آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات23؍ ربیع الاوّل 1441ھ 21؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

پاکستان کے کرنسی نوٹوں پر بنے تعمیراتی شاہکار


پاکستان ایک زرخیز ثقافت رکھنے والا ملک ہے۔ پاکستان میں درجنوں ایسی تاریخی عمارتیں ہیں، جو ہماری اس زرخیز ثقافت کا اہم حصہ ہیں۔ اپنے منفرد اور نمایاں تعمیراتی ڈیزائن کے باعث ان عمارتوں کو نہ صرف پاکستانی بلکہ غیر مقامی سیاح بھی دنیا بھر سے دیکھنے اور لطف اندوز ہونے کے لیے آتے ہیں۔ ان تاریخی عمارات کی اہمیت کے پیشِ نظر، ہمیں پاکستان کے کرنسی نوٹوں پر بھی ان عمارات کی تصاویر نظر آتی ہیں۔

قائد اعظم ریزیڈنسی

بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی رہائش گاہ، جو پہلے ’زیارت ریزیڈنسی‘کہلاتی تھی، صوبہ بلوچستان کے ایک پُرفضا سیاحتی مقام زیارت میں واقع ہے۔ یہ خوبصورت رہائش گاہ 1892ء کے اوائل میں لکڑی سے تعمیر کی گئی تھی۔ اُس دور میں برطانوی حکومت کے افسران وادیِ زیارت کے دورے کے دوران اسے اپنی رہائش کے لیے استعمال کیا کرتے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد 1948ء میں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اپنی طبیعت ناساز ہونے کے باعث یہاں آئے اور زندگی کے آخری دو ماہ اس رہائش گاہ میں قیام کیا۔ ان کے انتقال کے بعد اس رہائش گاہ کو ’قائد اعظم ریزیڈنسی‘ کے نام سے قومی ورثہ قرار دیتے ہوئے عجائب گھر میں تبدیل کر دیا گیا۔

بادشاہی مسجد

بادشاہی مسجد پاکستان کی دوسری بڑی اور دنیا کی پانچویں بڑی مسجد ہے، جس میں بیک وقت 60ہزار افراد نماز ادا کرسکتے ہیں۔ یہ عظیم الشان مسجد مغلوں کے دور کی ایک شاندار نشانی اور لاہور شہر کی شناخت ہے۔ بادشاہی مسجد قلعہ لاہور کے مغربی جانب کھلنے والے عالمگیری دروازے کے بالکل سامنے واقع ہے۔ یہ خُوبصورت اور تاریخی مسجد مغلیہ سلطنت کے چھٹے حکمران اورنگ زیب عالمگیر کے حکم کے تحت شاہی سرپرستی میں 1673ء سے 1674ء کے دوران تعمیر کی گئی۔ بادشاہی مسجد فن تعمیر کے حوالے سے کم وبیش ایک مربع قطعہ اراضی پر تعمیر کی گئی ہے ۔

اسلامیہ کالج یونیورسٹی

اسلامیہ کالج پشاور تحریک آزادی کے حوالے سے منفرد مقام رکھتا ہے۔ قیام پاکستان میں اس درس گاہ کے نوجوانوں کی خدمات اور اس کی تاریخی حیثیت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ کوہ سفید اور تاریخی درہ خیبر کے دامن میں واقع اسلامیہ کالج پشاور، شہر کے مرکز سے پانچ کلو میٹر مغرب میں یونیورسٹی روڈ پر واقع ہے۔ 105سالہ عظیم ماضی کی حامل اس شاندار تعلیمی درس گاہ کی بنیاد صاحبزادہ عبدالقیوم اور سر جارج روز کیپل نے 1913ء میں رکھی۔ صاحبزادہ عبدالقیوم ، سر سید احمدکے مدّاح اور تحریک علی گڑھ کے زبردست حامی تھے اور اسی وجہ سے اسلامیہ کالج میں علی گڑھ کے رنگ بھی دکھائی دیتے ہیں۔

خیبر پاس

روئے زمین کی کسی پہاڑی شاہراہ نے تاریخ اقوام پر اتنا گہرا اثر نہیں چھوڑا جتنا درہ خیبر نے۔ مشہور زمانہ ڈیورنڈ لائن، درہ خیبر کے بلند پہاڑوں سے گزرتی ہوئی اپنا طویل فاصلہ طے کرتی ہے۔ دنیا کا یہ مشہور درہ سلسلہ کوہ سلیمان میں پشاور سے ساڑھے17کلو میٹر(11میل) کے فاصلے پر قلعہ جمرود سے شروع ہوتا ہے اور تورخم (پاک افغان بارڈر) تک56کلو میٹر (35میل) رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ برصغیر جنوبی ایشیا کے وسیع میدانوں تک رسائی کے لیے چاہے وہ نقل مکانی کی خاطر ہو یا حملے کی، اس درے نے ہمیشہ تاریخ کے نئے نئے باب رقم کئے ہیں۔ یہ درہ قوموں، تہذیبوں، فاتحین اور نئے نئے مذاہب کی بقا اور فنا، عروج اور زوال کی ایک مکمل تاریخ ہے۔

خوجک سرنگ

خوجک سرنگ کو شیلا باغ سرنگ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ 3.91کلو میٹر (2.43 میل) طویل ریل کی سرنگ ہے جو قلعہ عبداللہ، بلوچستان میں واقع ہے۔ سطح سمندر سے اس کی بلندی 1,945میٹر یا 6,381فٹ ہے۔ یہ سرنگ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے 133کلومیٹر دور خواجہ عمران کے پہاڑی سلسلے پر واقع ہے۔ اس سرنگ کی تعمیر کا کام 14اپریل 1888ء کو شروع کیا گیا، جس کے لیے 6,449روشنی دینے والے چراغ حاصل کیے گئے اور 80ٹن پانی، ٹینکر کے ذریعے منگوایا گیا۔ یہ سرنگ دنیا کی چار بڑی سرنگوں میں شمار ہوتی ہے، جس کی تعمیر میں 97لاکھ، 24ہزار 426اینٹوں کا استعمال کیا گیا۔

فیصل مسجد

فیصل مسجد وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں قائم ایک عظیم الشان مسجدہے، جسے جنوبی ایشیا کی سب سے بڑی مسجد ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ مسجد کا سنگ بنیاد شوال 1396ھ/ اکتوبر 1976ء میں رکھا گیا اور تکمیل 1987ء میں ہوئی۔ شاہ فیصل مسجد کی تعمیر کی تحریک سعودی فرمانروا شاہ فیصل بن عبدالعزیز نے 1966ء کے اپنے دورہ اسلام آباد میں دی۔ 1969ء میں ایک بین الاقوامی مقابلہ منعقد کرایا گیا جس میں 17ممالک کے 43ماہر فن تعمیر نے اپنے نمونے پیش کیے۔ چار روزہ مباحثہ کے بعد ترکی کے ویدت دالوکے کا پیش کردہ نمونہ منتخب کیا گیا۔ مسجد کا تعمیراتی کام 1986ء میں مکمل ہوا اور اس کے احاطہ میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی بھی بنائی گئی۔ 

اسپیشل ایڈیشن سے مزید