آپ آف لائن ہیں
اتوار5؍رمضان المبارک 1442ھ 18؍اپریل2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

دردِ شقیقہ، سَردرد کی ایک خاص قسم ہے، جس میں بار بار اور وقفے وقفے سے سَر کے آدھے حصّے میں درد کی شکایت کے ساتھ اسپتال تک جانے کی نوبت پیش آسکتی ہے۔ یہ درد معمولی نوعیت کا بھی ہوسکتا ہے اور شدید بھی۔ بعض افرادمیں یہ درد دو طرفہ ہوتا ہے، جو بعد میں پورے سَر تک پھیل جاتا ہے۔ سَر کے جس حصّے میں درد ہو، مریض کو Pulsation سی محسوس ہوتی ہے۔ درد کا دورانیہ دوسے لے کر72گھنٹے تک طویل ہوسکتا ہے۔اس کی عام علامات میں متلی، قے، روشنی، آواز، شور اور خوشبو سے الجھن سی محسوس ہونا شامل ہیں۔ ایک تہائی مریضوں میں دردِ شقیقہ کی ابتدا آنکھوں میں درد اور بینائی متاثر ہونے سے ہوتی ہے۔ یہ درد دُنیا بَھر میں تقریباً 15فی صد افراد کو متاثر کرتا ہے۔ یعنی ایک کروڑ افراد اس مرض میں ہر وقت مبتلا رہتے ہیں۔ایک محتاط اندازے کے مطابق دردِ شقیقہ خواتین میں 19فی صداور مردوں میں11فی صدپایا جاتا ہے۔ اس اعتبار سے مَردوں کی نسبت خواتین میں اس کی شرح بُلند ہے۔امریکا میں ہر سال تقریباً 6 فی صد مَرداور18فی صد خواتین، جب کہ یورپ میں6سے 15فی صد مَرد اور 14سے 35فی صدخواتین اس عارضے کا شکار ہوتے ہیں۔ جب کہ ایشیا اور افریقا میں اس کا تناسب مغربی مُمالک کے مقابلے میں کچھ کم ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہدردِ شقیقہ ماحولیاتی اور موروثی اثرات کا مرکّب ہے، کیوں کہ اس عارضے میں مبتلا تقریباً دو تہائی مریض ایک ہی خاندان کے پائے جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں، ہارمون لیول بھی اس کی وجہ بن سکتا ہے۔ عام طور پر سنِ بلوغت تک پہنچتے وقت لڑکے، لڑکیوں کی نسبت اس تکلیف کا زیادہ شکار ہوتے ہیں، جب کہ ادھیڑ عُمر کی خواتین، مَردوں کے مقابلے میں 2سے 3گنا زیادہ اس مرض میں مبتلا پائی جاتی ہیں۔ البتہ حاملہ خواتین میں اس کا تناسب کم ہے۔عام طور پرخون کی شریان میں تنگی سے آدھے سَر میں درد ہوتا ہے اور جب یہ تنگی دُور ہوجائے تو درد بھی ٹھیک ہوجاتا ہے۔بعض کیسز میں رفع درد ادویہ کی ضرورت پیش آتی ہے،تو بعض کیسز میں یہ درد ازخود ختم ہوجاتا ہے۔ 15سے 20فی صد افراد کو درد ہونے سے قبل پتا چل جاتا ہے کہ اب انہیں سَردرد ہونے والا ہے۔درد کی شدّت، دورانیہ اور حملے کی تعداد مختلف ہوسکتی ہے۔ اگر درد کاحملہ 72گھنٹوں یعنی 3دن سے تجاوز کرجائے، تو طبّی اصطلاح میں اسے"Status Migrainosus"کہا جاتا ہے۔

دردِ شقیقہ کو چاراقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ پہلی قسم میں درد شروع ہونے میں کم از کم دو گھنٹے یا دو دِن لگ جاتے ہیں۔اس کی علامات میں چڑچڑاپن، ڈیپریشن، تھکاوٹ، پٹّھوں کا اکڑائو(خاص طور پر گردن میں)، قبض اور اسہال وغیرہ شامل ہیں۔دوسر ی قسم میں درد منٹوں میں شروع ہوکر منٹوں ہی میں ختم ہوجاتا ہے۔ اس کی علامات میں زیادہ تر بینائی کا متاثر ہونا، آنکھوں میں شدید درد اور دھندلاہٹ شامل ہیں۔نیز، ہاتھوں میں سنسناہٹ کے ساتھ زبان اور آواز بھی متاثر ہوسکتی ہے۔ البتہ کانوں میں سیٹیاں بجنے کا عمل بہت کم مریضوں میں دیکھنے میں آتا ہے۔تیسری قسم میں درد ایک ہی طرف شدیدٹیسوں کے ساتھ محسوس ہوتا ہے۔40فی صد مریضوں میں یہ درد سَر کے دونوں حصّوں میں محسوس کیا جاتا ہے، جو نیچے گردن تک چلا جاتا ہے۔ درد کا دورانیہ 4سے 72گھنٹوں پر محیط ہے، البتہ نوجوانوں میں دردجلد رفع ہوجاتا ہے۔علامات میں سَردرد کے ساتھ الٹی، متلی، روشنی سے خوف، شور اور خوشبو سے حساسیت اور چڑچڑا پن عام ہیں۔چوتھی قسم میں مریض خود کو تھکا ہوا محسوس کرتا ہے،پہچاننے میں دشواری پیش آسکتی ہے۔موڈ کی تبدیلی اور کم زوری بھی ہوسکتی ہے۔مختصراً یوں کہا جاسکتا ہے کہ بعض مریض درد کے بعد غیر معمولی طور پر خود کو بہتر محسوس کرتے ہیں، جب کہ کچھ افراد درد کے بعدخود کو بہت زیادہ تھکا ہوا اور ڈیپریس محسوس کرتے ہیں۔

دردِ شقیقہ کا ڈیپریشن، اضطراب اور بے چینی سے بھی گہرا تعلق ہے، جب کہ ان مریضوں میں نفسیاتی مسائل کا تناسب عام افراد کے مقابلے میں 3سے 6گنا زیادہ پایا جاتا ہے۔ تھکاوٹ، بعض غذائیں اور موسم بھی اس کے محّرکات میں سے ہیں۔ اس کے علاوہ ذہنی دبائو، بھوک، کم زوری، سَر یا جسم کے کسی حصّے میں لگی چوٹ اور مانع حمل ادویہ بھی سبب بن سکتے ہیں۔ نیز، ایّام کے دوران بھی آدھے سَر کا درد خواتین کو متاثر کرسکتا ہے، تو بانجھ خواتین بھی اس مرض میں زیادہ مبتلا دیکھی گئی ہیں۔ ماہرین نے تو چاکلیٹ میں شاملTyramine،چیز اور الکحل کو بھی اس کا سبب قرار دیا ہے۔ مرض کی تشخیص علامات کے ذریعے ہی کی جاتی ہے،کیوں کہ "Neuro Imaging Tests" مددگار ثابت نہیں ہوتے۔اگرعلاج کی بات کی جائے، تو ادویہ کا استعمال درد کی شدّت، بار بار کے حملے اور دورانیے کو کم از کم 50فی صد کم کرتاہے۔ واضح رہے کہ زیادہ تر ادویہ درد سے عارضی طور پر چھٹکارا دلاتی ہیں، دیرپا اثر نہیں رکھتیں، لیکن بعض ادویہ ایسی ہیں، جو چھے ہفتے سے چھے ماہ تک باقاعدگی سے استعمال کی جائیں، تو کافی فائدہ پہنچاتی ہیں۔

(مضمون نگار، جنرل فزیشن ہیں اور حیدرآباد میں خدمات انجام دے رہے ہیں)