آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات23؍ ربیع الاوّل 1441ھ 21؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

وفاقی ٹیکس محتسب کی سبکدوشی متعلقہ قانون کے تحت نہیں ہوئی

اسلام آباد (طارق بٹ) صدر عارف علوی نے وفاقی ٹیکس محتسب مشتاق احمد سکھیرا کو ہٹانے کی متعلقہ قانون کے تحت منظوری نہیں دی۔ آئینی ماہر عمر سجاد نے رابطہ کرنے پر اپنے تبصرے میں کہا کہ مارچ 2013میں منظور پارلیمانی ایکٹ کے تحت وفاقی ٹیکس محتسب کو یوں نہیں ہٹایا جاسکتا۔ انہوں نے ایکٹ کی دفعہ 5-کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا ہے کہ ایک محتسب کو سپریم جوڈیشل کونسل کے ذریعہ ہی اپنے منصب سے ہٹایا جاسکتا ہے۔ عمر سجاد نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل اپنے 2009میں وضع کردہ قواعد و ضوابط کے تحت ہی وفاقی ٹیکس محتسب کو سکبدوش کرسکتی ہے، اس کے علاوہ طریقے غیرقانونی ہوں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ مشتاق احمد سکھیرا اپنے برطرفی کے خلاف لائحہ عمل طے کرنے کے لئے وکلاء اور دوستوں سے مشورے کررہے ہیں۔ عمر سجاد کے مطابق اگر سبکدوشی کا یہی فارمولا دیگر تمام کیسز میں لاگو کیا جائے تو کسی کی بھی تقرری کا نوٹیفیکیشن ’’ابتدا ہی میں واپس لے لیا جاتا۔‘‘ صرف مجاز عدالت ہی باقاعدہ سماعت کے بعد یہ حکم نامہ جاری کرسکتی ہے۔ وفاقی محتسب کے دفتر کے قیام کا اصل قانون 1983کے صدارتی حکم کو 2013میں تبدیل کردیا گیا۔ جس میں سبکدوشی کا مختلف طریقہ کار اختیار کیا گیا۔ دفعہ 6-کے مطابق محتسب کو فرائض کی مناسب ادائیگی کی نااہلیت کی بنیاد پر صدر فارغ کرسکتے ہیں۔

بشرطیکہ وفاقی محتسب الزامات سے انکار کردے اور سپریم جوڈیشل کونسل میں کھل سماعت کی استدعا کرے۔ اگر درخواست ملنے کے 30دنوں کے اندر درخواست موصول نہیں ہوتی اور وصولی کے 90روز گزر جاتے ہیں تو محتسب تمام تر الزامات سے بری ہوجاتا ہے۔ عمر سجاد نے بتایا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) آرڈیننس کے تحت چیئرمین نیب کو بھی سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس بھیج کر ہٹایا جاسکتا ہے۔

اہم خبریں سے مزید