آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ 21؍ ذوالحجہ 1440ھ23؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن


قومی ترانے قوموں کی جدوجہد اور ان کے جذبات کے عکاس ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہر فرد کے دل میں اپنا قومی ترانہ بسا ہوتا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان کا قومی ترانہ اپنی دھن، تازگی، نیرنگی، جذبہ حب الوطنی اور احترام میں ثانی نہیں رکھتا۔ جب بھی یہ ہماری سماعتوں سے ٹکراتا ہے تو ہر بار دل میں جذبہ حب الوطنی اور جذبہ آزادی کو تازہ دم کردیتا ہے۔ یوم آزادی کی پُروقار تقاریب ہوں یا عام دنوں میں اسکول اسمبلی، حکومتی اجلاس یا اسٹیڈیم میں میچ، ہرایک کے آغاز سے قبل قومی ترانے کی دھن کان میں پڑتے ہی ہم باادب کھڑے ہوجاتے ہیں اور قومی ترانے کی دھُن کے ساتھ اپنی دھڑکنیں ملاتے ہوئے حب الوطنی کے جذبے سے سرشار ہوکر اس کے جادوئی اثر رکھنے والے الفاظ میں کھو جاتے ہیں۔

14اگست 1947ء کو جب پاکستان معرضِ وجود میں آیا تو اس وقت اس کا اپناقومی ترانہ نہیں تھا۔ 1949ء میں ملک کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کی ایماء پر قومی ترانے کی تیاری کے لیے ایک کمیٹی بنائی گئی۔ کمیٹی کا پہلا اجلاس یکم مارچ 1949ء کو کراچی میں سردار عبدالرب نشتر مرحوم کی رہائش گاہ پر منعقد ہوا، جس کے بعد اخبارات کے ذریعے ملک کے شعراء اور موسیقاروں کو قومی ترانہ لکھنے اور اس کی دھن ترتیب دینے کی دعوت دی گئی ۔ کمیٹی کو کئی دھنیں اور شاعری موصول ہوئی مگر کوئی بھی ترانہ کمیٹی کے وضع کردہ معیار پر پورا نہیں اترا۔

یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ پاکستان کے قومی ترانے کی دھن پہلے تیار ہوئی اور بعد میں اس پر شاعری کی بُنت کی گئی۔ قومی ترانے کی معرکۃ الآراء دھن احمد غلام علی چھاگلہ نے ترتیب دی تھی، جسے پہلی بار ریڈیو پاکستان پر بہرام سہراب رستم جی نےپیانو پر پیش کیا۔ اس دھن کو خوبصورت الفاظ سے ہم آہنگ کرنے والے پاکستان کے شاعر حفیظ جالندھری تھے۔ تاہم، بعد میں اس کی مکمل کمپوزنگ میں 12آلاتِ موسیقی اور 38ساز استعمال کیے گئے۔ قومی ترانے کو پہلی بار آواز دینے والی شخصیات میں احمد رشدی سمیت کئی نامور گلوکار شامل تھے۔

حفیظ جالندھری کا اعزاز

دراصل ایسا نہیں ہو اکہ دھن تیار ہوگئی اور حفیظ جالندھری کو دعوت دی گئی کہ وہ آکر اس دھن پر اپنی سخن طرازی کریں بلکہ یہ دھن تقریباً پانچ سال تک ریڈیو پاکستان کے مختلف اسٹیشنز پر نشر ہوتی رہی اور کئی شعراء کو دعوت عام دی گئی کہ وہ اس دھن کے مطابق اپنے ترانے تخلیق کریں۔ اس دھن پر723 شاعروں نے طبع آزمائی کی، جن میں سے حکیم احمد شجاع، سید ذوالفقار علی بخاری اور حفیظ جالندھری کے ترانوں کو شارٹ لسٹ کیا گیا۔ ان میں سے پاکستان کی مرکزی کابینہ نے حفیظ جالندھری کے لکھے ترانے کو ’قومی ترانے‘ کے طور پر منظور کرلیا اور یہ ترانہ 13اگست 1954ء کو ریڈیو پاکستان سے پہلی بار نشر کیا گیا۔ اس کا دورانیہ ایک منٹ اور 20سیکنڈ ہے۔ قومی ترانے کو فارسی زبان میں تحریر کیا گیا، اس کے اندر کل15 مصرعے ہیں جبکہ اس میں صرف ایک لفظ اردو زبان کا ہے۔

مختصر حالات زندگی

ابوا لاثر حفیظ جالندھری کی وجہ شہرت رومانوی شاعری اور افسانہ نویسی تھی، لیکن پاکستان کے ترانے کے ساتھ ان کا نام جُڑا اور وہ تاریخ میں امر ہوگئے۔ اس کے علاوہ ان کی مشہور نظم ’’ا بھی تو میں جوان ہوں‘‘ کو ملکہ پکھراج نے اپنی آواز دے کر ملک گیر شہرت بخشی۔

حفیظ جالندھری ہندوستان کے شہر جالندھر میں14جنوری 1900ء کو پیدا ہوئے اور تقسیم ِہندکے وقت لاہور آکر رہائش پذیر ہوگئے۔ ان کے پاس تعلیمی اسناد نہیں تھیں، تاہم انہوں نے خود پڑھائی کی اور فارسی شاعری کے لیے غلام قادر بلگرامی سے اصلاح لیتے رہے۔ اپنی محنت اور لگن سے نامور شعراء میں جگہ بنانے کے ساتھ ساتھ حفیظ جالندھری پاک فوج میں ڈائریکٹر جنرل مورال، صدر پاکستان کے چیف ایڈوائزر اوررائٹرز گلڈ کے ڈائریکٹر جیسے عہدوں پر بھی براجمان رہے۔

ادبی خدمات

حفیظ جالندھری کی سب بڑی خصوصیت ان کا ترنم تھی۔ وہ اپنی شاعری کو ایسے ترنم سے پڑھتے تھے کہ سننے والا اس میں کھوجاتا تھا۔ وہ لفظ ہی ایسے استعمال کرتے تھے جو غنایت کے پہلو پر پورا اُترتے تھے۔ گیت لکھنے کے علاوہ نظم اورغزل میں بھی وہ کمال کی شاعری کرتے تھے۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ چار جِلدوں پر مشتمل ’’ شاہنامہ اسلام ‘‘ ہے،جس میں انہوں نے اسلامی دور کی ابتدائی جنگوں کو نہایت پُراثر اندازمیں پیش کیا۔ شاہنامہ اسلام لکھنے پر انہیں ’’فردوسیِ اسلام ‘‘ کے اعزاز سے نوازا گیا۔1965ء کی پاک بھارت جنگ میں بھی انہوں نے کئی پُرجوش نظموں سے ہم وطنوں کے جذبے کو بلند رکھا۔ حفیظ جالندھری کی خدمات کے اعتراف میں انہیں ہلال امتیاز اور صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سےبھی نوازا گیا۔ قومی ترانے کے خالق حفیظ جالندھری 21دسمبر 1982ء کو 82سال کی عمر میں جہان ِ فانی سے کوچ کرگئے ۔ ان کا جسد خاکی مینار ِ پاکستان تلے دفن ہے۔

حفیظ جالندھری کے لکھے ہوئے قومی ترانے کا اقتباس:

پاک سر زمین شاد باد

کشورِ حسین شاد باد

تو نشانِ عزم عالی شان

ارضِ پاکستان

مرکزِ یقین شاد باد

پاک سر زمین کا نظام

قوتِ اخوتِ عوام

قوم، ملک، سلطنت

پائندہ، تابندہ باد

شاد باد منزلِ مراد

پرچم ستارہ و ہلال

رہبرِ ترقی و کمال

ترجمانِ ماضی، شانِ حال

جانِ استقبال

سایۂ خدائے ذوالجلال

اسپیشل ایڈیشن سے مزید
ویڈیو رپورٹس سے مزید