آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ20؍محرم الحرام 1441ھ 20؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایک اور دریا کا سامنا تھا، منیر مجھ کو

تحریر۔۔ روبینہ خان ۔۔لندن
فاتح عالم سکندر ایک مرتبہ اپنے استاد ارسطو کے ساتھ گھنے جنگل سے گزر رہا تھا۔ راستے میں ایک بہت بڑا برساتی نالا گیا نالہ بارش کی وجہ سے تغیانی پر آیا ہوا تھا۔ استاد اور شاگرد کے درمیان بحث ہونے لگی کہ خطرناک نالہ پہلے کون بار کرے گا گا سکندر بضد تھا کہ وہ پہلے جائے گا۔ آخر ارسطو نے اس کے بات مان لی۔ پہلے سکندر نے نالہ عبور کیا اور پھر ارسطو نے۔ ارسطو نے نالہ عبور کرنے کے بعد سکندر سے پوچھا کہ کیا تم نے پہلی نالہ پار کرکے میری بےعزتی نہیں کی۔ سکندر نے جواب دیا نہیں, استاد مکرم میں نے اپنا فرض ادا کیا ہے۔ارسطو رہے گا تو ہزاروں سکندر تیار ہوجائیں گے لیکن سکندر ایک بھی ارسطو تیار نہیں کر سکے گا ۔ زندگی کو ضرورت کی طرح گزارو،خواہش کی طرح نہیں ضرورت فقیر کی بھی پوری ہو جاتی ہے، خواہش بادشاہ کی بھی پوری نہیں ہوتی۔
خاموشی ایسا درخت ہے جس پر کڑوا پھل نہیں لگتا۔
ذہانت ایسا پودا ہے جو محنت کے بغیر نہیں لگتا
اپنی شخصیت کو بہتر بنانے میں اس قدر مصروف ہو جاؤ کہ دوسروں پر تنقید کرنے کا وقت ہی نہ رہے ۔
نقل کرنے والے امتحان میں پاس اور زندگی میں فیل ہو جاتے ہیں۔
حکمت عملی قوت بازو سے زیادہ کام کرتی ہے۔
قومیں فکر کر سےمحروم ہوکر کر تباہ ہوجاتی ہیں۔
اپنا بوجھ دوسروں پر مت ڈالو

چاہے کم ہو یا زیادہ۔
زندگی میں حاصل کی ہوئی دولت موت کے سامنے کوئی وقعت نہیں رکھتی۔
عاشق اور متعصب سے بحث نہ کرو عشق کے پاس اندھا دل اور متعصب کے پاس بند دماغ ہوتا ہے ۔
اگر انسان کو تکبرکے بارے میں اللہ کی ناراضگی اور سزا کا علم ہوجائے تو بندہ صرف فقیروں اور غریبوں سے ملے اور مٹی میں بیٹھا رہے ۔
اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ تم کتنا آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہے ہو ناکامی تب آتی ہے جب تم رک جاتے ہو۔
زندگی میں غلطیاں نہیں ہوتیں، سبق ہوتا ہے جو غلطیوں سے سبق نہیں سیکھتا وہ غلطیاں کرتا رہتا ہے ۔
اگر کچھ کرنا ہے ہے تو بھیڑ سے ہٹ کر چلو بھیڑ ہمت تو دیتی ہے پر شناخت چھین لیتی ہے۔
بعض لوگوں کی مرنے سے بہت سے لوگ مر جاتے ہیں اور بعض لوگوں کے مرنے سے بہت سے لوگ جینے لگتے ہیں یہ اپنے کردار کا نتیجہ ہے ۔
کچھ رشتے چھینک کی طرح ہوتے ، ادھر ختم ہوئے ادھر الحمدللہ پڑھ لی۔
دوست کے ساتھ اس نمک کی طرح رہوجو جو کھانے میں دکھائی نہیں دیتا لیکن اگر نہ ہو تو اس کی کمی بہت محسوس ہوتی ہے ۔
جو تمہاری خاموشی سے تمہاری تکلیف کا اندازہ نہ کر سکے اس کے سامنے زبان سے اظہاد کرنا صرف لفظوں کو ضائع کرنا ہے ۔
اچھا وقت اس کا ہوتا ہے جو کسی کا برا نہیں سوچتا۔
بڑا انسان وہ ہے جس کی محفل میں کوئی خود کو چھوٹا نہ سمجھے ۔
انسان صوم و صلوۃ سے نہیں بلکہ اخلاق سے پہچانا جاتا ہے۔ گناہ انسان کو کسی نہ کسی صورت بےقرار رکھتا ہے۔
زبان کے درست ہو جانے سے دل بھی درست ہو جاتا ہے۔
جب عقل پختہ ہوجاتی ہے تو باتیں کم ہوجاتی ہیں۔
معافی نہایت بہت اچھا انتقام ہے ۔
ظالم کا ہاتھ پکڑو اور اسے ظلم سے روکو۔
جاہل لوگوں سے کم ملا کرو ورنہ وہ تمہیں بھی جاہل بنا دیں گے ۔
ایک دانشور سے پوچھا گیا کہ غصہ کیا ہے ؟ جواب ملا کسی کی غلطی کی خود کو سزا دینا ۔
محبت سب سے لیکن اس سے اور بھی زیادہ کرو جس کے دل میں تمہارے لئے تم سے بھی زیادہ محبت ہے۔
اخلاق ایک دکان ہے ۔اور زبان اس کا تالا۔ تالا کھلتا ہے تو معلوم ہو جاتا ہے کہ دکان سونے کی ہے یا کوئلہ کی۔
اگر عبادت نہیں کر سکتے تو گناہ بھی نہ کرو۔
دھیان بٹانے کے لیے مندرجہ بالا اچھی باتیں کالم میں شامل کر دی گئی ہے ورنہ سچی بات یہ ہےکہ خیال ہر وقت کشمیر کی خبروں کی جانب لگا رہتا ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں آج بیسویں روز بھی کرفیو لگا ہوا ہے۔
ظلم اور بربریت کا بازار اسی طرح گرم ہے۔
کشمیری 70سال سے سے اپنی آزادی کےلیےجدوجہدکر رہے ہیں۔
پانچ اگست کو ان کے خصوصی اختیارات بھی ختم کر دیے گئے ہیں۔ اب جدوجہد ایک اور شدید مرحلے میں داخل ہوگئی ہے نوجوان عورتوں اور بچوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ باہر نکلیں گے۔سری نگر میں خندقیں کھود کر انڈین فوج کو شہر میں داخل ہونے سے روک دیا گیا ہے۔متنازع کشمیر میں انڈین دہشت گردی اپنے عروج پر ہے ۔ کمیونیکیشن کا بلیک آؤٹ ہے۔ لوگوں کو ان کے گھر کی دہلیز پر پیلٹ گنز کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ راتوں کو نوجوان لڑکوں کو گھر سے اٹھا کر لے جایا جا رہا ہے۔ ممکنہ احتجاج سے بچنے کے لیے کرفیو نافذ ہے۔ کشمیریوں کےہتھیار صرف پتھر اور پیرا ملٹری کے ہاتھ میں جدید ہتھیار ہیں ۔پھر بھی کشمیریوں کا جذبہ طوفان کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ پابندیاں ختم نہ ہوئی تو یہ طوفان بکھری ہوئی لہروں کی مانند ہر طرف پھیل آئے گا۔
ایک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا

یورپ سے سے مزید