آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ8؍ ربیع الثانی 1441ھ 6؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

قارئینِ کرام! آپ کو یقیناً یاد ہوگا کہ ہم نے 24 اگست 2008ء کو ’’سنڈے میگزین‘‘ سےایک نئےسلسلے ’’ناول‘‘ کا آغاز کیا اور یہ سلسلہ شروع ہوا، ہاشم ندیم کے ناول ’’عبداللہ‘‘ سے۔ جس کے منفرد موضوع، دل کش اسلوب نے کئی نئے ٹرینڈز سیٹ کیے، خصوصاً نوجوان نسل میں قبولیتِ عام کے ایسے شان دار ریکارڈ قائم کیے کہ لگ بھگ 30ہفتوں تک قارئین کی ایک کثیر تعداد کو جیسےسحر زدہ سا کیے رکھا اور پھر اُن ہی کے بے حد اصرار پر مجبوراً ہمیں کچھ ہی عرصے میں (7جون 2009ء سے) عبداللہ کا سیکوئیل ’’عبداللہ II‘‘ کے نام سے شروع کرنا پڑا۔ 44 ہفتوں پر محیط ’’عبداللہ II‘‘ کا یہ سفر 4 اپریل 2010ء کو اختتام تک پہنچا، تو اُس کے بعد بھی وقتاً فوقتاً کئی ناولز جریدے کی زینت بنے،لیکن ہمیں یہ ماننے میں ہرگز کوئی عار نہیں کہ ’’عبداللہ‘‘ جیسی شہرت و نام وَری کسی کے حصّے میں نہ آسکی۔

بہرکیف، آج سے ہم ایک بار پھر ’’عبداللہ‘‘ کے ایک نئے سفر ’’عبداللہIII‘‘ کا آغاز کررہے ہیں کہ عشقِ مجازی سے عشقِ حقیقی تک یہ ایک سفرِ مسلسل ہے۔ اس دنیا کے بالکل متوازی چلتی ایک دوسری دنیا کے کئی سربستہ رازوں، بھیدوں، اسرار و رموز کا پردہ چاک کرتے اس ناول کا مرکزی خیال اور بنیادی پلاٹ آج بھی وہی ہے کہ ’’جب جب، جو جو ہونا ہوتا ہے، تب تب سو سو ہوتا ہے۔‘‘ ناول کے مرکزی کردار، نوجوان، ’’عبداللہ‘‘ کا سفرِ مسلسل اُسے جس ’’جہانِ تصوّف‘‘ سے روشناس کرواتا ہے، اُس میں ہر واقعے کی کڑی، دوسرے سے مربوط نظر آتی ہے اور تمام واقعات کا تسلسل یہی درس دیتا ہے کہ ’’وہ جو ہماری شہ رگ سےبھی قریب ہے، وہی سب کا حبیب ہے اور ہم سب کو یہاں کسی خاص مقصد کی کھوج اور تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہے‘‘ تو حاضر ہے، عبداللہ کے نئے سفر کا پہلا پڑائو۔ پڑھیے اور سر دُھنیے۔ ہمیں اپنی آراء سے آگاہ کرنا ہرگز مت بھولیے گا۔

(ایڈیٹر، سنڈے میگزین)

ہاشم ندیم نوجوان نسل کے پسندیدہ، مُلک کے معروف و منفرد ناول نگار، ڈراما رائٹر، پروڈیوسر، ہدایت کار اور فلم نگار بھی ہیں۔ اُن کے ناولز ’’خدا اور محبت‘‘ اور ’’بچپن کا دسمبر‘‘ نے بین الاقوامی پزیرائی حاصل کی، توجنگ، سنڈےمیگزین میں شایع ہونے والے ناولز، عبداللہ، عبداللہ ll، مقدّس اور پَری زاد کو بھی وقت کے مقبول ترین ناولز کا درجہ حاصل ہوا۔ متعدد سُپرہٹ ڈراموں،ایک بین الاقوامی شہرت یافتہ فلم کے خالق ہونے کے علاوہ ایک محبت اور سہی اور صلیبِ عشق جیسےناولز کے بھی تخلیق کار ہیں۔انہیں، ان کی ان ہی ادبی خدمات پرحکومتِ پاکستان نےتمغۂ حُسن کارکردگی سے بھی نوازا۔ سول سروس سے وابستہ ہیں اور فی الوقت بطور سیکریٹری اطلاعات، حکومت بلوچستان خدمات انجام دے رہے ہیں۔

رومی نے کہا تھا کہ ’’مَیں نے بس اتنا جانا ہے کہ ہر ذی روح کو موت کا مزہ چکھنا ہوگا، البتہ اُن میں چند ہی زندہ وہ ہوں گے، جو جینے کا لُطف بھی محسوس کر پائیں گے۔‘‘ اب جانے میرا شمار کس قطار میں ہوتا تھا۔ ہاں، صحرا میں کھڑی اِس درگاہ کے دروازے پر لمبی لمبی قطاریں ہی تو بنی ہوئی تھیں، سائل پریشان حال لُٹے پِٹے اپنی اپنی مَنتّوں کی گٹھریاں اپنے کاندھوں پر اٹھائے جانے کب سے تپتی دھوپ میں کھڑے اپنی باری کا انتظار کررہے تھے۔ درگاہ کے صحن میں اپنے آپ میں گُم مجذوب نے جھٹکے سے سراٹھایا اور ہم سب پر ایک نگاہِ بے نیاز ڈالی۔ تیز ہوا چلی، تو درگاہ کے صحن میں گِرے خشک پتّے میری زرد سوچوں کی طرح بکھرنے لگے، لمبی لَٹوں والے درویش نے سراٹھایا، ’’جانتی ہو دنیا میں ہوس کی بہت سی اقسام ہیں، مگر اُن میں سب سے زیادہ مہلک قسم وہ ہے، جسے دونوں فریق آخر تک محبت سمجھتے رہتے ہیں۔‘‘ درویش کے قدموں میں بیٹھی لڑکی ہاتھ جوڑ کر روپڑی، ’’میں صدیوں کی مسافت طے کر کے یہاں تک پہنچی ہوں صاحب! مجھے یوں نہ دھتکارو۔‘‘ لڑکی کے جُڑے ہاتھوں سے کنگن چَھن کی آواز کے ساتھ اُس کی نازک کلائیوں تک نیچے ڈھلک آئے۔ سُنا تھا عشق گھائل کرکے ادھ مَرا چھوڑ دیتا ہے، مگر ہجر ہمیں لاغر کرتے کرتے رگوں سے زندگی کی آخری بوند تک نچوڑ لیتا ہے۔ اُس کے ڈھیلے کنگن اس کے ہجر کی داستان سُنارہے تھے۔ وہ پھر گِڑگڑائی، ’’اُسے پانے کے لیے میں ہر منّت چڑھانے کو تیار ہوں۔ کہو تو قونیا چلی جائوں۔ رومی کے مزار پر، یا سورج والے شمس تبریز کی زیارت کر آئوں۔ جوتم کہو سائیں۔‘‘ مجذوب نے لڑکی کی ڈوبتی آنکھوں میں جھانکا۔ ’’اِس کائنات کی سب سے قدیم اور مقدّس ترین درگاہ توتم اپنے ساتھ لیے پھرتی ہو، جہاں یہ سارے رومی، شمس، مجذوب اور ولی تمہیں جمع ملیں گے۔ پھر بھلا دربدر بھٹکنے کی کیا ضرورت ہے۔ بس دن میں ایک بار اِسی درگاہ کی زیارت کرلیا کرو۔ ساری مَنتّیں پوری ہوجائیں گی۔‘‘ وہ حیرت سے بولی، ’’ایسی کون سی درگاہ ہے صاحب…؟‘‘ درویش کے لب سرسرائے، ’’تمہارا دل۔‘‘ لڑکی روتی ہوئی وہاں سے پرے سِمٹ گئی۔ اب میری باری تھی۔ ملنگ نے بے نیازی سے پوچھا، ’’ہاں بولو، تم کیوں دربدر بھٹک رہے ہو؟ تمہیں کسی ایک جگہ ٹِک کر چین کیوں نہیں آجاتا۔‘‘ میری آواز بلند ہوگئی، ’’کیوں کہ مَیں کسی کی تلاش میں ہوں۔ وہ کہاں کھوگئی ہے، کیا میرا جذبہ سچا نہیں ہے یا پھر یہ بھی میری ہی بصارت کا قصورہے؟‘‘ مجذوب غصّے سے چلّایا، ’’کس بصارت پر غرور کرتے ہو۔ بس یہ دو آنکھیں، جو چند گز پرے بنی اِس دیوار کے پار بھی نہیں دیکھ سکتیں، جو خود روشنی کی محتاج ہیں اور ذرا سے اندھیرے میں اندھی ہوجاتی ہیں۔ بس، یہی بصارت ہے تمہارے پاس۔ عشق کُھلی آنکھ والوں کا کھیل نہیں۔ آنکھیں تو بس جسم ہی کو کھوج سکتی ہیں۔ اُس کو تلاشنا ہے،توآنکھیں بند کرکےڈھونڈنا سیکھو۔ بند آنکھ سےدیکھنے والے فلک سےسمندروں کے فرش تک سب دیکھ لیتے ہیں۔ اُن کے سامنے دنیا کے یہ سب بینا، نابینا ہیں۔ تم بھی اس ظاہری دنیا کے متوالے ہو۔ جائو چلے جائو یہاں سے۔ پہلے اپنی بصارت کا علاج کرائو۔‘‘ درویش نے مجھے زور سے دھکا دیا اور میں پھسل کر خشک کنویں کی منڈیر سے نیچے گہرائی میں گرتا چلاگیا۔ تب ہی میری آنکھ کُھل گئی۔

٭…٭…٭

سینٹرل جیل کے سنتری نے جیل کے گھنٹے پر چار ضربیں لگائیں ’’ٹن،ٹن،ٹن،ٹن‘‘ مطلب جیل کے گجر نے چاربجنے کا اعلان کردیا تھا۔ مَیں خواب سے جاگا، توجسم پسینے سے شرابور تھا۔ پچھلے سات سال سے مَیں اس جیل میں قید تھا اور اِن سات سالوں میں شاید ہی کوئی رات ہو، جب میں نے یہ خواب نہ دیکھا ہو۔ اچانک پرلی طرف سزائے موت کے قیدیوں والی چار دیواری میں سےکسی قیدی نےتان لگائی ؎ یارا عشق جِنھاں نوں لگ جاندے.....حال پُچھ نہ اُنہاں دیوانیاں دے.....قیدی عشق دے بگّے نہیں چُھٹ دے.....قیدی چُھٹ جاندے نے جیل خانیاں دے۔

جانے وہ کون تھا، عشق کا اسیرتھا یا صرف اُس جیل کا قیدی؟ بس اتنا پتا چل سکا تھا کہ کوئی ’’بگھّا‘‘ نامی قیدی تھا، جسے گزشتہ سال ہی سزائے موت سُنائی گئی تھی اور اب وہ اپنی پھانسی کے انتظار میں سزائے موت کی کوٹھریوں میں سے کسی ایک کوٹھری میں اپنی زندگی کے آخری دن کاٹ رہاتھا۔ کتنا عجیب انتظار تھا، بھلا موت کا بھی کوئی انتظار کرتا ہے۔ یہ ہنر تو البتہ عشّاق سے منسوب ہے، جو اپنے محبوب کی آمد کی آس میں ساری عُمر سولی سے لٹکے رہتے ہیں۔ مجھے جیل آنے کے بعد پتاچلا کہ جیل کے دن، برس اور رات، صدیوں سے لمبی ہوتی ہے۔ پل جیسے گھنٹے اور گھنٹے، مہینوں کی طرح گزرتے ہیں۔ بیرک کی دیواریں، لوہے کی جالی اور سلاخیں لگے روشن دانوں سے اندر آنے والی قیدیوں کے حصّے کی چارخانہ دھوپ دیوار سے سرکائے نہیں سِرکتی۔ شاید قیدی کے لیے وقت کا پیمانہ بھی بدل دیاجاتا ہے تاکہ اذیّت اور تنہائی کا احساس دوگنا، چارگنا ہوتا رہے اور انتظار کا تو براہِ راست تعلق ہی وقت سے جُڑا ہے۔ پھر چاہے انتظار موت کا ہو یا اپنے محبوب کا۔ وقت، لمحے، گھڑیاں سبھی جلاّد کا رُوپ اختیار کرلیتے ہیں، ستم گربن جاتے ہیں۔ قیدی کی سزا بھلا صرف قید ہی کب ہوتی ہے؟ ایسی کئی اَن دیکھی اذیّتیں اور عذاب اُس کا مقدر بن جاتے ہیں۔ گویا سارا زمانہ ہی اُس کا بیری ہوجاتا ہے۔

مَیں اس بڑی جیل تک کیسے پہنچا اور یہ جگ میرا دشمن کب ہوا۔ یہ بھی ایک لمبی کہانی تھی، کون جانتا تھا کہ وقت ایسی کروٹ لے گا اور سارے اپنے بچھڑ جائیں گے۔ مقدر ہمیشہ بے خبری ہی میں وار کرتا ہے، جب ہمیں لگ رہا ہوتا ہے کہ سب ٹھیک ہوچلا ہے۔ کہتے ہیں عقل مند دشمن یلغار کے لیے علی الصباح حریف فوجوں پر چڑھائی کرتے ہیں، جب وہ ساری رات کی تھکن کے بعد ذرا دیر کو آنکھیں مُوند لیتے ہیں۔ میری بربادی کا آغاز بھی رات کے اُسی پہر سے ہوا تھا، جب رات فجر سے ملنے کو تھی۔ وہ میرے ساتھ تھی، وہی جسے میں نے ایک بار درگاہ کی سیڑھیاں چڑھتے دیکھا تھا اور اُسی لمحے میرا دل خود ایک درگاہ میں تبدیل ہوگیا تھا۔ مَنتّوں،مُرادوں والی درگاہ، عرضیاں ڈالنے والا مزار، بھینٹ چڑھانے والی خانقاہ۔ میرا دل بھی اسی زیارت کی بھینٹ چڑھ گیا اور میں نے سارے زمانے سے لڑ کر اسےجیت ہی لیا۔ جوگی بنا، بنجارا ہوا، فقیر بنا، آوارہ ہوا، مگر دل کو اُسی کی دُھن پرسر دھننا آتا تھا۔ اُس روز وہی میرے ساتھ تھی، ہاں وہی زہرا، اِن چار حروف سے میرے دل کے اندر پَل بھر میں ہزاروں چاند جانے کیسے اور کیوں روشن ہوجاتے تھے۔ میں یہ راز کبھی جان نہیں پایا۔ میری اور زہرا کی رخصتی طے ہوچکی تھی اور بس چند روز میں ہی اس کی ڈولی میرے آنگن میں اترنے والی تھی۔ مجھے یاد ہے، اُس دو فروری کی شام، مَیں درگاہ سے نکلنے لگا، تو بہت تیز ہوا چل رہی تھی۔ مَیں گھر کے بجائے زیادہ تر درگاہ ہی پر وقت صرف کرتا تھا، کیوں کہ حاکم بابا اور مولوی خضر کے جانے کے بعد ساری ذمّے داریاں میرے ہی سَر تھیں۔ جانے اُس روز موسم کے تیور مجھے بدلے بدلے کیوں دکھائی دے رہے تھے۔ شاید کچھ ’’اَن ہونیاں‘‘ موسم کے مزاج بھی بدل سکتی ہیں۔ مَیں نے درگاہ کے دروازے کی طرف قدم بڑھایا ہی تھا کہ ایک گرج دار سی آواز سُنائی دی۔ ’’کہاں جارہے ہو؟‘‘ میں نے پلٹ کر دیکھا، لمبی لَٹوں اور دُھول میں اَٹا ایک مجذوب صحن میں جانے کب سے بیٹھا اپنے منکے اور مالائیں جھنکا رہا تھا۔ ’’کسی سے ملنے کا وعدہ ہے آج رات، وہاں جارہا ہوں۔‘‘ میرا جواب سُن کر اسے جلال سا آگیا، ’’مت جائو، وہ تمہارے تعاقب میں ہے۔ ہر پَل، ہرگھڑی۔‘‘ مَیں نے حیرت سے مجذوب کو دیکھا، ’’کون ہے میرے تعاقب میں…؟‘‘، ’’وہی، جس سے دشمنی ادھوری چھوڑ آئے تھے پردیس میں۔ ادھوری دشمنیاں کبھی کبھی پوری قضا بن کر لوٹ آیا کرتی ہیں۔‘‘ مَیں جلدی میں تھا، اِس لیے سمجھ نہیں سکا، ’’لیکن میرا جانا ضروری ہے، کسی سے وعدہ کربیٹھا ہوں۔ وہ میرا انتظار کرتی ہوگی اور مَیں وعدہ خلافی کر نہیں سکتا۔‘‘ مجذوب نے میری بات سُن کے کہا، ’’تم اُس سے نہیں، کسی کی موت سے کیا وعدہ نبھانے چلے ہو۔ اچھا ضد کرتے ہو، تو یوں ہی سہی، جائو، مگر ایک بات یاد رکھنا، وہ جو پردیس میں چُھپا بیٹھا ہے، وہ بڑا مداری ہے اور مداری اپنا کھیل شروع کرچکا ہے۔‘‘ مَیں الجھن زدہ سا باہر نکل آیا، لیکن گھر جاتے وقت زہرا سے ملنے کی خوشی نے میرے سارے وسوسے دھو ڈالے۔ یہ محبت بھی کیا بلا ہوتی ہے، کوئی وسوسہ، کوئی خدشہ، کوئی وہم اس کی سرشاری ختم نہیں کرسکتا۔ محبت سے بڑا جادو اور کیا ہوگا بھلا…؟

مَیں اکثر سوچا کرتا تھا کہ شادیٔ مرگ کِسے کہتے ہوں گے، کوئی بھلا خوشی سے بھی مرسکتا ہے؟ مارتا تو غم ہے، لیکن اُن دنوں مجھے ایسا لگنے لگا کہ جیسے مجھے اس لفظ کا مطلب سمجھ آنے لگا ہے اور مَیں بھی ڈرنے لگا تھا کہ کہیں اُس کے میرے ہوجانے سے پہلے ہی میرا دل خوشی سے پھٹ نہ جائے۔ جانے قدرت نے ہمارا دل اتنا نازک بنایا ہی کیوں تھا؟ جن چیزوں پر سکت سے زیادہ بوجھ ڈالنا مقصود ہو، انہیں تو دگنا مضبوط جوڑا جاتا ہے، مگر میرا دل تو بے چارہ اکہرا تھا۔ اتنی خوشی کا بوجھ کیسے سہہ پاتا…؟ ہم دونوں کے خاندان بھی بہت خوش تھے۔ ممّا،پاپا کا تو بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ چاند، تارے آسمان سے اتار کر ہماری کوٹھی سجادیں۔ زہرا کے ماں باپ شادی اور رخصتی سے پہلے اس کے گھر سے زیادہ نکلنے کو پسند نہیں کرتے تھے، خود زہرا بھی کسی بدشگونی سے ڈرتی تھی۔ اور مجھ سےہمیشہ یہی کہتی رہی کہ اب ہم رخصت ہونے کے بعد ہی ملیں گے، لیکن میرا یہ نادان دل بھلا ایسی بدشگونیوں کو کب مانتا تھا۔ دل کے اپنے شگن ہوتے ہیں اور اپنی ہی رسمیں۔ سو، میرا دل بھی ضد کر بیٹھا تھا کہ اپنی سال گرہ والی رات مجھے زہرا سے ضرور ملنا ہے، جس کے لیے میرا جنم ہوا تھا۔ اپنے جنم دن پر اسی سے ملاقات نہ ہوئی، تو بھلا سال گرہ کیسی؟ زہرا نے منع کیا، اُس کی ماں نے ٹوکا اور اُس کے ابّا نے بُرا منایا، پر میری ضد کے آگے سبھی کو ہارماننا ہی پڑی اور دوفروری کی رات، مَیں اُسے کیک کاٹنے کے لیے رات بارہ بجے اُسی ساحلی ہَٹ میں لے آیا، جہاں ہم پہلے بھی ایک آدھ بار آچکے تھے۔ زہرا کو یہاں کا سُکون اور اونچائی سے سمندر کا نظارہ پسند تھا۔ مجھے یاد ہے، اُس رات اس نے میری فرمایش پر وہی دھانی ستاروں والی سیاہ ساڑی پہن رکھی تھی، وہ میری جوگن تھی اور میں اُس کا۔ مگر میرایہ نادان دل یہ نہیں جانتا تھا کہ عشق ناگ کے جوڑے کو آج تک کوئی جوگی بھی قابو نہیں کر پایا۔ جیسے ہی سپیرے کا دھیان بٹتا ہے، ٹھیک اُسی لمحے یہ زہریلے ناگ اُسے ڈس لیتے ہیں۔ کیک کٹنے کے بعد ہم بہت دیر وہیں بیٹھے آنے والے دِنوں کی باتیں کرتے رہے اور پھر زہرا کو ہی اپنی نازک کلائی پر بندھی گھڑی دیکھ کر گزرتے وقت کا خیال آیا۔ رات بہت بیت چکی تھی اور ہمیں یہاں سے گھر پہنچنے میں بھی کافی وقت مزید لگنا تھا، لہٰذا بادل نخواستہ میں نے بھی واپسی کی ہامی بھرلی۔ یہ ہَٹ پاپا کے کسی بزنس مین دوست کاتھا اور رات گئے تک سارا عملہ ہماری خدمت کے لیے وہیں موجود رہا۔ میں نے واپسی پر ہَٹ کے کیئرٹیکر اور باقی عملے کے لیے جیب میں موجود ساری رقم نکال کر مینجر کی ہتھیلی پر رکھ دی۔ اُس نے مجھے پیش کش کی کہ رات بہت ہوچکی ہے، ہَٹ کے عملے کی گاڑی بھی وہ ہمارے ساتھ ہی روانہ کرناچاہتا ہے، تاکہ وہ ہمیں شہر کی حدود تک چھوڑ کر واپس لوٹ آئیں، لیکن میں نے منع کر دیا اور مَیں زہرا کے ساتھ اپنی جیگوار میں وہاں سے نکل آیا۔ مَیں نے کار کی رفتار بڑھائی، تو زہرا نے ہلکا سا احتجاج کیا، ’’ کیا جلدی ہے صاحب…؟‘‘ مَیں ہنس پڑا۔ یہ لڑکیاں کبھی اپنے دل کی پوری بات کسی پر ظاہر نہیں ہونے دیتیں، کہاں تو اسے گھر واپسی کی جلدی پڑی تھی۔ اور کہاں یہ تھم کر چلنے کی فرمایش؟ میں نے غور سے اُس کی طرف دیکھا، سیاہ ساڑی میں اس کے چہرے کا کندن دمک رہاتھا۔ سچ ہے ماہتاب کو رات کی سیاہی نکھارتی ہے۔

وہ میری طرف دیکھ کر مُسکرائی، ’’کیا دیکھ رہے ہو، آگے دیکھ کر گاڑی چلائو صاحب۔‘‘ اُسی لمحے زہرا کی نظر سامنے پڑی اور وہ خوف زدہ ہو کر چلّائی، ’’دھیان سے ساحر…‘‘ سامنے سڑک پرتین چار موٹر سائیکل عین درمیان میں لگائے کچھ لڑکے راستہ بند کیے کھڑے تھے، جیسے اُنہیں رات کے اس پہر کسی شکار کا انتظار ہو، مَیں نے پوری قوت سے بریک دبا دی۔ گاڑی ایک زوردار اسکریچ کے ساتھ تقریباً انہیں چُھوتی ہوئی جا کر رُک گئی۔ اُن میں سے دو ہماری طرف لپکے اور ایک زور سے چلّا کر بولا، ’’چُپ چاپ نیچے اترجائو گاڑی سے، ورنہ چھے کی چھے سر میں اتار دوں گا۔‘‘ زہرا نےگھبرا کر میرا ہاتھ پکڑلیا۔ (جاری ہے)

سنڈے میگزین سے مزید