آپ آف لائن ہیں
پیر14؍ذیقعد 1441ھ 6؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

اس وقت ’’ملک بھر میں گلی گلی شور ہے کہ مہنگائی کا زور ہے‘‘ مگر حکمران پارٹی اس طرف توجہ دینے کے بجائے دن رات دو بڑی جماعتوں کے اہم قائدین کو ڈاکو اور چور کہہ کر ان کی گرفتاریوں کی تاریخیں دے رہی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ چور اور ڈاکو کو پکڑ کر سخت سے سخت سزا دی جائے مگر یہ فیصلہ کون کرےگا؟ عدلیہ یا وزیر اعظم‘ وزراء اور حکمران پارٹی کے دیگر رہنما‘ مگر یہ بات بھی کم افسوسناک نہیں ہے کہ دوسری طرف حال بھی حکومت کے اس رجحان سے مختلف نہیں۔ یہ سیاسی جماعتیں مہنگائی کا بھرپور نوٹس لیکر ملک بھر کے مزدوروں‘ کسانوں‘ نچلے اور متوسط طبقے کے پریشان حلقوں کو ساتھ ملاکر ایک سیاسی احتجاجی تحریک چلائیں کہ حکمران دوسری ساری نام نہاد ’’حکمتوں‘‘ کو ترک کرکے اپنی ساری توانائیاں ملک میں مہنگائی کو کم سے کم سطح پر لانے اور غربت کی سطح کو کم سے کم کرنے پر توجہ دیںمگر وہ تو ایسے مواقع پر اکثر ملک سے باہر دیگر ممالک کے سربراہوں سے ملاقاتوں اور مذاکرات میں مشغول ہوتے ہیں۔اس وقت بھی جب ملک بھر کے تجارتی حلقوں کی طرف سے حکومت کی طرف سے مسلسل کی جانے والی ٹیکس کی بھرمار کے خلاف ملک بھر میں ایک ایسی ہڑتال کی گئی ہے جس کی مثال گزشتہ کئی دہائیوں میں ملنا مشکل ہے یہ اور بات ہے کہ حکومت اپنے حلقوں سے پروپیگنڈا کرتی رہی کہ یہ ہڑتال ناکام ہوگئی۔ وزیر اعظم صاحب جو امریکہ کے اس دورے میں آرمی چیف آف اسٹاف اور آئی ایس آئی کے سربراہوں کو بھی ساتھ لے گئے ہیں اس دورے پر وزیر اعظم کی واپسی کے بعد ہی اپنا تبصرہ کریں گے۔ میں سب سے پہلے اس بات کا ذکر کروں گا کہ پاکستان کی ایک بڑی انگریزی اخبار کی بڑی سرخی کے مطابق کراچی اور فیصل آباد کو چھوڑ کر جہاں تاجروں اور کاروباری حلقوں کی طرف سے جزوی ہڑتال کی گئی جبکہ باقی سارے ملک میں ’’غیر دوستانہ بجٹ‘‘ اور عائد کئے گئے ٹیکسوں کے خلاف مارکیٹیں ہفتہ 13 جولائی کو تاجر حلقوں کے احتجاج کے نتیجے میں بند رہیں۔ تجارتی حلقوں کے مطابق ٹیکسوں کی بھرمار آئی ایم ایف کے مطالبےپرکی گئی۔ تاجر اتحاد کے مطابق اس ہڑتال کے دوران ملک بھر میں 90 فیصد مارکیٹیں بند ہونے کی وجہ سے ایک اندازے کے مطابق 4 ارب روپے کا نقصان ہوا جبکہ ملک بھر میں تاجروں کا 50 ارب روپے کا نقصان ہوا۔ تاجر حلقوں کے ان اندازوں کے برعکس حکومتی حلقے اس ہڑتال کو ناکام قرار دے رہے ہیں دوسری طرف وزیر اعظم کی اسپیشل اسسٹنٹ برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے تاجروں کو خبردار کیا کہ وہ حکومت کو بلیک میل کرنے سے باز رہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ جن بیوپاریوں نے اس ہڑتال میں حصہ لیا وہ ان حلقوں کے مفادات کا تحفظ کررہے تھے جو حکومت کی طرف سے کی جانے والی اقتصادی اصلاحات کے خلاف ہیں۔ دوسری طرف اس ہڑتال سے فقط دو دن بعد یعنی 15 جولائی کو ملک کی مجموعی اقتصادی صورتحال کے بارے میں اسٹیٹ بینک کی جانب سے تین ماہ کے لئے جو رپورٹ جاری کی گئی اس کی روشنی میں حکومت تو بالکل بے سہارا نظر آئی ۔اس رپورٹ کے کچھ اہم نکات قارئین کے لئے پیش کررہا ہوں جن میں کہا گیا ہے کہ غذائی کمی کا اندیشہ‘ مہنگائی اور حکومتی اخراجات میں اضافہ ہوا‘ تیل کے نرخ کم ہونے کے باوجود بجلی کے نرخ کم نہ ہوئے۔ اس سلسلے میں جو کچھ مزید نکات پیش کئے گئے ہیں ان کے مطابق بڑھتی ہوئی آبادی اور موسمیاتی لحاظ سے ناسازگار صورتحال کے پیش نظر غذائی تحفظ کے لئے فوری اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے‘ فارن ایکسچینج کے ذخائر میں کمی ہوئی‘ مہنگائی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے‘ مارچ سے جولائی تک مہنگائی کی شرح ہدف سے بھی آگے نکل گئی ہے‘ بیرونی اور مالیاتی شعبوں میں کمزوریاں برقرار رہیں اس وجہ سے معاشی استحکام کی خاطر اصلاحات لانے کی ضرورت ہے‘ ختم ہونے والے مالی سال کے دوران اقتصادی ترقی کی رفتار بہت کم رہی‘ خسارے پر کنٹرول کے لئے اٹھائے گئے اقدامات کے ردعمل میں صنعتی شعبے کی کارکردگی متاثر ہوئی اور ملک میں مصنوعات کی تیاری کی سرگرمیاں ماند پڑگئیں‘ مالیاتی خسارے میں اضافہ ہوا کیونکہ نان ٹیکس وصولیاں کم ہوئیں اور ٹیکس کی آمدنی میں بھی سست رفتاری رہی‘ حکومتی اخراجات میں اضافے کی وجہ سے ترقیاتی اخراجات کم کرنےسے ہونے والی بچت کا کوئی فائدہ نہیں ہوا اس مرحلہ پر رپورٹ میں سوال کیا گیا ہے کہ : بتایا جائے بجلی کے نرخ طے کرنے کے لئے کیا طریقہ کار ہے؟ دوسری طرف تیل نرخ کم ہونے کے باوجود ملک میں بجلی کے نرخ کیوں کم نہیں کئے جارہے ہیں۔ اسی دوران 16جولائی کو اسٹاک ایکسچینج کی رپورٹ کے مطابق ڈالر 71پیسے اور سونا ایک ہزار روپے مہنگا ہوگیا۔ اسی رپورٹ کے مطابق امریکی ڈالر انٹر بینک میں 159 روپے 50 پیسے کا ہوگیا جبکہ ڈالر اوپن مارکیٹ میں 45پیسے مہنگا رہا‘ سونا ایک ہزار روپے مہنگا ہونے کے بعد فی تولہ 82600 روپے کا ہوگیا اور انڈیکس میں 663پوائنٹس کی کمی ہوئی۔ دریں اثناء انہی دنوں اخبار میں یوٹیلیٹی اسٹورز پر دودھ اور گھی سمیت سینکڑوں اشیاء کے مہنگے ہونے کے بارے میں رپورٹ شائع ہوئی جس میں بتایا گیا کہ شیمپو‘ کوکنگ آئل‘ مسالہ جات‘ کیچپ اور کسٹرڈ کی بھی قیمتیں بڑھانے کے نوٹیفکیشن جاری کردیئے گئے۔ اسی دن اسٹاک ایکسچینج کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی‘ 100 انڈیکس 672 پوائنٹس کم ہوگیا‘ سرمایہ کاری کی مالیت ایک کھرب 26 ارب 92 کروڑ کم ہوگئی۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)