آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 22؍محرم الحرام 1441ھ 22؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

افغانستان سے فوجی انخلاء کا معاہدہ یقینی نہیں،امریکی صدر

واشنگٹن (جنگ نیوز /ایجنسیاں)امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان امن عمل زلمے خلیل زاد نے کہاہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کے کامیاب اختتام کے قریب ہیں اورٹرمپ الیکشن سے پہلے فوج واپس بلانا چاہتے ہیں،دوسری جانب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ افغانستان سے متعلق امریکہ اور طالبان کے درمیان"اچھی بات چیت"جاری ہے۔ لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ امریکی فوج کے انخلا کا معاہدہ کھٹائی میں پڑ سکتا ہے۔صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ "کسی پر بھی اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔"صدر ٹرمپ نے اپنی گفتگو کے دوران افغانستان کو "دہشت گردوں کی ہارورڈ یونیورسٹی" قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ امریکہ کے انٹیلی جینس اثاثے اور اہل کار ہمیشہ افغانستان میں موجود رہیں گے تاکہ افغانستان دوبارہ 11 ستمبر 2001 کے حملوں سے پہلے کی حالت پر نہ جا سکے جب وہاں طالبان کی حکومت تھی۔تفصیلات کے مطابق زلمے خلیل زاد نے قطر روانگی سے قبل کہا کہ امریکا دوحہ میں بقیہ تمام معاملات کے تصفیے کے لیے تیار ہے۔انہوں نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں افغان امن عمل اور بین الافغان مذاکرات کو تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔امریکی خصوصی ایلچی نے کہا کہ امن عمل کی کامیابی سے افغان عوام داعش کو شکست دینے کی مزید مضبوط پوزیشن میں آجائیں گے۔ٹرمپ نومبر 2020 میں امریکی

انتخابات سے پہلے افغانستان سے 13 ہزار سے زائد امریکی فوجیوں کی واپسی پر زور دے رہے ہیں۔دریں اثنا امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ افغانستان سے متعلق امریکہ اور طالبان کے درمیان "اچھی بات چیت" جاری ہے۔ لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ امریکی فوج کے انخلا کا معاہدہ کھٹائی میں پڑ سکتا ہے۔منگل کو وائٹ ہاؤس میں رومانیہ کے صدر سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ افغانستان سے فوجی انخلا کا معاہدہ خود ان کے یا طالبان کے لیے قابلِ قبول بھی ہو گا یا نہیں۔منگل کو صحافیوں کے ساتھ گفتگو کے دوران اس سوال پر کہ کیا طالبان پر اعتبار کیا جا سکتا ہے؟انہوں نے ایک بار پھر اپنا یہ بیان دہرایا کہ وہ چاہیں تو غیر جوہری بم استعمال کر کے افغانستان سے دہشت گرد عناصر کا ایک لمحے میں خاتمہ کر سکتے ہیں لیکن وہ ایک کروڑ افغان شہریوں کا قتلِ عام نہیں کرنا چاہتے۔

اہم خبریں سے مزید