آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ24؍ ربیع الاوّل 1441ھ 22؍ نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

ورلڈ کپ فائنل، کرکٹ کا کوہ نور کس کے ہاتھ لگے گا، انگلینڈ اورنیوزی لینڈ کے درمیان گھمسان کارن آج

لارڈز،لندن(عبدالماجدبھٹی،نمائندہ خصوصی) اگلےچار سال کے لئے عالمی کرکٹ کا کوہ نور کس کے ہاتھ لگے،کون حکمران ہوگا اس کے لئے اتوار کوہوم آف کرکٹ لارڈز میں میزبان انگلینڈ اور نیوزی لیند کے درمیان گھمسان کا رن ہوگا۔اوئن مورگن کی قیادت میں انگلینڈ کو فائنل کے لئے فیورٹ قرار دیا جارہا ہے۔فائنل کے تمام ٹکٹ فروخت ہوچکے ہیں اور زبردست جوش وخروش پایا جاتا ہے۔موسم خوشگوار ہےہوگا۔دونوں ٹیموں نے کبھی ورلڈ کپ نہیں جیتا ہے اس لئے جو بھی جیتے گا ،نیا چیمپین سامنے آئے گا۔رلڈ کپ کے تمام ایڈیشنز میں شرکت کرنے والی ٹیموں میں نیوزی لینڈ اور انگلینڈ دو ایسی ٹیمیں ہیں جو اب تک کوئی بھی ورلڈ کپ اپنے نام نہیں کر سکیں۔انگلینڈ اب تک تین ورلڈ کپ کے فائنل کھیل چکا ہے جبکہ نیوزی لینڈ کا یہ لگاتار دوسرا فائنل ہو گا۔لارڈز میں1979میں انگلینڈ کو فائنل میں ویسٹ انڈیز نے شکست دی تھی جبکہ 1992کے فائنل میں پاکستان نے انگلینڈ کو شکست دے کر ورلڈ کپ جیتا تھا۔لاہور میں سری لنکا نے پہلی بار

ورلڈ کپ جیتا تھا۔ فائنل کھیلنے والی دونوں ٹیمیں گروپ میچوں میں پاکستان سے شکست سے دوچار ہوچکی ہیں۔سیمی فائنل میں انگلینڈ نے روایتی حریف آسٹریلیا کو ذلت آمیز شکست سے دوچار کرکے اپنے تماشائیوں کو بھرپور تفریح فراہم کی۔ انگلینڈ کی ٹیم 1992 کے بعد پہلی بار ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں شرکت کرے گی۔ نیوزی لینڈ نے انگلینڈ کو اب تک کھیلے گئے 90 میچوں میں سے 43 میں شکست دے رکھی ہے۔ جبکہ ورلڈ کپ مقابلوں میں بھی نیوزی لینڈ کا پلڑہ بھاری رہا ہے۔ اب تک دونوں ٹیموں کے درمیان کھیلے گئے نو میچوں میں نیوزی لینڈ نے پانچ جبکہ انگلینڈ نے چار میں کامیابی حاصل کی ہے۔ انگلینڈ نے تین جولائی کو اس ورلڈ کپ کے راؤنڈ روبن مرحلے میں اپنے آخری میچ میں نیوزی لینڈ کے خلاف 119 رنز سے فتح حاصل کر کے سیمی فائنل میں اپنی جگہ پکی کی تھی۔نیوزی لینڈ نے ٹورنامنٹ کی فیورٹ ٹیم بھارت کو ہرا رکھا ہے اس لیے وہ بھی پر اعتماد ہوں گے۔نیوزی لینڈ کو اپنی بولنگ لائن سے ایک اور کرشمے کی توقع ہے۔ٹرینٹ بولٹ،لوکی فرگوسن اورمیٹ ہنری سے ایک اور میچ وننگ کارکردگی کی توقع ہے۔نیوزی لینڈ کے لئے سب سے زیادہ تشویش ناک بات مارٹن گپٹل کی بیٹنگ فارم ہے۔بیٹنگ لائن کپتان کین ولیم سن پر انحصار کرے گی۔جمی نشیم نو میچوں میں213رنز بنانے کے علاوہ دس وکٹیں لے چکے ہیں۔انگلینڈ کے آل راونڈر بین اسٹوکس سات وکٹ لینے کے علاوہ 381رنز بناچکے ہیں۔کپتان اوئن مورگن کا کہنا ہے کہ وہ بہت خوش ہیں اور وہ مداحوں کا شکریہ بھی ادا کرتے ہیں جنھوں نے اتنی بڑی تعداد میں انگلینڈ کی حوصلہ افزائی کی۔ جیسن رائے اور جونی بیئرسٹو کی جوڑی کے بارے میں کہنا تھا کہ یہ دونوں اپنی زندگی کی بہترین فارم میں ہیں۔یہی ہمیں جیت کی بیناد فراہم کرسکتے ہیں۔لارڈز میں فائنل کھیلنا ہمارے لیے ایک بہت بڑا موقع ہے اور ہم چاہیں گے کے اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ 2015 کے ورلڈ کپ کے بعد یہ ہماری کارکردگی میں نمایاں بہتری کو ظاہر کرتا ہے۔دھرما سینا کے اس متنازع فیصلے اور غلط آؤٹ کے باوجود انہیں ورلڈ کپ کے فائنل کی بھی ذمے داریاں سونپ دی گئی ہیں اور ان کے ہمراہ جنوبی افریقا کے میراس ایراسمس امپائرنگ کے فرائض انجام دیں۔میچ کے لیے تھرڈ امپائر پہلے نیوزی لینڈ کے کرس گیفینی تھے تاہم کیویز کے فائنل میں پہنچنے کے بعد آسٹریلیا کے روڈ ٹکر تھرڈ امپائر ہوں گے جبکہ ریزرو امپائر پاکستان کے علیم ڈار ہوں گے میچ ریفری سری لنکا کے رنجن مدوگالے ہوں گے۔

اسپورٹس سے مزید