آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ19؍ ذوالحجہ 1440ھ 21؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزیراعظم عمران خان کے کامیاب دورہ امریکہ پر تبصرے جاری ہیں اور اس کے ثمرات بھی آنا شروع ہوگئے ہیں، اپوزیشن رہنمائوں کی گرفتاریوں پر واویلہ جاری ہے بالخصوص مسلم لیگ(ن) والے بہت غصے میں ہیں، مسلم لیگ(ن) کے صدر میاں شہباز شریف نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں دھواں دھار تقریر کردی اور منشیات کیس میں گرفتار رانا ثناء اللہ کے ساتھ مبینہ زیادتیوں کا خصوصی ذکر کیا، مگر اس وقت ملکی سیاست میں دوسرااہم واقعہ چیئرمین سینٹ کےخلاف اپوزیشن اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ ہوگا۔ اپوزیشن اور حکومت کے درمیان کھینچا تانی اور جوڑ توڑ عروج پر ہے حکومت چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کےخلاف عدم اعتماد کوناکام بنانے کےلئے ایڑی چوٹی کا زور لگارہی ہے بہرحال آج فیصلہ ہوجائے گا دو اہم حکومتی شخصیات وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال اور سینٹ میں قائد حزب اقتدار شبلی فراز حکومت کے سب سے مخالف اور اس تحریک عدم اعتماد کے محرک مولانا فضل الرحمن کے پاس پہنچ گئے اور ان سےمدد مانگ لی۔ حکومت کا یہ انتہائی غیر سیاسی اور حیران کن اقدام تھا اس اقدام سے حکومت کی بہت سبکی ہوئی اورکمزوری ظاہر ہوئی ، مولانا فضل الرحمن نے بھی طنز کے خوب تیر چھوڑے اور کہا کہ مجھ سے این آر او مانگنے آئے تھے مگر میں نہ عمران خان اور نہ ہی چیئرمین سینٹ کو این آر اودوں گا۔ وفاقی وزیر شیخ رشید نے کہاکہ مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کرنے والوں کی سخت کھچائی ہوئی ہے جبکہ وفاقی وزیر فواد چودھری نے اس بات کی تردید کی ہے کہ کسی کی کھچائی نہیں ہوئی اوپر سے ہدایت کے مطابق گئے تھے’’ اللہ جانے شیخ رشید نے سچ کہا ہے یا فواد چودھری نے‘‘ بہر حال اس وقت سینیٹروں کی چاندی ہے خوب آئو بھگت ہورہی ہے،رکے کام بھی ہورہے ہیں، سیاسی مبصرین کے مطابق کچھ دن پہلے اپوزیشن کے پاس واضح اکثریت تھی جو اب نہیں رہی۔بلاول بھٹو زرداری نے ووٹوں کی خرید و فروخت کا بھی ذکر کیا ہے او ر کہا ہے کہ سینیٹر پیسے ادھر سے لیں مگر ووٹ ہمیں دیں۔ یقینا حکومت کےلئے چیئرمین سینٹ کےخلاف عدم اعتماد کی تحریک کو ناکام بنانا انتہائی اہم ہے، بعض لوگوں کا یہ خیال بھی ہے کہ اپوزیشن نے بہتر امیدوارکا انتخاب نہیں کیا۔ دیکھیں عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ قریب ہے اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو دورہ امریکہ کے دوران جوعزت و پذیرائی ملی وہ اپنی مثال آپ ہے۔ وزیراعظم نے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا اور ٹرمپ کو ثالثی کرنے کےلئے زوردیا۔ صدر امریکہ نے ثالثی کی استدعا یہ کہہ کر منظور کرلی کہ بھارت کے وزیراعظم نریند رمودی نے بھی دو ہفتے قبل مسئلہ کشمیر پر ثالثی کےلئے کہاہے اگر دونوں فریق اس بات پر راضی ہیں تو میں تیار ہوں۔ صدر ٹرمپ کے اس بیان پر بھارت میں کھلبلی مچ گئی اور بھارت میں میڈیا اور اپوزیشن نے خواب واویلہ کیا ، بھارتی وزارت خارجہ نے صدر ٹرمپ کے بیا ن کی تردید بھی کی مگر امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر نے جو کہا ہے وہ درست ہے۔ صدر امریکہ اپنے پاس سے کوئی بات نہیں گھڑتے۔ اس کے بعد بھارتی میڈیا اور حکومت پر سناٹا چھا گیا ، نریندری مودی نے بھی چپ سادھ لی ،آج تک نریندر مودی نے اس موضوع پر کوئی بات نہیں کی اور بھارتی میڈیا کا بھی چیخ چیخ کر گلا بیٹھ گیا اب کوئی آواز نہیں آتی۔امریکہ کے اس بیان پر چین بھی کود پڑا اور اس نے بھی امریکی صدر کی طرف سے ثالثی کے بیان کا خیرمقدم کیا اور چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ خطے میں امن کے لئے واشنگٹن کی تعمیری کوششوں سمیت دونوں ممالک باہمی اقدامات کریں ۔ امید ہے دونوں ممالک مسئلہ کشمیر کے پر امن حل کے لئے کوششیں کریں گے۔ پاک بھارت تعلقات کی بہتری کے لئے امریکہ سمیت عالمی برادری کے کردار کے حامی ہیں ۔وزیراعظم عمران خان کی کامیاب حکمت عملی کی وجہ سے بھارتی حکومت بوکھلا گئی، اس وقت اقوام متحدہ سمیت تمام بڑی قوتیں مسئلہ کشمیر کو خطے میں امن کی راہ میں رکاوٹ سمجھتے ہیں مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں کی لازوال قربانیاں دنیا کو اپنی طرف متوجہ کرنے کیلئے اہم کردار ادا کررہی ہیں۔ بھارتی فوج کے خواتین ، نوجوانوں اور بوڑھے لوگوں پر مظالم اور بربریت نے اقوام عالم کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے اور اقوام متحدہ نے مقبوضہ کشمیر میں انسانیت سوز مظالم اور قتل عام کے خلاف دو رپورٹیں جاری کی ہیں جس سے بھارتی فوج کے مظالم کا پردہ چاک ہوگیا۔ اقوام متحدہ کا ایک نمائندہ مقبوضہ کشمیر میں خواتین کی بے حرمتی کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے روپڑ ا، آہستہ آہستہ بھارتی جمہوریت اور سیکولرازم کی قلعی کھلتی جارہی ہے ۔ بھارت سات لاکھ فوج تعینات کرنے اور کھربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کو دبا نہیںسکا اب بھارت یہ پروپیگنڈہ بھی نہیں کرسکتا کہ پاکستان مسلح مجاہدین کو بھیج کر گڑ بڑ پھیلا رہاہے ۔ بھارتی خفیہ ادارے را نے ایک منصوبے کے تحت خودکش حملے اور دھماکے بھی کرائے اور اپنی ہی سکیورٹی فورس کے کئی لوگ مروائے اور الزام پاکستان پر دھر دیا مگر اقوام عالم اور خود بھارت کے حامی ممالک نے اس پر کا ن نہیں دھرے اور اس کی سازش ناکام ہوئی۔ بھارتی خفیہ ادارے را کی مقبوضہ کشمیر اور افغانستان میں حکمت عملی بالاخر ناکام ہوئی اور افغانستان میں قیام امن کیلئے بھارت کو گھاس نہیں ڈالی گئی بلکہ پاکستان کو اہمیت ملی ۔ امریکہ پر واضح ہوگیا ہے کہ بھارت نے افغانستان میں دہشت گردوں کوپاکستان کے خلاف استعمال کرنے اور بلوچستان میں اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود کامیابی حاصل نہیں کی، پاک فوج نے اس کے حربے ناکام بنادیے اور دہشت گردوں کو شکست دی اور پاکستان فوج اور ائر فورس نے سرحدوں پر بھی بھارتی فوج کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے کر پاک فضائیہ نے بھارتی جدید طیارے گرا کر دنیا کوورطہ حیرت میں ڈال دیا ۔ ان واقعات کے بعد پاکستان کی عزت وقار کو بہت تقویت ملی۔ امریکہ کھربوں ڈالر خرچ کرنے اور بڑی تعداد میں اپنی فوجوں کی قربانیوں کے باوجودافغانستان میں مکمل ناکام رہا۔ امریکہ اور اتحادی فوجوں نے انیس سال تک جنگ لڑی مگر ناکام رہا۔ پاک فوج نے چند سالوں میں دہشت گردوں کے خلاف جنگ لڑکر شاندار کامیابیاں حاصل کیں اور دہشت گردوں کی کمر توڑ دی جس کا ثبوت قبائلی علاقوں میں پرامن انتخابات ہیں۔ 72 سالوں میں پہلی مرتبہ دہشت زدہ قبائلی علاقوں میں پرامن انتخابات اور خواتین ، مرد ووٹروں کی بھرپور شرکت نے دنیا کی آنکھیں کھول دیں کہ پاکستانی فوج نے ناممکن کو ممکن کردکھایا۔ اس کے بعد امریکہ نے بھی پاکستان سے رجوع کیا اور افغانستان میں قیام امن کے لئے کردار ادا کرنے کی استدعا کی ۔ پاکستان نے اپنا اثرو رسوخ استعمال کیا اور طالبان کو مذاکرات کی میزپر بٹھا دیا۔ امریکہ کے نمائندے زلمے خلیل زاد کے طالبان لیڈروں سے مذاکرات کے کئی دور ہوچکے ہیں ۔ عمران خان نے بھی صدر ٹرمپ کو باور کرایا ہے کہ وہ افغانستان میں قیام امن کے لئے بھرپور تعاون کریں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے طالبان لیڈروں کو مذاکرات کی دعوت بھی دے دی ہے اور طالبان قیادت سے جلد ملاقات کا امکان ہے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور متعلقہ اداروں کا اس حوالے سے بھی نمایاں کردار ہے۔ توقع ہے وزیراعظم عمران خان امریکہ سے کئے گئے وعدے کے مطابق یہ مشکل ترین کام کرگزریں گے۔ وزیراعظم کے دورہ امریکہ کے ثمرات فوری طور پر آنا شروع ہوگئے، امریکہ نے طویل عرصے سے ایف سولہ طیاروں کی ٹیکنیکل اینڈ لاجسٹک سپورٹ پر پابندی اٹھالی ہے اور اس حوالے سے 125ملین ڈالر کی امداد دینے کی منظوری بھی دے دی ہے۔ واضح رہے پاکستان کے ایف سولہ طیارے جنرل ضیاء دور میں ملے تھے اور اب ان کے بیشتر پارٹس کی تبدیلی کی اشد ضرورت تھی امریکہ سے ملنے والی امداد سے ایف سولہ طیارے بہتر حالت میں ہوجائیں گے۔ بھارت کے ساتھ تعلقات کے باوجود پاکستان سے تعلقات امریکہ کی مجبوری بن گئی ہے اور خطے میں پاکستان بہت اہمیت اختیار کرگیا ہے ہر ملک کو اپنا مفاد عزیز ہے امریکہ کھربوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود افغانستان میں وہ نتائج حاصل نہیں کرسکا۔ اب وہ افغانستان سے نکلنا چاہتا ہے اور اسے پاکستان کی اشد ضرورت ہے۔ وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکہ سے ان کا ذاتی اور ملک و قوم کا امیج بہترین ہے اور عمران خان ہیرو بن کر وطن لوٹے ہیں۔ مہنگائی اور ٹیکسوں میںدبنے کے باوجود پوری قوم بھارت کونیچا دکھانے کی وجہ سے عمران خان کے کردار سے مطمئن ہیں۔ عمران خان میں یہ خوبی ہے کہ وہ کہی بھی جاتے ہیں جھک کر بات نہیںکرتے۔ صدر ٹرمپ سے بات چیت کھلے انداز میں کی یہ نہیں لگ رہا تھا وہ دوسرے پاکستانی وزیراعظموں کی طرح بہت جھک کر بات کررہے ہیں نہ ہی انہوں نے لکھی ہوئی چٹیں پڑھیں۔ جیسا کہ صد ر اوباما سے ملاقات کے دوران نوازشریف نے پڑھیں تھیں۔ بہر حال وزیراعظم کے دورہ امریکہ سے بھارت کی بہت سبکی ہوئی ہے اور ان کی بولتی بند ہوگئی ہے ، در حقیقت خطے میں پاک فوج اور پاکستانی قوم کی شاندار قربانیوں اور حوصلے کی وجہ سے پاکستان نے خطے میں مقام حاصل کیا ہے امریکہ نہیں چاہتا پاکستان مکمل طور پر روس اور چین کے بلاک میں چلا جائے دوسری طرف پاکستان کے روس کے ساتھ بھی تعلقات میں اضافہ ہورہا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکہ کی اہم بات یہ ہے کہ انہوں نے صدر ٹرمپ سے ملاقات کے دوران ایران کے حوالے سے بھی کھل کر با ت کی اور ایران کے ساتھ امریکہ کی جنگ کو تباہ کن قرار دیا اور کہاکہ یہ عراق سے بھی خطرناک ہوگا اس طرح پاکستان نے یہ تاثر بھی نہیں دیا کہ ایران کے ساتھ اگر امریکہ کی جنگ ہوئی تو ہم امریکہ کے ساتھ کھڑے ہونگے ایک طرح سے وزیراعظم عمران خان نے امریکہ ایران ثالثی کی پیشکش کردی۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید