آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ16؍ صفرالمظفّر 1441ھ 16؍اکتوبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

’’عمر کوٹ کا قلعہ‘‘ اس سے کئی تاریخی داستانیں جڑی ہیں

پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جنہیں قدرت نے بیش بہا نعمتوں سے نوازا ہے، وطن عزیز میں جہاں عظیم ترین برفانی چوٹیاں، طویل و عریض اور دنیا کے عظیم ترین گلیشئر، قدرتی چشمے، خوبصورت جھیلیں، بل کھاتے دریا، ریگستان، معدنیات، جنگلات اور ہر طرح کے موسم شامل ہیں، وہاں ملک کے مختلف علاقوں میں زمانہ قدیم میں مختلف حکمرانوں کے ادوار میں تعمیر کئے جانے والےپر شکوہ تاریخی قلعے بھی موجود ہیں، جو کہ نہ صرف ہماری تاریخ بلکہ ثقافت کا بھی ایک اہم حصہ ہیں۔ 5ہزار سالہ قدیم تہذیب کی حامل سندھ دھرتی پر بھی صدیوں قدیم 3بڑے قلعے ہیں، جن میں کوٹ ڈیجی، رنی کوٹ اور عمر کوٹ شامل ہیں۔ آج ہم آپ کو سندھ دھرتی پر واقع مغل بادشاہوں کی وجہ سے معروف ہونے والے تاریخی قلعے عمر کوٹ کے بارے میں بتارہے ہیں۔ عمر کوٹ کے قلعے کے مناظر دیکھنے والوں کو آج بھی مبہوت کردیتے ہیں، یہ قلعہ اپنی بناوٹ، خوبصورتی اور کشش کی وجہ سے نہ صرف بر صغیر بلکہ دنیا بھر میں مقبول ہے۔ سندھ کے ضلع عمرکوٹ کی وجہ شہرت تو اس دھرتی پہ مغل شہنشاہ اکبر کی پیدائش اور عمر ماروی کی داستان ہے مگر عمرکوٹ کا تاریخی قلعہ یہاں کی ہمیشہ پہچان رہا ہے۔ اس قلعہ سے عمر ماروی کی مشہور لوک کہانی بھی وابستہ ہے۔ اس قلعہ کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ عمرکوٹ قلعے کو اکبر اعظم سے تعلق کی وجہ سے اسے دور اکبری کی یادگار بھی کہا جاتا ہے۔

تاریخ کے اوراق یہ بتاتے ہیں کہ عمر کوٹ کا چھوٹا سا قصبہ جو ریت کے ٹیلوں کے کنارے پر سندھ کے مشرقی صحرا کو الگ کرتا ہے، یہاں شہنشاہ جلال الدین محمد اکبر کی جائے پیدائش ہے۔ یہ جگہ ایک چھت دار احاطہ سا ہے جو1898 میں مقامی زمیندار سید میر شاہ نے تعمیرکرایا تھا اس کے مشرقی جانب پتھر کا گنبد موجود ہے۔ یہ جگہ بادشاہ اکبر کے اعزاز میںیادگار کے طورسے بنائی گئی جو 1542ء میں یہاں پیدا ہوا اس نے 49 سال 1556-1606ء تک ہندوستان پر حکومت کی، یہ تعمیر پختہ اینٹوں سے کی گئی ہے، جس کے اوپر گنبد نما چھت ہے جو 50x50 سائز میں عمومی سی تعمیر ہے۔ عمر کوٹ کے قلعے میں قائم میوزیم میں موجود ہتھیار، زیورات، سکے، شاہی فرمان اور خطاطی کے نمونوں کےعلاوہ مجسمے قدیم دور کی داستان سناتے ہیں۔ تاریخ کے دریچوں میں جھانکا جائے تو بعض لوگ کہتے ہیں کہ موجودہ قلعہ پہلے یہاں نہ تھا بلکہ اکبر بادشاہ کی جائے پیدائش والے پتھر کے پاس تھا، یہ غلط ہے۔ قلعہ اصل میں موجودہ مقام پر ہی موجودتھا،جس کے ثبوت کے لئے یہ کافی ہے کہ منجنیق کے گولے اسی قلعہ کے اندر سے ملے ہیں۔ اکبر بادشاہ کی جائے پیدائش کے پتھر کے اطراف میں جو چھوٹی گڑھیوں کی بنیادوں کے نشانات ملتے ہیں وہ ان سرداروں کی چھوٹی چھوٹی گڑھیاں تھیں جو اس پایہ تخت کے ارد گرد تعمیر کروایا کرتے تھے۔

تاریخی حوالوں سے پتہ چلتا ہے کہ عمر کوٹ یا امر کوٹ کا قلعہ 14 ویں صدی عیسوی میں عمر کوٹ کے پہلے حاکم، عمرسومرونے تعمیر کروایا تھا، جو عمر، ماروی کی داستان کا مرکزی کردار بھی تھا۔ تیرہویں صدی کے آخر میں راجپوت حکمران پرمار سوڈھو نے اس شہر پر اپنی حکم رانی قائم کی۔ جب مغل بادشاہ ہمایوں، نادر شاہ سے شکست کھا کرعمرکوٹ پہنچا تھا تو اس کا استقبال کرنے والا رانا پرساد، اسی پرمار سوڈھو کی اولاد میں سے تھا۔ عمر کوٹ میں جو بھی حکومت کرتاتھا، اُس کو 'رانو کا خطاب دیا جاتا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ راجپوتوں نے یہ قلعہ کلہوڑا حکمرانوں کے حوالے کر دیا۔ کلہوڑوں نے اسے جودھپور کے راجا کو بیچ دیا اور تالپور خاندان نے جب کلہوڑوں سے اقتدار چھین کرسندھ پر اپنی حکم رانی قائم کی توانہوںنے 1813 میں جودھپور کے حکم رانو ں سے یہ قلعہ واپس لے لیا۔ انگریزوں نے جب 1843 میں سندھ فتح کیا تو یہ قلعہ انگریز سرکارکے قبضے میں آگیا۔

جب میاں نور محمد کلہوڑہ حاکم سندھ نے موجودہ قلعہ نئے سرے سے تعمیر کروایا تو آس پاس جو اینٹ اور پتھر ملا وہ سب لاکر اس قلعہ میں لگادیا، اس طرح قلعہ کے سامنے جو دو پتھر ہندی تحریر والے نصب ہیں وہ بھی کہیں سے دستیاب ہوئے ہیں جو یہاں بے ترتیب چن دیے گئے تھے۔ ان پتھروں کی تحریر کا موجودہ قلعہ کی تاریخ سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔ کچھ پتھر میاں نور محمد کلہوڑہ نے حیدرآباد کی طرف سے بذریعہ کشتیاں منگوائے تھے جو اس کی اپنی تخلیق کروائی ہوئی نہر ’’نور واہ‘‘ کے ذریعے لائے گئے تھے۔ ہوسکتا ہے کہ حیدرآباد کے یہ پتھر گنجے ٹکڑ (پہاڑ) کے کسی مندر یا غار سے ملے ہوں، جہاں زمانہ قدیم میں ہندوئوں کا تعلق تھا۔ بعض تاریخ نویسوں کے نزدیک یہ قلعہ اصل میں امر کوٹ (امیر کوٹ) تھا چونکہ یہ امیر سرداروں اور حاکموں کی جائے سکونت رہا ہے اس لئے اسے امیر کوٹ کا نام دیا گیا تھا۔ کچھ محققین کا خیال ہے کہ امر کوٹ اور عمر کوٹ دو الگ الگ شہر تھے جب کہ کچھ لوگوں کے خیال میں یہ ایک ہی قلعہ ہے جس کو پہلے امر کوٹ اور بعد میں عمر کوٹ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ عمر کوٹ کے قلعہ، تعلقہ اور ضلع عمر کوٹ کے بارے میں تاریخی کتب سے پتہ چلتا ہے کہ میاں نور محمد کلہوڑونے اس قلعہ میں پناہ لی تھی۔ 1780ء میں یہاں عبدالنبی کلہوڑو نے راجہ جودھپور کی مدد سے میر بجار کو قتل کیا اور اس کے صلے میں یہ قلعہ راجہ جودھپور کو دے دیاگیا تھا۔راجپوتوں سے یہ قلعہ میر غلام علی خان تالپور نے 1813ء میں واپس لیا۔ 1843ء میں اس قلعہ پر برطانوی افواج کا قبضہ ہوگیا۔

عمر کوٹ قلعہ مستطیل شکل میں 946x784 فٹ ہے جوپکی اینٹوں اور پتھروںسے بنایا گیا ہے۔ اس کی اندرونی اور بیرونی دیواریں مخروطی ہیں، اس کے چار گولائی دار برج ہیں، اس کی بیرونی چہار دیواری17فٹ وسیع ہے جو کہ 45 فٹ تک اونچی ہےجبکہ دیوار کی موٹائی 8فٹ ہے۔ اس قلعہ سے شہر کی نگرانی کے لیے ایک بلندبرجی بنائی گئی تھی ،جہاں کبھی 7توپیں نصب تھیں۔ اس قلعہ میں محکمہ آثار قدیمہ پاکستان نے 1968ء میں ایک عجائب گھر قائم کیا ہے، بعد میں حکومت کی طرف سے سرکٹ ہائوس بھی قائم کیا گیا۔بعض مؤرخین اس قلعے کے بارے میں رقم طرازہیں کہ اس قلعہ کی بنیاد کو عمر سومرو کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے، جس نے 1355-1390ء تک یہاں حکومت کی جبکہ کچھ مورخین اسے امر کوٹ کا نام دیتے ہیں اور دلیل پیش کرتے ہیں کہ یہ قلعہ چودہویں صدی عیسوی سے بھی پہلے کا ہے، ان کے مطابق جب امر کوٹ کے راجہ سوڈھا کی بیٹی سے پدونشی راجہ مانڈم رائے کی شادی ہوئی اس وقت 616 سمت میں راجہ مانڈم رائے کی گدی تھی جو 559ء کا زمانہ بنتا ہے۔ بہرحال امر کوٹ اس وقت موجود تھا اس طرح عمر کوٹ صوبہ سندھ کا ایک ضلع ہے جو حیدرآباد سے مشرق کی طرف 140 کلو میٹر کے فاصلہ پر ہے، عمر کوٹ کا بانی عمر سومرہ دوم، سومرو قبیلے کا سردار تھا جس نے سندھ پر 1355-1390ء تک حکومت کی۔ مورخین کے مطابق عمر سومرہ کا پایہ تخت تھرڑی تعلقہ ماتلی میں تھا جو اس وقت عمر کوٹ کے نام سے جانا جاتا تھا اور یہ تعلقہ اس وقت راجہ میواڑ کے زیر کنٹرول تھا۔ عام طور پر قیاس کیا جاتا ہے کہ عمر کوٹ شہر، راجہ امر سنگھ نے 11ویں صدی عیسوی میں بسایا تھا۔

مغل بادشاہ ہمایوں 1542ء میں راجہ بیر کی دعوت پر عمر کوٹ آیا، تاریخ معصومی کے مطابق راجہ نے اپنے درباریوں کے ساتھ ہمایوں کا استقبال کیا اوراس کی قدم بوسی کے بعد، اپنی رہائش گاہ اس کے لئے خالی کردی۔ بادشاہ نے قلعہ کے باہر چند دن قیام کیا اور بلقیس مکانی حمیدہ بانو بیگم کو قلعہ کے اندر بھیج دیا جہاں اکبر15 اکتوبر1542ء میں پیدا ہوا۔ یہ امر بھی تحقیق طلب ہے کہ اکبر قلعہ میں پیدا ہوا یا قلعہ سے ڈیڑھ کلو میٹردور شمال کی جانب ایک چھت دار جگہ جو کہ مقامی زمیندار میر شاہ نے 1898ء میں بنوائی تھی۔ اکبر عمر کوٹ کے قلعہ میں ہی پیدا ہوا جیسا کہ گلبدن بیگم نے ہمایوں نامہ میں بیان کیا ہے جسے مورخین نے بھی صحیح ثابت کیا ہے۔ عمر کوٹ قلعہ زیادہ تر سوڈھو قبائل (راجپوت) کے زیر تصرف رہا۔ عمر کوٹ یا امر کوٹ کو پامار سوڈھا راجہ عمر سومرہ کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔ یہ قلعہ اتنا ہی پرانا ہے جتنا کہ عمر کوٹ مگر دیکھنے میں قلعہ کے آثار بتاتے ہیں کہ یہ اتنا پرانا نہیں، بعض مورخین کے مطابق یہ قلعہ نور محمد کلہوڑا نے 1746ء میں بنوایا، یہ کسی طرح بھی قرین قیاس نہیں۔

بعض مورخین کی رائے ہے کہ میاں نور محمد کلہوڑانے پرانا قلعہ گرواکر یہ نیا قلعہ بنوایا اور اس کی دلیل یہ دیتے ہیں کہ اکبر کی جائے پیدائش کے مقام پر قلعہ تھا، ماہرین تاریخی آثار کو اس جگہ پر قلعہ کے کوئی نشان نہیں ملے۔ یہ قلعہ لمبائی میں 292 میٹر، چوڑائی 228 میٹر جب کۃ اس کی بیرونی فصیل 3میٹر موٹی جو قدرے ترچھی اندرونی اور بیرونی طور پر ہیں۔ اس کے چاروں کونوں پر 4قدرے گولائی دار برج ہیں۔ ان میں سے ایک برج تو مکمل طور پر ختم ہوچکا ہے اور دوسرا بھی گرنے والا ہے۔ ان برجوں کی سامنے کی دیواریں سورج کی تپش سے پکی ہوئی اینٹوں کی ہیں۔ اس کا داخلی دروازہ شاہی دروازہ کہلاتا ہے جو قلعہ کی مشرقی دیوار میں ہے۔ نقشہ کے مطابق یہ خفیہ راستہ ہے اوپر محراب سے یہ حصہ جو بعد کی تعمیر ہے داخلی دروازہ کے دونوں برج گھوڑے کے سموں سے مشابہ ہیں، جو رائے رتن سنگھ کے گھوڑے کے سموں سے منسوب ہے۔ روایت کے مطابق جب رائے تن سنگھ کو قلعہ میں پھانسی دی جارہی تھی تو اس کے گھوڑے نے دیوار پھلانگنے کی کوشش کی تھی۔ قلعہ کی شمال مغربی طرف سنگھ کھٹو زرد پتھر کی آٹھ ستونوں پر ایک چھت کے نیچے ایچ دی واٹسن کی قبر ہے جو یہاں تھر اور پارکر ضلع کا ڈپٹی کمشنر تھا۔ اس کی قبر پر انگریزی زبان میں تین کتبے لگائے گئے ہیں۔ عمر کوٹ کے اس قدیمی و تاریخی قلعہ کے حوالے سے چند قابل ذکر کرداروں کی تفصیلات درج ذیل ہیں۔

قلعہ پر پرماروں کاتسلط

عمر کوٹ کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہاں پرماروں نے بھی حکومت کی ہے۔ اس حوالے سے ڈھاٹ کی تاریخ کا ابتدائی حصہ کھل کر سامنے نہیں آیا مگر بعض تاریخ نویسوں نے کچھ اشارے دیے ہیں کہ چھٹی صدی عیسوی میں یہاں پر مار راجپوتوں کی حکمرانی تھی، چھٹی صدی کے آخر میں پونگل کے بھائی راجہ منڈ رائو نے امر کوٹ کے پرمار راجہ سوڈہ کی بیٹی سے شادی کی تھی، دسویں صدی عیسوی کے آخر میں جوگراج پرمار امر کوٹ کا راجہ تھا، یہ راجدھانی اسے باپ دھرنی براہ کی طرف سے مارواڑ کی تقسیم کے وقت ملی تھی۔ جیسلمیر کی تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ گیارہویں صدی عیسوی کے شروعات میں بھی امر کوٹ پر پرماروں کی حکومت تھی۔ گیارہویں صدی عیسوی کے درمیان امر کوٹ پر سومرہ خاندن کی حکومت تھی جو خود پرمار راجپوتوں کی ایک شاخ ہے۔

راجدیو

اس حوالے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ بامڑ ولد دھری براہ جو آبو پہاڑ کا حاکم تھا اس کا بیٹا سوڈھو اپنے باپ بامڑ کی رہائش گاہ رادھنپور سے نکل کر 1125ھ میں سندھ کے سومرو حاکم کے پاس چلا آیا جس نے مہربانی کے طور پر اسے رتو کوٹ (دریائے نارا کے کنارے ڈھلیار کے نزدیک) کی حکومت سونپ دی۔ سوڈھو اور اس کا بیٹا چاچکدیو، رتو کوٹ پر ہی قناعت کئے رہے مگر چاچکدیو کے بعد جب راج دیو عرف رائے دیور تو کوٹ کی گدی پر بیٹھا تو اس نے 1226ء میں جنپھ چارن کے ذریعے امر کوٹ پر حملہ کرکے اس پر قبضہ کرلیا۔

پرگنہ دیرک

دھارا برش حاکم امر کوٹ سے سومرو حاکم سندھ دودو (سوم) نے حکومت چھین لی۔ اس دن سے مسلسل سومرے حاکم امر کوٹ پر حکومت کرتے چلے آئے ورنہ اس سے قبل جنوبی تھر جسے دیرک پرگنہ کہا جا تا تھا اس پر سومروخاندان کی حکومت تھی۔

بھیل

دھارا برش سے حکومت چھن جانے کے بعد اس کا بیٹا درجن شال امر کوٹ میں ہی رہا مگر چھوٹا بیٹا آس رائے نقل مکانی کرکے پارکر میں مقیم ہوگیاجہاں اس نے نگر پارکر کو نئے سرے سے ترقی دی۔ امر کوٹ اور پارکر کا علاقہ زمانہ قدیم سے ہی آباد ہے مگر وسطی تھر کبھی آباد اور کبھی غیر آباد رہا ہے۔ وسطی تھر میں لٹیرے اور چور پناہ لیتے تھے۔ راجپوتوں کے آنے کے بعد بھیل قبیلہ بھی آیا جس کے جوانوں نے ان کے لئے فوجی دستے کا کام دیا، اس قبیلہ نے وسطی تھر میں کنویں کھودے، گائوں آباد کئے اور کھیتی باڑی کرنے لگے۔

ٹیلہ شادی دی پھلی دیہہ خدا بخش ضلع عمرکوٹ

یہ ٹیلہ شادی پھلی کے نام سے مشہور ہے جو دیہہ خدا بخش ضلع تھر پارکر کے پاس ہے یہ ٹیلہ زمانہ قبل از تاریخ کا ہے، اس ٹیلہ کی حالت تسلی بخش نہیں، یہاں اب تجاوزات کی بھرمار بھی ہے۔

قلعے کے مرکز میں ایک وسیع برج بنا ہوا ہے۔ ایک سو دس فٹ اونچے اس برج پر پہنچنے کے لیے آپ کو ساٹھ کے قریب سیڑھیاں چڑھنی پڑتی ہیں، اور جب آپ وہاں پہنچ جاتے ہیں تو آپ اس قلعے کی ویرانی اور گرتی ہوئی فصیلوں کو اچھے طریقے سے دیکھ سکتے ہیں۔ مشرق کی طرف برٹش راج کی 'کورٹ کچہری، 'تپیدارز ہال، 'ہیڈمنشی کورٹ کی وہ ٹوٹی پھوٹی عمارتیں ہیں جہاں اُس زمانے میں نہ جانے کیسے کیسے کیس چلے ہوں گے، کیسے کیسے فیصلے آئے ہوں گے۔ کہتے ہیں کہ اس قلعے کہ اندر ایک تالاب تھا جس کو پھانسی گھاٹ کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ یہاں کے جاگیردار شہزادہ چندر سنگھ کے دادا رتن سنگھ کو انگریزوں نے پھانسی دی تھی۔پاکستان کے قیام کے بعد اس تالاب کو بند کر دیا گیا۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ برج کلہوڑا حکمرانوں نے بنوایا تھا مگر اس میں مٹی بھر کر انگریزوں نے مکمل کیا، اس برج پر ایک توپ نصب ہے۔کہا جاتا ہے کہ یہ توپ کلہوڑا دور کی بنی ہوئی ہے۔ اس پر فارسی میں 'این توپ کارخانہ سرکار خدا یار خان بہادر عباسی کاتب جنگ 1140' تحریر ہے، جبکہ توپ کی نالی پر دوسری جگہ 'عمل مصطفا پک کنندہ ہے۔ ان توپوں کوچلانےکے لیے مقامی طور پر تیار کردہ بارود استعمال ہوتا تھا۔

صدیوں قدیم اس پرشکوہ قلعہ کو جو کئی صدیوں تک اپنے حکم رانوں کی شان و شوکت کی عکاسی کرتا تھا ،آج امتداد زمانہ کے ہاتھوںرو بہ زوال ہے۔ حکومت سندھ اورمحکمہ قدیم آثارکی عدم توجہی کے باعث صدیوں پرانی تاریخی عمارت کے نقوش معدوم ہوتے جارہے ہیں۔ قلعے کی بلند و بالافصیلیں زمیں بوس ہو رہی ہیں جبکہ اس کے اندر صدیوں پرانی تعمیرات بھِی مٹی کا ڈھیر بن چکی ہیں ایک اونچا چبوترا اور توپ موجود ہے مگر وہ بھی اپنی اصل ہیئت کھو تے جا رہے ہیں۔ قلعے کے اندر ایک میوزیم بھی واقع ہے جہاں مغلیہ، سومرو، کلہوڑا اور قدیم ادوار کے بادشاہوں کے زیر استعمال ہتھیاراور جنگی سامان موجود ہے لیکن یہ بھی زنگ آلود اور خستہ حالت میں ہے۔ 

مغلیہ ادوار کی تصاویر،تحریریں،قدیم مورتیاں اور دیگر نسخے بھی زمانے کی دست برد کا شکار دکھائی دیتی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اس جانب خصوصی توجہ مبذول کرکے تاریخی قلعے اور تاریخی ورثہ کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کرے۔

وادی مہران سے مزید