آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ 15؍ ذیقعد 1440ھ19؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
نئی دہلی (جنگ نیوز )بھارتی ریاست بہار میں شدید گرمی کے باعث 24گھنٹوں کے دوران 50سے زائد افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق محکمہ صحت کے اعلیٰ عہدیدار وجے کمار کا تصدیق کرتے ہوئے کہنا تھا کہ یہ ہلاکتیں تین اضلاع میں ہوئی ہیں جہاں درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ تھا۔وجے کمار کا کہنا تھا کہ مگادار ریجن کے تین اضلاع میں 49 افراد ہلاک ہوئے اور یہ علاقے خشک سالی کا بھی شکار ہوئے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ ‘ہفتے کی دوپہر کو اچانک یہ افسوس ناک واقعہ سامنے آیا اور ہیٹ اسٹروک سے متاثرہ افراد ہسپتال پہنچے’۔عہدیدار کا کہنا تھا کہ ‘اکثر ہلاکتیں ہفتے کی رات کو ہوئی تھیں اور چند اموات اتوار کو صبح ہوئیں’۔صورت حال سے آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اورنگ آباد میں واقع سرکاری ہسپتال میں مزید 40 متاثرہ افراد کو طبی امداد دی رہی ہے۔محکمہ صحت کے عہدیدار نے کہا کہ ‘ہیٹ اسٹروک سے متاثرہ مزید مریض ہسپتال لائے جارہے ہیں جن کا علاج ہورہا ہے اور اگر گرمی کا یہ سلسلہ جاری رہا تو مزید اموات کا خدشہ ہے’۔عہدیداروں کا کہنا تھا کہ اکثر متاثرہ افراد کی عمریں 50 برس سے زائد ہیں جو بے ہوشی کی حالت میں ہسپتال پہنچ رہے ہیں اور انہیں بخار، ڈائیریا اور متلی کی شکایت ہے۔اموات کے حوالے سے کہا گیا کہ 27 افراد اورنگ آباد، 15 افراد

گیا اور نواڈا ضلعے میں 7 افراد دم توڑ گئے۔بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار نے متاثرہ افراد کے اہل خانہ کو 4 لاکھ بھارتی روپے امداد کا اعلان کر دیا ہے۔بھارت کے وزیر صحت ہرش وردھن کا کہنا تھا کہ عوام گرمی کی شدت کم ہونے تک گھروں سے باہر نہ نکلیں، ‘گرمی کی شدت سے دماغ متاثر ہوتا ہے جس سے مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے’۔گرمی کی شدت صرف بہار میں ہی نہیں بلکہ بھارت کے شمالی علاقے بڑے پیمانے پر گرمی کی لپیٹ میں ہیں اور ریاست راجستھان میں درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کرگیا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں