آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات16؍ ربیع الاوّل 1441ھ 14؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
معجزہ ، دعویٰ یا شعبدہ اپنی جگہ لیکن جاگیردارانہ ذہنیت ، سرمایہ دارانہ نظام اور چور بازاری کے جبڑوں میں جکڑے ہوئے پاکستان کے غریب لوگوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ ہمارے قرضے معاشی دنیا کے معیار کے مطابق خطرناک سطح پر پہنچ گئے ہیں ۔ یہ مارگلہ کے شاہین کی نہیں بلکہ اسٹیٹ بنک آف پاکستان کے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار پر مبنی ایک رپورٹ کی خبر ہے ۔ بہرحال دوسری خبر بھی خوشگوارنہیں اور وہ یہ کہ پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالتوں اور پاکستان کے سب سے اونچے ایوانوں میں ہونے والی ساری بحثوں پر مشتمل لفظی معرکوں اور مباحثوں سے مزین زبانی جنگوں کے باوجود وہ جنہوں نے کھربوں روپے کے قرضے بنکوں سے لئے پھر کبھی سرکلر کے ذریعے، کبھی بذریعہ ایمنسٹی ، کبھی براستہ ری شیڈولنگ ، کبھی اے ڈی آر کے روٹ پر چل کر اور کبھی رائٹ آف کی شاہراہ سے گزر کر ہڑپ کرنے والے دندناتے پھرتے ہیں مگر ان قرضوں کی ایک پائی بھی خزانے میں واپس نہیں آسکی۔ شاید اسی واردات سے متاثر ہو کر میرے محلہ دار سرفراز شاہد نے یو طبع آزمائی کی ہے :
کچھ تو ایسے ڈکیت ہیں شاہد
جو کہ بنکوں کو لوٹ لیتے ہیں
کچھ بنا کر کو آپریٹو بنک
سادہ لو حوں کو لوٹ لیتے ہیں
دنیا کی معیشتوں میں پاکستان دو حوالے سے ممتاز ملک سمجھاجاتا ہے۔ پہلا حوالہ یہ کہ پاکستان میں مستحکم

سرمایہ دارانہ طبقہ پایا جاتا ہے جبکہ ریاستی ادارے کہیں قلاش، کہیں قرض خواہی کے مارے ہوئے اور کہیں فقیرانہ کشکول والے اور دوسرے یہ کہ غریب قوم میں امیر ترین سہہ رنگی حکمران اشرافیہ۔ کبھی اس کا رنگ دامِ ہم رنگِ زمیں جیسا ہے ،کبھی سفید پوش اور کبھی سیاہ جامہ پہنے ہوئے اور یہ بات بھی یاد رکھنے والی ہے کہ وطن عزیز کے مالیاتی قوانین کے مطابق حکومتی قرضے پندرہ ہزار ارب (جبکہ ایک ارب سو کروڑ پر مشتمل ہوتا ہے )کی خطرناک سطح پر پہنچ کر قرضوں کی قانونی حدود سے تجاوز کر چکے ہیں۔
اس وقت پاکستان پر مجموعی طور پر ملکی اور غیر ملکی قرضوں بشمول مالیاتی ضمانتوں کا مجموعی حجم پندرہ ہزار دو سو ارب کی سطح پر پہنچ گیا ہے ۔ اسی طرح ان کھڑکی توڑ قرضوں نے معیشت کی کمر ایسے توڑی ہے کہ اس ترقی پذیر ملک میں جی ڈی پی میں تناسب پاکستان کی 65سالہ تاریخ کی بلند ترین چوٹی یعنی 68.4فی صد تک اوپر چڑھ چکا ہے۔ بات آگے بڑھانے سے پہلے وہ غریب عوام جن کے بھیجے اور جیب سے یہ قرض نکالا جانا ہے انہیں جان لینا چاہئے کہ صرف ستمبر 2011ء سے لے کر دسمبر 2012ء کے عرصے میں سرکاری قرضوں اور ضمانتوں میں18فی صد کی خطرناک ترین سطح تک کا اضافہ ہو گیا ہے۔ یہ پاکستان کے شعبہ مالیات کی سیکڑوں شاخوں میں سے صرف ایک حصے کا تذکرہ تھا ۔ قرض لٹانے والے اور اڑانے والے صرف چند درجن مقدر کے سکندر ہیں ۔ غریب کاشت کار اگر دس ہزار کا زرعی قرض لے لے تو اسے اتارتے اتارتے سود میں سب کچھ قربان کرنا پڑتا ہے ۔ ایسے میں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ ملک یا ریاست کسے کہتے ہیں؟ اس کی ایک عام فہم تعریف یہی بن سکتی ہے کہ ایک ایسا زمین کا ٹکڑا جس پر عوام مالک بن کر قدم رکھ سکیں، جس میں موجود نعمتیں ان کے حصے میں آئیں اور جس میں ان کا حقِ ملکیت تسلیم کیا جائے ۔یہ سچ ہے کہ پاکستان کے غریب عوام کی بھاری اکثریت ایسی ہے جو دس فٹ جگہ کی بھی مالک نہیں، جن کے پاس کھولی نما کمرے کی بھی رجسٹری نہیں اور جن کو قبر الاٹ کرانا مرنے سے زیادہ مشکل مرحلہ لگتا ہے۔ میں پاکستان کے مسترد شدہ یا نظر انداز شدہ ان عوام کا ذکر کر رہا ہوں جن کا پاکستان ابھی نہیں بنا۔
یہ بے زمین لو گ ہیں اور بے گھر بھی ، دیہات والے پاکستان کے مختلف علاقوں میں انہیں خانہ بدوش ، پکھی واس ، کچی آبادی کے مکین ، سلم ڈاگ، کمی کمین، ہاری ، زرعی مزدور اور شیڈول کاسٹ جیسے ناموں سے بلاتے ہیں ۔ میری آبائی یونین کونسل ہوتھلہ جو سہالہ سے کہوٹہ جانے والی شاہراہِ کشمیر پر واقع ہے اس کی بائیں سڑک والی آبادی جو آڑی سیداں کہلاتی ہے فیڈرل ایریا میں واقع ہے جبکہ اسی سڑک کی دائیں جانب والا آڑی سیداں بین الاقوامی طور پر معروف پنجاب کی تحصیل کہوٹہ ہے۔ میرا سسرال پوٹھوہار کا انتہائی ممتاز قصبہ چونترہ ہے جبکہ میرا نانکا کلیام اعوان، جہاں ہمارے ہر دلعزیز لکھاری منو بھائی کا بچپن گزرا۔ وفاقی دارالحکومت سے بالشتوں کے فاصلے پر واقع ان تینوں علاقوں میں ایسے لوگوں کی تعداد بے شمار ہے جو نہ دیہہ شاملات میں شریک ہیں ،نہ چرا گاہوں میں شراکت دار ،نہ قبرستانوں کے مالک نہ ان کے پاوٴں تلے زمین اور جن کچے پکے گھروندوں میں ان کی تیسری ، چوتھی نسل پیدا ہوئی ہے ان میں رہائش اپنی جگہ لیکن وہ صرف دیواریں اٹھا سکتے ہیں ان کے قدموں تلے زمین صدیاں گزرنے کے بعد بھی نہ تو ان کی ملکیت ہے نہ ان کی وراثت۔ چھت سے محروم لوگ ملکیت اور وراثت سے بے دخل عوام ہم سے زیادہ اس مٹی پر مرتے ہیں اور اس سے پیار کرتے ہیں جس پر سردار، جاگیردار ، سرمایہ دار اور چور بازار معاشی اور معاشرتی طور پر راج کرتے ہیں۔بلوچی زبان کا ایک محاورہ ہے جس کے مطابق جب آدمی بے آسرا ، بیکار یا بوڑھا ہو جاتا ہے تو وہ زمین پر ہاتھ رکھ کر اوپر اٹھتا ہے۔ وہ زمین جو سب کی ماں ہے جس کے بچے سوتیلے نہیں ہو سکتے ۔ دنیا کی حتمی سچائی اور سب سے بڑی حقیقت خدا کی زبان بولتی ہے۔ قرآن میں یہ انکشاف موجود ہے کہ ہم سارے اُس آدم کی اولاد ہیں جسے کھنکتی ہوئی مٹی سے تخلیق کیا گیا تھا۔ اس مٹی سے انسانوں کو جس تقویم میں پیدا کیا گیا اس میں تقسیم نہیں ہے نہ ہی تفریق ہے لیکن آقا اور غلام ، گورے اور کالے ، کمی اور مہان کی تقسیم کا بانی مغربی سامراج ہے، جس کے قائم کئے گئے نوآبادیاتی نظام کو مستحکم کرنے کے لئے بنائے جانے والے قوانین کو ہم سب نے سینے سے لگا رکھا ہے ۔ ہم جانتے ہیں کہ انسان قوانین کے لئے نہیں بنتے بلکہ قانون انسانوں کے لئے بنایا جاتاہے لیکن صرف بر صغیر پاک و ہند میں سوائے چند صلاطین دہلی کے باقی سارے ادوار امپیریل ازم کی فہرست میں شامل کئے جا سکتے ہیں ۔ نبی محترم حضرت محمد ﷺ کے دور کے محض بتیس سال بعد 664ء میں پہلا عرب جرنیل جس کا نام محلب تھا برصغیر میں ملتان تک آیا لیکن پھر واپس چلا گیا ۔ 690ء میں بصرہ کے گورنر حجاج بن یو سف الثقفی نے جرنیل عبدالرحمن کوکابل فتح کرنے کے لئے بھیجا جبکہ 711ء میں حجاج بن یوسف نے اپنے بھتیجے محمد بن قاسم کو دیبل بھجوایا لیکن اس سے محض 30سال کے قلیل عرصے کے بعد سلاطین ِعرب ہندوستان سے واپس چلے گئے۔ عرب سلاطین کی ان مہموں کے بعد افغانستان کے مسلم حکمرانوں نے ہندوستان پرحملوں کا لامتناہی سلسلہ شروع کیا جس کا نقطہ عروج سلطان محمود غزنوی کے انتقال کے بعد 1030ء میں آیا ۔ اس کے ایک سو باسٹھ سال بعد شہاب الدین محمد غوری نے ہندوستان میں مسلم سلطنت کی بنیاد ڈالی اور ہندوستان کو اپنا مسکن بنایا ۔ سلطان کا لقب اختیار کیا ،ان کا مدفن پوٹھوہار کے علاقے سوہاوہ میں غوری والے پیڑے نامی جگہ پر ہے۔ میں اس سلطنت کا قیام 1192ء میں ہوا ۔ مغلیہ دور اس کے چار سو سال بعد شروع ہوتا ہے۔ میں نے پاکستان کے اندر جاگیرداری اور زمینداری نظام کی جڑیں تلاش کرنے کے لئے جتنی کتابیں کھنگالی ہیں ان میں مجھے نہ تو کوئی جاگیردار ملا اور نہ ہی زمیندارنہ نظام ۔ کاشتکاری کی تاریخ اس خطے میں ہمیشہ اینٹی کوآپریٹو طرز کی رہی ہے۔ علامہ ڈاکٹر محمد اقبال نے 28مئی 1937ء کے دن قائد اعظم محمد علی جناح کے نام سودی کاروبار اور نظامِ سرمایہ داری کے خلاف ایک تاریخی خط لکھا اس خط کو تعارفی نوٹ کے ساتھ قائد اعظم نے شائع بھی کیا جس کا ایک تاریخی جملہ میں یہاں درج کر رہا ہوں ۔ علا مہ اقبال نے اپنی زندگی کے آخری سال میں تحریر کئے گئے اس خط میں لکھا”مسلمانوں نے محسوس کرنا شروع کر دیا ہے کہ پچھلے 200سالوں سے وہ روبہ تنزل ہیں ۔ عام طور پر باور کیا جاتا ہے کہ مسلمانوں کے تنزل کا ذمہ دار ہندووٴں کا سودی کاروبار اور سرمایہ داری نظام ہے“۔ علامہ اقبال نے یہ جملے ان غریبوں کے لئے لکھے تھے جن کا پاکستان ابھی نہیں بنا!

ادارتی صفحہ سے مزید