آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر16؍محرم الحرام 1441ھ 16؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان قومی اسمبلی بمقابلہ بھارتی لوک سبھا

سہیل وڑائچ

ماجد نظامی

فیض سیفی، وجیہہ اسلم

حافظ شیراز قریشی، عبدلاللہ لیاقت

کون کتنا بڑا ،کتنا چھوٹا ہے؟

٭25 سے 40سال کے جوان ارکان کا تناسب دونوں ممالک میں 13فیصد ٭دونوں ملکوں میں بزرگ اراکین پارلیمنٹ کی تعداد برابر

٭پاکستان اور بھارت میں 41سے 55سال کے ممبران سب سے زیادہ ٭70 سے 100سال والے اراکین کی تعداد دونوں پارلیمان میں ایک جیسے

٭دونوں ایوانوں میں موجود اراکین اسمبلی کاجائزہ لیاجائے تو قومی اسمبلی میں درمیانی عمر کے اراکین زیادہ ہیں جن کی عمر 41سال سے 55سال ہے۔لوک سبھا میں بھی درمیانی عمر کے اراکین موجود ہیں۔

٭تجربہ کار سیاستدانوں کا کسی بھی ایوان میں ہوناقانون اور پالیسی سازی میں اہمیت رکھتاہے۔بھارتی لوک سبھا میں تجربہ کار سیاستدان پاکستانی قومی اسمبلی کے مقابلے میں زیادہ ہیں ۔

٭سترہویں لوک سبھا کا جائزہ لیاجائے تو 253ممبر پارلیمنٹ کی عمر 56سے 70سال تک ہے جو کہ لوک سبھا کا39فیصد ہے جبکہ قومی اسمبلی میں یہ تعداد میں36فیصدہیں۔

٭اگر 41سے55 سال یعنی درمیانی عمر کے امیدواروں کاجائزہ لیا جائے توبھارتی لوک سبھا اور پاکستانی قومی اسمبلی میں یہ تعداد سب سے زیادہ ہے۔بھارتی لوک سبھا میں یہ 40فیصدہے جبکہ قومی اسمبلی میں یہ تناسب 43فیصد ہے ۔یوں بھارت کے اراکین کی تعداد پاکستان کے مقابلے میں تین فیصد کم ہے۔

٭ دلچسپ اعدادوشمار کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ بھارتی لوک سبھا اور پاکستانی قومی اسمبلی میں ادھیڑ عمر یعنی بزرگ اراکین جن کی عمریں 70 سال سے زائد ہے ،بھی موجود ہیں۔یہ تعداد دونوں ایوانوں میں ایک جیسی یعنی سات فیصد ہے۔

٭دونوں ملکوں میں نوجوان سیاسی چہروں کی تعداد ہمیشہ زیر بحث رہتی ہے اور یہ تعداد کا بڑھنا ملکی سیاست میں حوصلہ افزا بھی سمجھی جاتی ہے۔بزرگ اراکین کی طرح بھارتی لوک سبھا اور پاکستانی قومی اسمبلی میں نوجوان کا تناسب ایک جیسا ہے ۔نوجوان اراکین 40 سال سے کم عمرکے ہیں اور ان کا تناسب دونوں ایوانوں میں ایک جیسایعنی 13 فیصد ہے۔

کون کیا کرتا ہے؟

٭بھارتی لوک سبھا اور پاکستانی قومی اسمبلی میں زمیندار ممبران پارلیمنٹ کا راج ٭بھارتی لوک سبھا میں تین فیصد ممبر پارلیمنٹ فنون لطیفہ سے منسلک پاکستان میں کوئی نہیں

٭بھارتی لوک سبھا میں ڈاکٹروں کی تعداد پاکستان کے مقابلے میں زیادہ ٭ پاکستانی قومی اسمبلی میں تاجر اراکین اسمبلی بھارتی لوک سبھا کے مقابلے میں دوگنا

٭پاکستانی قومی اسمبلی میں وکیل ممبران چار فیصد لوک سبھا میں سات فیصد

٭پیشے کے اعتبار سے پاکستانی قومی اسمبلی اور بھارتی لوک سبھا کا جائزہ لیاجائے تودونوں ممالک میں زمیندار ممبران کی اکثریت ہے جبکہ کاروبارکرنے والے اراکین اسمبلی دوسرے نمبر پر ہیں۔

٭بھارت میں سوشل ورکراور سیاستدان تیسرے نمبر پر اور پاکستان میں وکیل اراکین اسمبلی عددی اعتبار سے تیسرے نمبرپر ہیں۔

٭پاکستان میں 125 اراکین اسمبلی زمیندارہیںجو پاکستانی قومی اسمبلی کا46فیصد بنتے ہیں ۔اسی طرح بھارتی لوک سبھا میں 146 زمیندار اراکین یعنی27فیصد زمیندارہیں۔اس حوالے سے پاکستان میں یہ تعداد بھارت سے19فیصد زیادہ ہے۔ پاکستان میں کاروبارکا پیشہ رکھنے والے 107یعنی 39.6فیصد ہیں جبکہ بھارتی لوک سبھا میں یہ تعداد 72ہے جو محض 20فیصد بنتی ہے۔یوں پاکستان میں کاروباری اراکین کی تعداد بھارتی اراکین لوک سبھا میں دوگنا ہے۔

٭وکیل ممبران اسمبلی کی بات کی جائے تو انڈیا میں یہ تعداد 53یعنی 7فیصد ہے اور پاکستان میں یہ تعداد 11ہے جو صرف 4 فیصد بنتاہے۔یوں بھارتی لوک سبھا میں پاکستان کی قومی اسمبلی کے مقابلے میں 5گنا زیادہ اراکین وکیل ہیں۔

٭ بھارتی لوک سبھا اسمبلی میں 27اراکین ڈاکٹرز یعنی 5فیصد میڈیکل کے شعبہ سے منسلک ہیں جبکہ پاکستان میں سات (2.5فیصد) ایم این ایز ڈاکٹر ہیں۔

٭اسی طرح پاکستانی قومی اسمبلی میں 2.5فیصد یعنی سات استاد موجود ہیں اوربھارتی لوک سبھا میں 17اراکین ہیں جو کل تعداد کا 3فیصد بنتاہے۔

٭دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارتی لوک سبھا میں فنون لطیفہ سے تعلق رکھنے والے افراد3فیصد ہیں جبکہ پاکستانی قومی اسمبلی میں ایک بھی موجود نہیں۔

کون کتنا ،پڑھا لکھا ہے؟

٭بھارتی لوک سبھا میں ان پڑ ھ زیادہ پاکستانی قومی اسمبلی میں کوئی نہیں ٭بھارتی لوک سبھا میں پی ایچ ڈی اراکین کی تعداد زیادہ

٭دونوں پارلیمان میں گریجوایٹ سب سے آگے ٭ماسٹرز ڈگری والے پاکستانی اراکین قومی اسمبلی بھارتی لوک سبھا کے مقابلے میں زیادہ

٭بھارتی لوک سبھا میں انڈر میٹرک زیادہ،میٹرک پاس کی تعداد بھی پاکستان میں کم

٭اراکین قومی اسمبلی اور لوک سبھا کے ارکان کاتعلیمی جائزہ لیا جائے تو بھارت میں 2019 ء کے عام انتخابات میں کامیاب ہونے والے امیدواروں میںسب سے زیادہ تعداد بی اے پاس کی ہے جو کہ موجودہ لوک سبھا کا 41 فیصد ہے ۔اس کے مقابلے میں پاکستان میں موجودہ قومی اسمبلی میں بی اے کی ڈگری رکھنے والے ایم این ایز 55.5 فیصد ہیں۔

٭پی ایچ ڈی کی ڈگری رکھنے والے ممبرز بھارتی لوک سبھا میں زیادہ ہیں اور ان کی تعداد6 فیصد ہے جبکہ پاکستانی قومی اسمبلی میںپی ایچ ڈی ڈگری کے حامل ایم این ایز کی تعدادصرف ایک فیصد ہے ۔

٭ماسٹرز ڈگری والوں کی بات کی جائے تو ایم اے پاس اراکین پاکستانی قومی اسمبلی میں زیادہ ہیں جبکہ بھارتی لوک سبھا میں 28 فیصد ارکان کی تعلیم ایم اے یا مساوی ہے۔پاکستانی قومی اسمبلی میں انکی تعداد 32.5فیصد ہے ۔

٭2019بھارتی لوک سبھا اسمبلی میں منتخب ہونے والے 13فیصدارکان میٹرک کی ڈگری بھی نہیں رکھتے جبکہ پاکستان میں کوئی رکن بھی انڈر میٹرک نہیں ہے۔ پاکستان کی اسمبلی میں کم از کم تعلیم میٹرک ہے جو قومی اسمبلی کا 3 فیصد ہے اس کے مقابلے میںبھارتی لوک سبھا میں میٹرک پاس کا تناسب 10 فیصد ہے۔

٭ان اعدادوشمار کا جائزہ لیاجائے تو دلچسپ بات سامنے آتی ہے کہ پاکستان کی قومی اسمبلی کاتعلیمی تناسب بھارتی لوک سبھا سے زیادہ ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ ان پڑھ ایم این اے قومی اسمبلی میں کوئی بھی نہیں جبکہ لوک سبھا میں یہ تناسب کہیں زیادہ ہے۔یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ دونوں اسمبلیوں میں گریجوایٹس کی تعداد حوصلہ افزا ہے جس کے بعد امید کی جاسکتی ہے دونوں ایوانوں میں قانون سازی عوام کی بہتری کیلئے کی جائے گی ۔اسی طرح دوسرے نمبر پر دونوں ایوانوں میں ایم اے پاس ہیں جو نہ صرف قانون ساز ی میں مددگار ہوں گے بلکہ مفید تجاویز بھی سامنے لائیں گے ۔

مجرم اور ملزم کون کون ؟

٭لوک سبھا میں نصف کے قریب کریمنل ریکارڈ یافتہ راکین کا پڑائو ،پاکستان میں صرف دس فیصد ٭مجرمانہ ریکارڈ کے حامل اراکین پارلیمنٹ میں بی جے پی پہلے نمبر پر ،کانگریس کا نمبر دوسرا

٭پاکستان میں تحریک انصاف کے ایم این ایز پر زیادہ مقدمات، ن لیگ دوسرے نمبر پر ٭ 43فیصد بھارتی لوک سبھامیں مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے ممبر پارلیمنٹ براجمان

٭بی جے پی کے 116ممبر پارلیمنٹ اور کانگریس کے 29اراکین پر مقدمات قائم ہیں

٭انڈیاکی لوک سبھا میں 43فیصد اراکین پارلیمنٹ پر الزامات /مقدمات درج ہیں اور یہ تعداد تیزی سے بڑھتی جارہی ہے ۔ پاکستان میں مجرمانہ ریکارڈ کے حامل اراکین قومی اسمبلی کی تعداد محض دس فیصد ہے۔

٭تازہ ترین اعدادوشمارکے مطابق سترہویں بھارتی لوک سبھا میں 539میں سے 233اراکین پارلیمنٹ یعنی43فیصد پر مختلف نوعیت کے مقدمات درج ہیں۔سنگین نوعیت کے مقدمات 124ممبر پارلیمنٹ یعنی 23فیصد پر قائم ہیںجن میں قتل، اقدام قتل، فرقہ ورانہ منافرت کو ہوا دینے، اغوا اور خواتین پر تشدد جیسے سنگین جرائم شامل ہیں۔

٭نئی لوک سبھا میں بی جے پی کے 116یعنی 33فیصد ،کانگریس کے 29یعنی 56فیصد ، جنتا دل یونائیٹڈ کے 16میں سے 13ممبر لوک سبھا یعنی 81فیصد پر مقدمات درج ہیں۔اسی طرح دیگر جماعتوں میں ڈی ایم کے جماعت کے 41فیصد اورترنمول کانگریس کے 39فیصد ممبران مقدمات کی زد میں ہیں۔

٭بی جے پی کے 87اراکین اور کانگریس کے 19اراکین اسمبلی پر سنگین مقدمات قائم ہیں ۔جنتا دل یونائیٹڈکے 50فیصد ممبر پارلیمنٹ،ڈی ایم کے کے 26فیصد اور ترنمول کانگریس کے 18فیصد ممبر پارلیمنٹ پر سنگین نوعیت کے مقدمات درج ہیں ۔ ٭پاکستان میں 342میں سے 35ممبران قومی اسمبلی پر مختلف نوعیت کے مقدمات درج ہیں ۔

٭حکمران جماعت تحریک انصاف کے 18،مسلم لیگ ن کے 9 اور پیپلزپارٹی کے پانچ ایم این ایز کو مقدمات کا سامنا ہے۔ایم کیوایم ،بلوچستان عوامی پارٹی اور ایک آزاد امیدوار بھی مقدمات کی زد میں ہیں ۔

٭2014ء کی منتخب لوک سبھا کے543 ارکان میں سے 186 ارکان یعنی 34فیصد کے خلاف کرمنل مقدمات قائم تھے۔ ایسو سی ایشن فار ڈیمو کریٹک ریفارمز کی رپورٹ کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی کے سربراہ نریندر مودی کی جماعت میںایسے اراکین کی ریکارڈ تعداد ہے جن پر قتل، اغوا، رہزنی اور فرقہ وارانہ یا نسلی فسادات پھیلانے جیسے سنگین جرائم کے الزامات تھے۔

٭ سولہویں لوک سبھا میں جرائم کے مقدمات کا سامنا کرنے والے اراکین پارلیمنٹ کی تعداد تاریخ میں سب سے زیادہ تھی جس کا ریکارڈ موجودہ بھارتی لوک سبھا نے توڑ دیا گیا ہے۔ 2004 میں یہ تعداد24 اور 2009 میں 30 فیصد تھی ۔

اسپیشل ایڈیشن سے مزید