• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پشاور میں وکلا کنونشن، ججز کیخلاف ریفرنسز مسترد کرنے کی قرارداد

پشاور(نمائندہ جنگ) پاکستان کی وکلاء برادری نے سپریم جوڈیشل کونسل میں حکومت سے جسٹس فائز عیسیٰ اورجسٹس کے کے آغا کیخلاف ریفرنسزفوری طور پر واپس لینے اورایسا نہ کرنے کی صورت میں سپریم جوڈیشنل کونسل سے ریفرنسزمسترد کرنیکی متفقہ قرارداد منظور کرلی، وکلاء کنونشن کے دوران میڈیا کو آزادی سے کام کرنے ، سپریم کورٹ کے سوموٹو اختیارات کا تعین کرنے اور اٹھارویں ترمیم کے بعد ججزکی تعیناتی کے سابقہ طریقہ کار کو بحال کرنے اور علی وزیراور محسن دائوڑ کی رہائی کا بھی مطالبہ کردیا، وکلاء رہنمائوں کے مطابق کنونشن کے ذریعے عدلیہ کی آزادی اور قانون کی بالادستی کیلئے تحریک کا آغاز کردیاگیاہے، ریفرنس واپس نہ لیا گیا تو دما دم مست قلند ہوگا،ان خیالات کااظہار پشاور ہائیکورٹ بار میں آل پاکستان گرینڈ وکلاء کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا،کنونشن میں وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل امجد شاہ، چیئرمین ایگزیکٹیو کمیٹی پاکستان بار کونسل محمد ادریس، پشاور ہائیکورٹ بار کے صدر عبدالطیف آفریدی ، سینئر ایڈوکیٹ سابق صدر قاضی انور،سابق صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن یاسین آزاد، سابق صدر سپریم کورٹ بار حامد خان، سابق صدر سپریم کورٹ بار علی احمد کرد سمیت سپریم کورٹ بار ، پاکستان بار ایسوسی ایشن ، ہائیکورٹ بار اور خیبرپختونخوا بار کونسل کے رہنمائوں،چاروں صوبوں اور اسلام آباد سے وکلاء نے بڑی تعداد میں شرکت کی، امجد شاہ نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ادارے اپنی حدود میں کام کریں تو ملک ترقی کریگا، میڈیا پر پابندیاں لگائی جارہی ہیں ،میڈیا آزاد ہو تو لوگوں کو صحیح خبریں پہنچیں گی، محمد ادریس نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے کل دونوں ججز صاحبان کو ریفرنس پر شوکاز نوٹس جاری کیا ہے، اس کا مطلب ہے اب سپریم جوڈیشل کونسل اس پر فیصلہ کریگی، عبدالطیف آفریدی نے کہا کہ بدنیتی پر مبنی ریفرنس دائر کرینگے تو ہم مخالفت کرینگے، آج کا گرینڈ وکلاء الائنس حکومت یا کسی اور کیخلاف نہیں، سپریم جوڈیشنل کونسل کے پاس سینکڑوں ریفرنسز پڑے ہیں تاہم صرف ایک ریفرنس کو اٹھایاجارہا ہے جس کی اور بھی وجوہات ہوسکتی ہیں، ہم صرف عدلیہ کی آزادی اور قانون کی بالادستی چاہتے ہیں، حکومت کو پیغام دیناچاہتے ہیں ناجائز فیصلہ ماننے کیلئے تیار نہیں، ریفرنس فائل کرنے کی ٹائمنگ غلط ہے، وکلاء کو لڑانے کی کوشش کی جارہی ہے ،کنونشن وکلاء کی تحریک کا آغاز ہے، بال سپریم جوڈیشل کونسل کے کورٹ میں ہے کہ وہ کیا فیصلہ کرتی ہے، انہوں نے ججز کی ویڈیوز پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا یہ کیا تماشہ ہے؟ ملک اس وقت شدید دبائو میں ہے ، اس دبائو کو ختم کرنا ہوگا، عدلیہ کی آزادی کیلئے وکلاء کو اکٹھا ہونا ہوگا، توقع ہے سپریم جوڈیشل کونسل اس ریفرنس کو ختم کریگی،عدلیہ کو بچانے اورعدلیہ کی آزادی کیلئے کوشاں ہیں، یاسین آزاد نے کہا کہ جسٹس فائز عیسی کیخلاف ریفرنس فیض آباد دھرنے کے فیصلے کے نتیجے میں دائر کیا گیا ہے،موجودہ حکومت کا ریفرنس بدنیتی پر مبنی ہے، سپریم جوڈیشل کونسل نے اگر قاضی فائز عیسی کیخلاف فیصلہ دیا تو اسکا مطلب عدلیہ کو تباہ کرنے کا متعارف ہوگا ، وزیرقانون کو پیغام دیتے ہیں کہ اداروں کی مضبوطی کیلئے کردار ادا کریں۔

تازہ ترین