آپ آف لائن ہیں
پیر10؍صفر المظفّر 1442ھ 28؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پچھلے دو تین ماہ سے ملک بہت ہی ہلچل میں رہا ہے۔ ایک طرف تو ہندوستان کی جانب سے ہمارے سرحدی علاقوں پر بمباری اور روز ہی چند پاکستانیوں کی شہادت کی خبریں، دوسرے مودی حکومت نے کشمیر کی خاص حیثیت کو یک قلم ختم کر کے اس متنازع علاقہ میں نئے قوانین لگا کر اس کو ہندوستان کا حصّہ بنا لیا اور پہلے کشمیریوں کو جو چند تحفظات تھے ان کو ختم کردیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ کشمیری عوام سڑکوں پر نکل آئے اور تشدد نے جنم لیا۔ بھارتی فوجیوں نے لاتعداد نہتے کشمیری مسلمانوں کو قتل کردیا۔ مسلسل کرفیو لگا کر لوگوں کو اشیائے خور و نوش اور دوائوں سے محروم کردیا۔ اس حالت میں کشمیری عوام کتنے عرصہ مزاحمت کر سکیں گے یہ وقت ہی بتلائے گا۔ دراصل ہندوستان کی کشمیر میں روزانہ گولہ باری کا جواب ہمیں ایسا دینا چاہئے تھا اور چاہئے کہ وہ دوبارہ جرأت نہ کر سکے۔ بہرحال یہ عسکری معاملہ ہے، ہم کیا ہدایت دے سکتے ہیں۔ اس گولہ باری کا ایک ہی فائدہ ہے کہ عوام کو یہ خوف و احساس دلایا جارہا ہے کہ اگر ہماری فوج موجود نہ ہوتی تو ہندوستان آزاد کشمیر پر قبضہ کر لیتا۔ وہ تو اللہ رب العزّت کا خاص کرم تھا کہ اس نے مجھے اور میرے رفقائے کار کو اس مملکتِ خداداد پاکستان کی خدمت و حفاظت کے لئے چن کر رہنمائی فرمائی کہ ہم نے دن رات محنت کر کے، خون پسینہ ایک کر کے اس ملک کو ایٹم بموں اور میزائلوں سے مسلح کر کے اس کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنا دیا تھا ورنہ ہمارا حال 1947اور 1971سے بدتر ہوتا۔

آرمی چیف کی ملازمت میں توسیع کردی گئی ہے انھوں نے ملک کے لئے اچھے کام کئے ہیں اور وزیراعظم کے دستِ راست رہے ہیں۔ عام تاثر یہی ہے کہ عمران خان کو آرمی چیف کی پوری پشت پناہی حاصل ہے اور ملکی اہم فیصلے دونوں مل کر ہی کررہے ہیں اور سرکاری عہدیدار اور وزراء باہم آہنگی کے ترانے گا رہے ہیں۔ قدیم تاریخ سے سمجھدار لوگ ہمیشہ جنگ سے گریز کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ ملکہ سبا نے بھی اپنے امیروں کو یہی مشورہ دیا تھا کہ جنگ میں تباہی پھیلتی ہے اور اُمراء اور شریفوں کی بے عزّتی کی جاتی ہے۔ ہماری معیشت کسی بھی جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ مہنگائی اور بے روزگاری نے عوام کی کمر توڑ دی ہے۔ یہ ضرور ہے کہ ہندوستان نے اگر کوئی جنگ ہم پر تھوپی تو پوری قوم افواج پاکستان کا ساتھ دے گی۔ یہ 1965والا حال ہوگا 1971والا نہیں۔ دونوں ممالک تباہ ہو جائیں گے۔ ہماری قوّت دفاع اور قوّت حرب بہت اچھی ہیں اور ہم ہندوستان کو ناقابلِ برداشت نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ مغربی ممالک کو چاہئے کہ حالات کی نزاکت کو سمجھیں اور کشمیر کے تنازعہ کا کشمیریوں کو قابلِ قبول حل پیش کرائیں۔ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں مسلمان پِس رہے ہیں اور کوئی مغربی ملک ہماری مدد کو نہ آسکے گا۔ آپ کے سامنے ان کی دورخی پالیسی کی مثالیں موجود ہیں۔ مشرقی تیمور، پاپانیوگنی، جنوبی سوڈان وغیرہ میں غیرمسلم افراد تھے ان کی فوراً مدد کی گئی اور وہ آزاد ہوگئے۔ فلسطینیوں کے ساتھ 70برس سے ظلم ہورہا ہے اور کسی کا دل ان کے لئے درد محسوس نہیں کرتا۔ ان پر غیرانسانی مظالم ہورہے ہیں۔ اس میں ہمارا بھی بہت قصور ہے۔ عرب ممالک اَپنے ہم مذہبوں کو مارنے میں پہل کرنے میں ماہر ہیں مثال ملکِ شام کی ہے مگر فلسطینیوں کو اپنا چھوٹا سا زمین کا ٹکڑا (ویسٹ بینک) دلانے میں رتی برابر مدد کرنے کو تیار نہیں بلکہ خوش خوش جلد از جلد اسرائیل سے سفارتی تعلقات بڑھانے میں پیش پیش ہیں۔ عیسائیوں اور یہودیوں سے دوستی کرنے اور ہم راز بنانے کے بارے میں قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے بہت سخت تنبیہ کی ہے۔ یہ لوگ اللہ کا وعدہ بھول جاتے ہیں وہ یقیناً ان کو سخت عذاب دے گا۔

کچھ سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ ملک کا مستقبل کیا ہوگا۔ حکومتی وزیر اور مشیر سنہرے خواب دکھا رہے ہیں اور زمینی حالات اس کے قطعی برعکس ہیں۔ پورے ملک میں لوگ مہنگائی کا رونا رو رہے ہیں، عید پر بھی بازار خالی تھے۔ قربانی کی غرض سے فروخت کے لئے لائے گئے جانور بھی زیادہ نہ بکے، بینک والوں نے شور مچا دیا کہ عوام نے 700ارب روپیہ بینکوں سے نکال لئے اور مزید نکال رہے ہیں۔ صنعتکاروں، تاجروں کا اعتماد اُٹھ گیا ہے۔ دکانداروں کو پریشان کیا جارہا ہے اور ہر طریقہ سے اس غریب کی کھال اُتاری جارہی ہے جس کی کھال ہڈیوں سے لگی ہوئی ہے۔ اس وقت ملک میں عجیب سی بے چینی، غیریقینی پھیلی ہوئی ہے۔ لوگ پریشان ہیں کہ یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔

شروع میں عوام، صنعتکاروں، تاجروں کو سنہری خواب دکھائے گئے تھے اور اب خواب خاک میں مل گئے ہیں۔ حکومت کا کوئی بھی اقدام ’عوام دوست‘ ثابت نہیں ہورہا اور اُدھر وزراء دن بھر ٹی وی پر بھنگڑے ڈال رہے ہیں کہ ملک 22ویں صدی میں چلا گیا ہے۔ پشاور کی میٹرو بس چھ سال میں مکمل نہیں ہوئی جو بھی جاتا ہے کہتا ہے کہ وہاں حالات بہت خراب ہیں پورا شہر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ بہر حال ووٹ دینے والوں کو اب یقیناً تبدیلی مل گئی ہے جس کے وہ بہت خواہشمند تھے۔ جو مانگا وہی مل گیا۔

اللہ پاک پاکستان کی حفاظت کرے اور عوام کی زندگی آسان بنا دے اور ان کو خوشیاں عطا کرے۔ آمین۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)