آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 22؍محرم الحرام 1441ھ 22؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چین اور امریکا کا اقتصادی تنازع شدید ہونے کے سبب دنیا بھر میں پیدا ہونے والی بحرانی کیفیت سے مقامی کاٹن انڈسٹری بھی متاثر ہوئی ہے جس کے بعد کاٹن مارکیٹ میں روئی کے بھاؤ میں 300 روپے کا اضافہ ہو گیا۔

بین الاقوامی کاٹن مارکیٹس میں مندی کا عنصر ہے جبکہ ہفتے کے آخری روز کاٹن مارکیٹ میں دباؤ رہا۔

تفصیلات کے مطابق مقامی کاٹن مارکیٹ میں گزشتہ ہفتے کے دوران ٹیکسٹائل و اسپننگ ملز کی روئی کی خریداری میں اضافے کی وجہ سے روئی کے بھاؤ میں فی من 200 تا 300 روپے کا اضافہ ہوا ہے۔

عیدالاضحیٰ کے بعد گو کہ بارشوں کے باعث روئی کی کوالٹی متاثر ہوئی تھی اور ٹیکسٹائل ملز نے محتاط رویہ اختیار کیا ہوا تھا لیکن جیسے جیسے روئی کی کوالٹی ٹھیک ہونا شروع ہوئی ملز کی خریداری میں بھی اضافہ ہوتا رہا۔

ملز کی خریداری بڑھنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بارشوں کا نیا سلسلہ 28 تا 30 اگست کو شروع ہونے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

روئی کا بھاؤ فی من 7600 تا 7700 تھا جو ہفتے کے آخری 2 دنوں میں 300 روپے کے اضافے کے ساتھ فی من 8000 روپے ہو گیا۔

اسی طرح پھٹی کے بھاؤ میں بھی فی 40 کلو 200 تا 300 روپے اضافے کے ساتھ پھٹی فی 40 کلو 3400 تا 3800 روپے ہوگئی، جبکہ بنولہ اور کھل کے بھاؤ میں اسی نسبت سے اضافہ ہوا ہے۔

صوبہ پنجاب میں روئی کا بھاؤ فی من 8300  تا 8400 روپے ہو گیا اور پھٹی کا بھاؤ فی 40 کلو 3500 تا 4100 روپے رہا۔

بلوچستان میں روئی کا بھاؤ فی من 7900 تا 8000 روپے رہا جبکہ پھٹی کا بھاؤ فی 40 کلو 3500 تا 3700 روپے رہا۔

کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی اسپاٹ ریٹ کمیٹی نے اسپاٹ ریٹ میں فی من 250 روپے کا اضافہ کرکے اسپاٹ ریٹ فی من 8000 روپے کے بھاؤ پر بند کیا۔

کراچی کاٹن بروکرز فورم کے چیئرمین نسیم عثمان نے بتایا کہ جیسے جیسے روئی کی کوالٹی اچھی ہوتی جائے گی، ملز کی خریداری بڑھتی جائے گی جبکہ پھٹی کی رسد اور ملز کی خریداری کے باعث روئی کے بھاؤ میں اضافے کا رجحان رہنے کا امکان ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کے تنازع کے باعث کاروبار معطل ہونے کے سبب بھارت سے روئی، کاٹن یارن اور کومبر کی درآمد نہیں ہوسکے گی کیونکہ بھارت سے DTRE اسکیم کے تحت ان اشیاء کی پورے سال درآمد ہوتی رہتی تھی جو اس سال نہیں ہوسکے گی، اس لیے لازماً ملز کو دیگر ملکوں کا رخ کرنا پڑے گا، اس کے سبب مقامی روئی کی خریداری بڑھنے کی توقع ہے۔

دوسری جانب امریکا اور چین کے مابین اقتصادی تنازع کے اثرات پوری دنیا کے کاروبار پر پڑھ رہے ہیں، جس کے باعث بین الاقوامی کاٹن مارکیٹوں میں بھی ہلچل دیکھنے میں آ رہی ہے جو روئی کے بھاؤ پر اثرات مرتب کر رہی ہے۔

نیویارک میں کاٹن کے بھاؤ میں کمی کا رجحان دیکھا گیا، اس کی ایک وجہ USDA کی ہفتہ وار رپورٹ میں امریکن کاٹن کی برآمد گزشتہ ہفتے کی نسبتاً کم ہوئی۔

بھارت میں بھی پاکستان کی طرح ٹیکسٹائل سیکٹرز بحرانی کیفیت میں مبتلا ہیں، وہاں سے موصولہ اطلاعات کے مطابق بھارت میں فی الحال تقریباً 30 فیصد ٹیکسٹائل ملز بند پڑی ہیں، کئی ملوں کے پاس روئی خریدنے کی رقم دستیاب نہیں۔

بھارت میں روئی کے اوّلین تخمینے 3 کروڑ 65 لاکھ گانٹھوں کی نسبت تقریباً 55 لاکھ گانٹھوں کی کمی کے ساتھ تقریباً 3 کروڑ 12 لاکھ گانٹھوں کی کل پیداوار ہوئی، اس کے باوجود ملوں کی خریداری کم ہونے کے سبب وہاں بھی روئی کے بھاؤ میں مجموعی طور پر مندی کا عنصر ہے۔

دوسری جانب امریکا کے ساتھ اقتصادی تنازع کے باوجود چین میں بھی روئی کے بھاؤ میں اضافہ نہیں ہو رہا، وہاں سے بھی موصولہ اطلاعات کے مطابق ٹیکسٹائل سیکٹرز بحرانی کیفیت میں ہیں، کئی اسپننگ ملز اپنی استطاعت سے کم جزوی طور پر چل رہی ہیں، مختصراً پوری دنیا میں روئی کے بھاؤ میں کمی کا رجحان بتایا جاتا ہے۔

مقامی ٹیکسٹائل سیکٹرز بھی سست روی کا شکار ہے، دوسری جانب کاٹن پر 10 فیصد سیلز ٹیکس کا مسئلہ حل طلب ہے کیونکہ ایف بی آر نے روئی پر 10 فیصد سیلز ٹیکس عائد کیا ہے، وہ ملیں جنرز کے ذریعے ادا کر رہی ہیں۔

پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین میاں محمود احمد کے مطابق انہوں نے ایف بی آر کے چیئرمین شبر زیدی اور دیگر افسران سے ملاقات کی ہے۔

انہوں نے یقین دہانی کروائی ہے کہ 10 فیصد سیلز ٹیکس ملیں ڈائریکٹ ایف بی آر میں جمع کروائیں گی لیکن سرکاری طور پر اس کا اعلان نہیں ہوا ہے۔

تجارتی خبریں سے مزید