آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر24؍جمادی الاوّل 1441ھ 20؍جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

آخر بھارت کیا چاہ رہا ہے، کیا خطے کو آگ و خون میں نہلانا چاہتا ہے۔ کیا گجرات میں کی گئی خون کی ہولی نے اس کو شانت نہیں کیا جو اب وہ عالمی سطح پر دنیا کو خون میں نہلانا چا ہ رہا ہے۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی جس کے معنی بقال، بنیا، سود پر سودا بیچنے والا دکاندار لیکن یہ تمام صفات کا اس کی ذات میں فقدان ہے ہاں اگر مودی کے دال کو ذال سے بدل دیا جائے اور مودی کو موذی لکھا اور پڑھا جائے تو یہ لفظ نریندر پر بالکل فٹ بیٹھتا ہے کیونکہ موذی کے معنی ایذا دینے والا، تکلیف پہنچانے والا، ستانے والا، جابر، ظالم، شریر بد ذات کے ہیں یہ ساری صفات نریندر جی پر صادق آتی ہیں موذی اور اس کی جماعت انتہا پسند ہندو جماعت ہے جو مسلمانوں کو کسی بھی طرح برداشت کرنے کو تیار نہیں ان کا بس نہیں چل رہا کہ خطے سے مسلمانوں کے وجود کو ختم کردیں۔

اگر وہ بھارت میں جہاں اس کا راج ہے کرتے ہیں تو ہندو مسلم فساد برپا ہوسکتا ہے مسلمان تو مارا ہی جائے گا لیکن ہندو تو ابھی بچ نہیں سکے گا۔ اسی لیے ہندو دانش مندوں نے سوچ بچار کے بعد کشمیر کو اپنے نشانے پر رکھ لیا ہے کیونکہ انہوں نے دیکھ لیا ہے سمجھ لیا ہے کہ کشمیری انتہائی ظلم و ستم کے باوجود اس تمام تر طویل عرصے میں اب تک کہیں بھی اسلحہ نہیں اٹھا سکے صرف پتھر لاٹھی اور نعروں سے کام چلا رہے ہیں جبکہ ان کے مد مقابل جدید ترین اسلحہ سے لیس تربیت یافتہ افواج کھڑی ہے جس نے چاروں طرف سے ناکہ بندی اور کرفیو جیسے حربے استعمال کر رکھے ہیں۔ ان تمام تر حربوں کے باوجودجذبہ حریت سےلیس کشمیری عوام کسی بھی طرح قابو نہیں آرہے نریندر موذی ہر طرح کے ظلم و ستم اور فوج اور پولیس کے استعمال کے باوجود کسی طرح کشمیریوں کے جذبےحریت کو نہ دبا سکے نہ ان کا راستہ کھوٹا کرسکے یقیناً کشمیریوں کی جدوجہد مسلسل اور جذبہ آزادی حریت انہیں ان کی منزل سے ہر قدم پر قریب سے قریب تر کر رہا ہے اور پیاز کی پرتوں کی مانند نریندر موذی کی ایک ایک پرت بھی کھلتی چلی آرہی ہے۔ اگر یوں سمجھا جائے کہ یہ موذی قرب قیامت کے آثار میں سے ایک آثار ہے تو غلط نہیں ہوگا کیونکہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ قیامت کے قریب خلیجی حکمران بتوں کی طرف راغب ہونا شروع ہوجائیںگے کیا ایسا ہونا شروع نہیں ہوگیا سعودی عرب نے اسرائیل میں اپنا سفارت خانہ کھول لیا ہے قطر نے پہلے ہی یہ کام کرلیا تھا اب رہی سہی کسر متحدہ عرب امارات نے پوری کردی امارات میں پہلا ہندو مندر بنا دیا گیا ہے جہاں ہندو آزادی سے اپنی مذہبی رسوم ادا کرسکتے ہیں اس ساری کارروائی میں عرب امارات کے مسلم حکمران پیش پیش رہے اور ان کی تمام تقریبات میں شریک ہیں۔ اس تمام کے بعد اب متحدہ عرب امارات کے حکمرانوں نے نیا شگوفہ کھلایا ہے کہ نریندر موذی کو مسلمانوں کیخلاف ظالمانہ کارروائیوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات کا اعلیٰ ترین اعزاز سے نوازا ہے۔ اس کا مطلب و مقصد یہی سمجھا جاسکتا ہے کہ موذی کی مسلمان دشمنی خصوصا کشمیر میں کئے جانے والے ظلم و ستم کو عرب ریاستیں جائز سمجھتی ہیں کیا ان ریاستی حکمرانوں سے بہتر حجاج بن یوسف نہیں تھا کہ جس نے ایک مسلمان قافلے کو لوٹنے پر اس میں قید کی گئی خاتون کی فریاد پر فوج کشی کا نہ صرف حکم دیا بلکہ دیبل کو فتح بھی کرا کر چھوڑا حجاز بن یوسف بھی اپنے زمانے کا جابر و ظالم حکمران کے طور پر مشہور ہے لیکن اس نے اپنی تمام تر کمزوریوں خرابیوں کے باوجود ایک مسلمان ہوتے ہوئے مسلمانوں کی بقا و حفاظت کی ذمہ داری پوری کی تھی اس نے کسی ہندو کو گلے نہیں لگایا تھا نہ ہی کسی اعزاز سے نوازا تھا تو وہ بھی عرب لیکن مسلمان تو تھا آج کے جدید دور میں اسلام برائے نام بھی نہیں نظر آتا دین پر مالی سیاسی، معاشی مفادات کو فوقیت دی جاتی ہے مذہب سے کہیں دور کا واسطہ نظر نہیں آتا۔ داعی اسلام حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے تجارت بھی کی سیاست بھی کی جنگ و جدل بھی کی لیکن اپنے دعویٰ اسلام سے کہیں کمزور نہیں پڑے نہ کسی بھی طرح ذاتی یا اجتماعی مفادات کے لیے اسلام کو پس پشت ڈالا۔ آج ہم سنتے ہیں کہ ہم اب نام کے مسلمان رہ گئے ہیں کیا خلفائے راشدین کےنام قبل ازاسلام کچھ اور تھے اگر نام سے مسلمان ہوناشرط ہوتاتو اُن کےنام کچھ اورہوتے ہمارے سارے کام یہود و نصاریٰ جیسے ہیں یا ان کے ما تحت ہو کر رہ گئے ہیں کیا ہم قرآن کے حکم کو بھول چکے ہیں کہ ”یہود و نصاریٰ تمہارے دوست نہیں ہوسکتے“ اس کے باوجود ہم نے ان کے آگے سر تسلیم خم کر رکھا ہے اپنی تمام معاشی اقتصادی ضروریات کے لیے اللہ تبارک و تعالیٰ کی جگہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے آگے دست سوال پھیلائے رہتے ہیں۔

بات ہو رہی تھی نریندر موذی کی۔اسےکو کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں باز پرس کرنےوالانہیں ۔ اقوام متحدہ کی متعدد قراردادوں کے باوجود اقوام عالم خاموش تماشائی بنی تماشا دیکھ رہی ہے۔ آخر مسلم دنیا کس کا انتظار کر رہی ہے اگر کہیں کشمیرکی آزادی کے حصول میں مسلمان کسی بھی طرح کامیاب ہوجاتے ہیں تو یہی خاموش تماشائی اپنی خاموشی توڑ کر مسلمانوں کیخلاف اور ہندو تواکی حمایت میں لمبے لمبے بھاشن جھاڑنا شروع ہوجائیں گے پھر انہیں انسانیت مٹتی ظلم ہوتا نظر آنے لگے گا۔ اللہ پاکستان کی اور کشمیر اور کشمیری مسلمانوں کی حفاظت فرمائے اور کشمیریوں کو موذی کے چنگل سے آزادی نصیب کرے، آمین۔

ادارتی صفحہ سے مزید