آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار19؍ربیع الاوّل 1441ھ 17؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

جڑواں شہر سکھر اور خیرپور ہر سال لاکھوں ٹن کھجور کی پیداوار کے باعث دنیا بھر میں پاکستان نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ دو لاکھ ایکڑ رقبے پر کھجور کے دو کروڑ درخت ہیں اور کاشتکاروں کے لئے کھجور کی فصل سونے جیسی قیمتی تصور کی جاتی ہے۔ ا ربوں روپے مالیت کا چھوہارا اور کھجور ہر سال بیرونی ممالک کو برآمد کرنے سے بھاری زر مبادلہ حاصل ہوتاہے۔ ہزاروں کاشتکار ہرسال چھوٹے بڑے باغات میں کھجور کی کاشت کرتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق دونوں شہروں میں تقریبًا دو لاکھ ایکڑ اراضی پر کھجور کے باغات ہیں جن میں ڈیڑھ لاکھ ایکڑ خیرپور اور 50ہزار ایکڑ ضلع سکھر میں موجو د ہیں، ان دونوں اضلاع میں کھجور کے درختوں کی تعداد دو کروڑ سے زائد ہے جہاں سے سالانہ لاکھوں ٹن کھجور اور چھوہارے کی ہر سال پیداوار ہوتی ہے، اس میں 25سے زائد اقسام کی کھجوریں جن میں اصیل، کربلائی، کبڑا، خرما، مٹھڑی، ہواوالی، کاچھووالی ، گھومڑا، گجرالی، نونی ،میہواوالی سمیت دیگر اقسام شامل ہیں۔اصیل کھجور کی پیداوار زیادہ کی جاتی ہے اس کھجور سے چھوہارا بھی تیار ہوتا ہے۔کھجور اور چھوہارے برآمد کرنے والے تاجروں کے مطابق ہر سال پیدا ہونے والی کھجور سے 85فیصد چھوہارا تیار کیا جاتا ہے جبکہ 15 فیصدسے مختلف اقسام کی کھجور بنتی ہیں جو ملک کے مختلف شہروں سمیت بیرون ممالک ایکسپورٹ بھی کی جاتی ہے ۔جبکہ سکھر اور خیرپور سے لوگ ملک اور بیرون ممالک اپنے عزیز و اقارب اور دوستوں کو تحفے میں کھجوریں بھجواتے ہیں خاص طور پر رمضان المبارک کے موقع پر لوگ ہزاروں کی تعداد میں کھجوروں کے پیکٹ اپنے دوستوں، عزیز واقارب اور ملنے والوں کو بھیجتے ہیں۔

کھجور کو درخت سے اتارنے ، چھوہارا اور کھجور بنانے سے لے کر منڈیوں تک پہنچانے کے لئے کھجور کی کاشت سے وابستہ چھوٹے کاشتکاروں اور مزدوروں کو بہت زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے ۔ کھجور کے اونچے درخت پر رسوں کے ذریعے چڑھا جاتا ہے اور رسے سے کمر پر ٹیک لگا کر کھجور کے گچھوں کو کلہاڑی سے کاٹ کر رسے میں پھنسا کر نیچے چھوڑا جاتا ہے اور نیچے کھڑا محنت کش ان گچھوں کو جمع کر کے مختلف گاڑیوں میں رکھتا ہے۔ ان گاڑیوں کے ذریعے کھجور اور چھوہارا بنانے والے مقام پر لے کر جایا جاتاہے۔جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں آج بھی محنت کش، کاشتکار کھجور کے گھچوں سے کھجوروں کو الگ کرنے کے لئے لکڑی سے بنے ہوئے سازوسامان کو استعمال کرتے ہیں۔ ایک کنگھی نما لکڑی تختے میں گچھوں کو ایک جانب سے پھنسا کر کھینچا جاتا ہے جس سے کھجوریں گچھوں سے جدا ہوجاتی ہیں جس کے بعد ان کھجوروں کو پانی کےٹب میں ڈال دھویا جاتا ہے جس کے بعد آگ کی بھٹی پر ابلتے ہوئے پانی کے کڑھاؤ میں ڈالا جاتا ہے اور اس میں نمکیات، کھانے کے رنگ ڈال کر کھجوروں کو پکایا جاتا ہے۔ جب یہ کھجوریں پک کر چھوہارے کی شکل اختیار کرتی ہیں تو انہیں کھلے آسمان تلے دھوپ میں ڈال کر خشک کرنے کے لئے رکھا جاتا ہے اگر دھوپ زیادہ تیز ہو تو یہ چھوہارے چار سے پانچ دن میں تیار ہوجاتے ہیں اور اگر دھوپ تیز نہ ہو تو چھوہاروں کو خشک ہونے میں چھ سے سات دن بھی لگ جاتے ہیں اور خشک ہونے کے بعد ان چھوہاروں کو بوریوں میں بھر کر منڈیوں میں لے جایا جاتا ہے۔ ان تمام مراحل میں نہ صرف سینکڑوں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں محنت کش مصروف عمل رہتے ہیں۔ کھجور کی پیداوار ہر سال شدید گرمیوں میں ہوتی ہے جب سکھر اور خیرپور میں درجہ حرارت 45سے 50ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے تو ایسے میں تپتی دھوپ، گرم ہوائوں میں کھجور اور چھوہارے بنانے والے صبح سے رات گئے تک کام کاج کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ چھوہارا مارکیٹوں میں آنے کے بعد آغا قادرداد درانی مارکیٹ جوکہ نہ صرف سکھر بلکہ پاکستان کی سب سے بڑی کھجور منڈی ہے وہاں اور خیرپور کی کھجور منڈی میں بھی مختلف اقسام کے چھوہارے اور کھجور فروخت کے لئے لائی جاتی ہیں، جہاں روزانہ کی بنیاد پر صبح کے وقت کھجور اور چھوہارے کی نیلامی ہوتی ہے ۔ چھوہاروں کی بعض اقسام ایسی ہوتی ہیں کہ جس میں دکاندار ان چھوہاروں کی چھانٹی کراتے ہیں ، چھوٹے اور بڑے چھوہاروں کو الگ کیا جاتا ہے ۔ باغات سے کھجور اور چھوہارے کو منڈیوں تک لانے اور یہ مصنوعات ملک کے مختلف شہروں اور بیرونی ممالک بھجوانے تک ہزاروں کی تعداد میں محنت کش اس عمل میں حصہ لیتے ہیں، جن میں خواتین بھی شامل ہوتی ہیں جو ہول سیل منڈی میں چھوہاروں کی چھانٹی کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ آغا قادرداد درانی کھجور مارکیٹ کے تاجروں نےبتایا کہ سکھر اور خیرپور میں پیدا ہونے والی کھجور میں 85فیصد چھوہارا اور15فیصد کھجور بنائی جاتی ہے ، 85فیصد چھوہارے میں سے تقریبًا 75فیصد چھوہارا بھارت ، بنگلادیش ، آسٹریلیا ،امریکہ ، انڈونیشیا بھیجا جاتا ہے جبکہ کھجور بھی دنیا کے مختلف ممالک میں ایکسپورٹ کی جاتی ہے۔ کھجور اور چھوہارے کی ایکسپورٹ سے اربوں روپے کا زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے۔ ایوان صنعت و تجارت سکھر کے سابق صدر عبدالفتاح شیخ کے مطابق ایوان صنعت وتجارت سکھر کی جانب سے متعدد مرتبہ کھجور اور چھوہارے کی بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کے لئے سیمینار منعقد کرائے جاتے ہیں اور ایوان کی کوشش ہے کہ سکھر ڈویژن میں پیدا ہونے والی کھجور اور چھوہارے کو بین الاقوامی منڈیوں میں متعارف کرایا جائے۔ سیمینار میں ایکسپورٹرز کے حوالے سے بتایا جاتا ہے کہ بھارت، بنگلادیش، افغانستان ، دبئی میں ہماری مصنوعات برآمد ہورہی ہیں جبکہ جنوبی افریقا، آسٹریلیا، امریکہ سے بھی رابطے ہوئے ہیں اور ان ممالک میں بھی کھجور اور چھوہارے کی ایکسپورٹ کو بڑھانے کے لئے کوششیں کی جارہی ہیں۔

ایوان صنعت وتجارت سکھر نے جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں چھوہارے کو دھوپ میں خشک کرنے کے بجائے پلانٹ متعارف کروادیئے ہیں جس کے ذریعے چھوہارے اور کھجور کو خشک کیا جارہا ہے۔ یہ پلانٹ ابھی چھوٹے پیمانے پر کام کررہے ہیں لیکن ان میں آہستہ آہستہ اضافہ ہوگا۔ حکومت کو بھی اس اہم فصل کی ایکسپورٹ کی جانب خصوصی توجہ دینا ہوگی تاکہ چند ممالک کے علاوہ ہماری یہ فصل دنیا کے تمام ممالک کی منڈیوں تک رسائی حاصل کرسکے اور پاکستان میں بڑے پیمانے پر زر مبادلہ آسکے۔ ہر سال خیرپور میں کھجور کی نمائش کی جاتی ہے جس میں مختلف اقسام کی کھجوریں اور چھوہارے رکھے جاتے ہیں ۔ کھجور کی اس نمائش کا مقصد بین الاقوامی منڈیوں کی توجہ کھجور کی جانب کرانا ہے تاکہ کھجور کی ایکسپورٹ میں اضافہ ہو ۔پاکستان سمیت دنیا بھرمیں یوں تو کھجور کا استعمال سارا سال ہی جاری رہتا ہے تاہم رمضان المبارک میں کھجور کا استعمال زیادہ کیا جاتا ہے۔ کئی سال قبل کھجور کی فصل رمضان المبارک سے پہلے مارکیٹوں میں آتی تھی تاہم اب چند سالوں سے کھجور کی فصل عید کے بعد مارکیٹوں میں آتی ہے جس کے بعد رمضان المبارک کے لئے کھجور کے تاجر بڑی تعداد میں کھجور کو اسٹو ر میں رکھتے ہیں۔ سکھر کی ہول سیل منڈی سے کراچی، لاہور، راولپنڈی، پشاور، کوئٹہ، حیدرآباد، ملتان ، فیصل آباد، گوجرانوالہ، سیالکوٹ سمیت ملک کے چھوٹے بڑے شہروں سے تاجر کھجور خرید کر لے جاتے ہیں اور کولڈ اسٹوریج میں رکھتے ہیں جہاں رمضان المبارک کی آمد کے موقع پر ان کھجوروں کو فروخت کے لئے مارکیٹوں میں لایا جاتا ہے ۔

فوڈ لیبارٹری سکھر کے سابق انچارج ڈاکٹر عبدالخالق جتوئی کے مطابق کھجور غذائیت سے بھرپور پھل ہے ،اس میں کیلشیم ، گلوکوز، آئرن، پوٹاشیم سمیت دیگر اجزاء شامل ہیں۔ لوگوں کو کھجور کا استعمال پورا سال کرنا چاہیئے، تاہم ایسے لوگ جو ذیابیطس کے مریض ہوں ان کے لئے احتیاط ضروری ہے۔ کھجور کھانے کا مشورہ بیمار لوگوں کو بھی دیا جاتا ہے کیونکہ بیماری میں کھجور بہت زیادہ فائدہ مند ہے۔ کھجور کی مختلف اقسام خیرپور کے علاقے ٹھیڑی میں تیار کی جاتی ہیں جہاں کھجوروں کو کاٹ کر ان کی گٹھلی نکالنے کے بعد بادام، پستہ ، اخروٹ ، کاجو، کھوپرا، کھجوروں میں اس طرح ڈالا جاتا ہے کہ جب یہ ڈبے میں پیک کیا جائے تو واضح طور پر کھجوروں میں ڈالی ہوئی اشیاء دکھائی دیں۔جس کے بعد کھجوروں کے یہ ڈبے جن کا وزن تقریبًا سو گرام سے دو سو گرام تک ہوتا ہے مارکیٹوں میں فروخت کے لئے بھجوائے جاتے ہیں جبکہ کھجوروں سے مختلف اقسام کے حلوے بھی تیار کئے جاتے ہیں۔ 

کھجورکے حلوے کو کھوپرا، بادام، پستے،تل اور دیگر میوہ جات لگا کر خوبصورتی سے گتے اور پلاسٹک سے بنی ہوئی ڈبیوں اور ڈبوں میں پیک کرتے ہیں اور کھجور وں کے ساتھ ساتھ کھجور سے بنے حلوہ جات بھی مارکیٹوں میں دکانوں پر سارا سال فروخت کے لئے موجود رہتے ہیں۔ گھروں میں کھجور کا جوس بھی بنا کر استعمال کیا جاتا ہے جسے گھر کے تمام لوگ خاص طور پر ضعیف العمر افراد اور بچے بہت شوق سے استعمال کرتے ہیں۔ کھجور اور کھجور سے بنی اشیاء سندھ کی ہولسیل منڈیوں کے علاوہ فروٹ مارکیٹوں ، مختلف علاقوں، اسٹیشنوں، بس اسٹاپوں پر بھی موجود ہوتی ہیں جہاں سے مختلف شہروں کو آنے اور جانے والے مسافر کھجوروں اور کھجوروں سے بنی ہوئی مصنوعات خرید کر اپنے گھروں کو لے جاتے ہیں۔

وادی مہران سے مزید