردیا۔

یو اے سی نے بمبارڈیئر اور ایمبریئر کے کم چوڑی باڈی والے مقامی جیٹس کے متبادل کے طور پر غیر ملکی خریداروں کو 3 سو جیٹ طیاروں کی ترسیل کی لیکن اس نے صرف ایک حصہ فروخت کیا ہے۔مارچ میں ایرو فلوٹ کے بعد دوسرے بڑے میکسیکو کے انٹرجیٹ نے مینوفیکچرر سے مرمت پر تلخ کلامی کے بعد 22 طیاروں کے سپرجیٹ بیڑے کے دو تہائی سے زائد گراؤنڈ کردیے۔ آئرلینڈ کے سٹی جیٹ نے جنوری میں اس کے سپرجیٹ آپریشن بند کردیے۔

کریملن کا سپر جیٹ کی اپ گریڈنگ اور غیر ملکی پرزوں پر انحصار پر کمی کیلئے مزید 38 ارب روبیل خرچ کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔ ایک اور یو اے سی منصوبے پر اخراجات، 465 ارب روبیل کے مک 21 طیارے،مسلسل بڑھ رہے ہیں نئی امریکی پابندیوں کے بعد اس کے غیر ملکی شراکت دار منصوبے سے باہر نکلتے نظر آئے۔

تاہم حکومت کی حکمت عملی کے کچھ مبصرین کے خیال میں یہ کافی نہیں۔ مسٹر کوبیل نے کہا کہ درآمدات کے اجزاء مسئلہ نہیں ہیں بلکہ فائنل پروڈکٹ مسابقت نہیں کرسکتی ہے۔

فنانشل ٹائمز سے مزید