A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined index: HTTP_REFERER

Filename: front/layout_front.php

Line Number: 246

Backtrace:

File: /var/www/js.jang.com.pk/application_jang/views/front/layout_front.php
Line: 246
Function: _error_handler

File: /var/www/js.jang.com.pk/application_jang/third_party/MX/Loader.php
Line: 351
Function: include

File: /var/www/js.jang.com.pk/application_jang/third_party/MX/Loader.php
Line: 294
Function: _ci_load

File: /var/www/js.jang.com.pk/application_jang/modules/frontend/controllers/Detail.php
Line: 464
Function: view

File: /var/www/js.jang.com.pk/html/index.php
Line: 333
Function: require_once

آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر14؍ صفرالمظفر 1441ھ 14؍اکتوبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
  • میرے مالک! مقصد کی تکمیل تک میرا پردہ، بھرم قائم رکھنا
  • کبھی کبھی اپنوں کی نظر، غیروں سے بڑھ کر ’’نظرِ بد‘‘ ثابت ہوتی ہے
  • اِک دَربدر، خاک بسر… اور عشقِ مجازی سے عشقِ حقیقی تک کا سفرِ مسلسل

سپاہی دوبارہ کڑک کر بولا ’’شناختی کارڈ دکھائو اپنا…‘‘ مَیں نے گھبرا کر باہر پلیٹ فارم کی طرف دیکھا۔ ’’کارڈ تو نہیں ہے اِس وقت میرے پاس۔‘‘ سپاہی نے غور سے میری طرف دیکھا۔ ’’کہاں سے آ رہے ہو اور کہاں جا رہے ہو؟‘‘ اُسی وقت باہر پلیٹ فارم سے کوئی چِلّا کر بولا۔ ’’رحمان پورے والی جماعت اُتر جائے جلدی۔ یہاں سے آگے ہم بسوں میں جائیں گے، چلو جلدی کرو۔ مغرب کی جماعت کھڑی ہوچُکی ہے۔‘‘ سپاہی نے میری نظروں کے تعاقب میں باہر پلیٹ فارم پر اُترتے بستربند اور جماعت والوں کا سامان دیکھا۔ ’’اچھا تو یوں کہو ناں، تبلیغی جماعت والوں کے ساتھ ہو صوفی صاب۔ جائو جلدی جا کر نماز پڑھ لو۔ گاڑی یہاں زیادہ دیر نہیں رُکے گی۔‘‘ سپاہی اپنی ہی جانب سے سارے اندازے لگا کر آگے بڑھ گیا۔ سلام پھیرتے وقت میری آنکھوں سے آنسو نکل آئے، امام نے دُعا کے لیے ہاتھ اُٹھائے تو میرے دل سے بس ایک ہی دُعا نکلی۔ ’’میرے مالک! جس مقصد کے لیے جیل سے باہر نکلا ہوں، اُس کے پورے ہونے تک میرا پردہ، بھرم قائم رکھنا۔‘‘ ٹرین چل پڑی۔ میں نے ڈبّے میں چڑھتے وقت دُور بخت خان کو کھڑے دیکھا، جو میرے سوار ہونے کے انتظار میں اپنے ڈبّے کے باہر کھڑا بیڑی پی رہا تھا۔ پھر رات بھر ٹرین کسی اسٹیشن پر نہیں رُکی اور فجر سے پہلے رحیم گڑھ کے نام والی تختی لگے پلیٹ فارم پر گاڑی کے رُکتے ڈبّے چرچرائے تو مَیں اور بخت خان خاموشی سے دُھند میں ڈُوبے اسٹیشن سے باہر آگئے۔ باہر چند تانگے والے اپنی اپنی سواری پر بیٹھے اونگھ رہے تھے۔ بخت خان نے ایک تانگے والے کا شانہ ہلایا تو وہ جلدی سے چھانٹا سنبھال کرگدّی پربیٹھ گیا۔ ’’کدھرجانا ہے بادشاہو!‘‘ بخت خان نے میری طرف دیکھا۔ ’’گائوں سے پرے بڑے پیر کے مزار پر لے چلو۔‘‘ باتونی تانگے والے نے اپنا چھانٹا ہوا میں لہرایا اور تانگہ چل پڑا۔ ’’اچھا، تو منّت مانگی ہے بڑے پیر کے یہاں حاضری کی۔ اچھا کیا، بہت لوگوں کی مُرادیں پوری ہوتی ہیں وہاں جناب، آپ کی بھی ضرور ہوگی۔ ویسے مسئلہ کیا ہے…؟‘‘ تانگے والا بولتا رہا اور تانگہ دُھند اور کہرے میں ڈُوبی کچّی سڑک پر دوڑتا رہا۔ تانگے والے کو جب ہماری طرف سے جواب نہیں ملا، تو اُس نے اُکتا کر تانگے کے چھجّے سے بندھا پُرانا چھوٹا ریڈیو بٹن دبا کر آن کر دیا۔ ریڈیو پر بھی اُس نے تین چار طرح کے ریشمی غلاف اور موتیوں والی لڑیوں کی جھالریں سجارکھی تھیں، جیسے ریڈیو نہ ہو، اس کامحبوب ہو، جسے وہ روز سجا سنورا دیکھنا چاہتا ہو۔ ریڈیو پر صبح کا خبرنامہ نشر ہو رہا تھا۔ وہی حکمرانوں کے جھوٹے وعدے، کھوکھلے دعوے اور وہی حزب اختلاف کےالزامات۔ شاید کچھ چیزیں ہمیشہ ایک سی ہی رہتی ہیں۔ اچانک خبر بدلی اور خبر پڑھنے والے نے نئی خبر سُنائی۔ ’’سینٹرل جیل سے فرار ہونے والے قیدی بگّھا سنگھ کو پولیس نے ضلع مختارپور کچّے کے علاقے سے زخمی حالت میں گرفتار کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق…‘‘ ہم دونوں کے سر پرجیسےبم سا پھٹا۔ تانگے والا تانگہ بھگاتے ہوئے اپنی دُھن میں بولتا رہا۔ ’’بڑے خطرناک ملزم بھاگے تھے جی۔ ایک تو سُنا ہے جیل ہی میں مارا گیا اب دُوسرا یہ پکڑا گیا ہے۔ دیکھو، باقی کب مرتے ہیں اپنی موت۔ ‘‘تانگے والے نے بٹن گھمایا۔ ریڈیو پر قوالی شروع ہوگئی۔ ’’اندھیرے میں دل کے… چراغ محبت…یہ کس نے جلایا سویرے سویرے…‘‘ مزار کی منڈیر پر بھی رات کا آخری جلایا ہوا چراغ ابھی تک پھڑپھڑا رہا تھا، مگر بگھے سنگھ کی گرفتاری کی خبر سُن کر ہم دونوں کے دل کے دیے یک لخت بجھ سے گئے تھے۔

مزار پر فجر کے وقت کی معمول کی چہل پہل تھی اور اِکّا دُکّا زائرین اور کچھ مجاور پانی بھرنے اور مزار کے فرش پر جھاڑو لگانے میں مشغول تھے۔ایک جانب پرندوں کودانہ ڈالنےوالی مخصوص جگہ پر چڑیوں کے غول دانہ چُگنے کے لیے اُتر رہے تھے۔ مزار کے احاطے میں لگے درختوں پر اَگربتیاں جلا کر اٹکا دی گئی تھیں، جن کی خوشبو سے مزار کا صحن مہک رہا تھا۔ شاید دُنیا کی ہر درگاہ کا ایک جیسا ہی ماحول ہوتا ہے۔ صحن میں اِدھر اُدھر کچھ لوگ چادریں، کمبل اوڑھے سو رہے تھے اور دُور بیٹھا ایک مجذوب تھوڑی تھوڑی دیر بعد زور سے ’’حق‘‘ کا نعرہ لگا کر پھر سے خاموش ہو جاتا تھا۔ ایک جانب چینی کی بڑی سی چینک میں چائے بن ری تھی۔ مزار کے بڑے مجاور نے مٹّی کے پیالوں میں ہمیں چائے پیش کی۔ ’’اس علاقے میں اَجنبی لگتے ہو سرکار…‘‘ ’’ہاں! کسی کی تلاش یہاں کھینچ لائی ہے۔ ایک عورت ہے، جس کی بیٹی کھو گئی تھی کچھ عرصہ قبل۔ سُنا ہے وہ یہیں رہتی ہے اب۔‘‘ مجاور نے چونک کر ہماری طرف دیکھا۔ ’’کون… مائی بھاگی۔ کرم داد کی بیوہ، جسے وہ بھاگاں والی کہا کرتا تھا اور اب سب اُسے مائی بھاگی کہتے ہیں۔‘‘ ’’ہاں وہی۔ کیا تم ہمیں اُس سے ملوا سکتے ہو؟‘‘ مجاور نے ایک گہرا سانس لیا۔ ’’اس کا کوئی مستقل ٹھکانہ نہیں ہے۔ جی چاہے تو یہاں بھی آجاتی ہے۔ تم ٹھہرو، مَیں مزار کی خدمت گار عورتوں والے حصّے میں جا کر پوچھتا ہوں۔‘‘ مجاور چلا گیا۔ بخت خان وہیں مزار کے صحن میں کمر ٹکانے کے لیے دراز ہوگیا۔ مَیں نے آس پاس مزار کی چہل پہل دیکھی، تو جانے کیوں اُس لمحے مجھے سلطان بابا کی شدّت سے یاد آئی۔ کچھ ہی دیر میں مجاور نے پچھلے حصّے کی جانب کُھلتے دروازے سے آواز لگائی۔ ’’سرکار! یہیں آ جائیں۔‘‘ بخت خان آنکھیں موند چُکا تھا۔ مَیں نے اسے وہیں لیٹے رہنے دیا اور خود مجاور کے پیچھے چلتے ہوئے اُسی مزار کے ایک عقبی، مگر چھوٹے صحن میں آگیا۔ جہاں پیپل کے درخت کے گرد بنے ایک گول چبوترے پر مٹّی، گرد سے اَٹے کپڑوں میں، اُلجھے بالوں والی ایک ادھیڑ عُمر حواس باختہ سی عورت بیٹھی گھاس کے تنکوں سے کوئی آشیانہ بنانے کی کوشش کر رہی تھی۔ مجاور نے اُس کی طرف اشارہ کر کے کہا۔ ’’یہی ہے مائی بھاگی، مگر اس کے بھاگ بہت پہلے سو گئے تھے۔ اب یہ کسی کو نہیں پہچانتی۔ تم چاہو تو مل لو…‘‘ میرا دل اس عورت کی حالت دیکھ کر دہل سا گیا۔ کل تک یہی عورت اپنی راج دھانی کی ملکہ ہوگی، پیار کرنے والا شوہر، چاند سی فرماں بردار بیٹی، زمین جائیداد، ملکیت، وراثت، اناج، خیرات، تہوار… جانے کیا کچھ ہوتا ہوگا اس کے زیرِانتظام۔ وقت کی مار کتنی خطرناک اور بے رحم ہوتی ہے۔ ایک پل میں سب اُجڑ کر رہ جاتا ہے۔ مَیں کافی دیر بِنا کچھ کہے مائی کے پاس بیٹھا رہا۔ پھر وہ خود ہی میری جانب متوجّہ ہوئی۔ ’’تُو نے میری مہرو کو دیکھا ہے…؟ ابھی یہیں کھیل رہی تھی۔ میری ذرا دیر کو آنکھ لگی، تو جانے کہاں چلی گئی؟‘‘ ’’ہاں! وہ اپنی سہیلیوں کے ساتھ کھیلنے گئی ہے۔ شام تک واپس آ جائے گی۔ تم یہیں اس کا انتظار کرنا مائی۔‘‘ وہ خوش ہوگئی۔ ’’اچھا… اچھا… پروین کی طرف گئی ہوگی۔ دونوں کا دَم ایک دُوسری میں اَٹکا جو رہتا ہے۔ چلو ٹھیک ہے۔ آجائے گی ناں شام تک۔ تب تک میں اس کے لیے گڑ والی روٹی بنا لیتی ہوں۔ تم شام کو لے آئو گے ناں اُسے۔ وہ اندھیرے سے بہت ڈرتی ہے۔ مغرب کے بعد باہر نہیں جاتی کہیں۔‘‘ پیچھے سے بخت خان کی آواز آئی۔ ’’ہاں ماں جی! ہم اس کو مغرب سے پہلے لے آئے گا، تم فکر مت کرو۔‘‘ وہ نہ جانے کب سے ہمارے پیچھے کھڑا ہماری باتیں سُن رہا تھا۔ مائی بھاگی ہماری بات سُن کر یوں مطمئن ہوگئی، جیسے اُس کے سارے بوجھ ہم دونوں نے اپنے کاندھے پر اُٹھا لیےہوں۔ وہ خود ہی سے باتیں کرتی، مُسکراتی اور مستقبل کے منصوبے بناتی وہاں سے اُٹھ کر چلی گئی۔ بخت خان نے میری طرف دیکھا۔ ’’آگے کیا کرنا ہے عبداللہ خاناں…‘‘ ’’شام ہونے کا انتظار، اندھیرا ہوجائے تو ہم ماجد چوہدری کے گھر جائیں گے۔ تم جب تک آرام کرو۔‘‘ ماجد چوہدری ہی نام بتایا تھا حکیم یعقوب نے اپنے بھتیجے کا۔ مَیں دن کی روشنی میں اُس کے گھر نہیں جانا چاہتا۔ کبھی کبھی میں سوچتا تھا کہ اگر خدا نے رات نہ بنائی ہوتی، تو مجھ جیسے گناہ گار خود کو کہاں چُھپاتے۔ سچ ہے، اندھیرا بڑا پردہ ہے۔ مَیں اور بخت خان بھی اندھیرا ہوتے ہی مزار سے نکل پڑے اور مجاور کے بتائے رستوں پر چلتے عشاء کی نماز کے بعد حکیم یعقوب کے بھتیجے کے محلّے پہنچ گئے۔

محلّہ سُنسان پڑا تھا۔ اِکّا دُکّا آوارہ کتّے اپنی پناہ گاہوں میں بیٹھے اونگھ رہے تھے۔ گائوں کی رات اور صبح جلد ہو جاتی ہے۔ مَیں نے اور بخت خان نے بڑی کھیس نُما چادروں سے بظاہر خود کو ٹھنڈی اور سرد ہوا سے بچانے کےلیےچہرہ لپیٹ کر بُکل سی مار رکھی تھی۔ مقصد وہی تھا، اپنی شناخت چھپانا۔ تیسری دستک پر ایک چھوٹا بچّہ باہر آیا۔ ’’جی…‘‘ ’’ماجد چوہدری صاحب کا مکان یہی ہے؟‘‘ بچّے نے تجسّس سے ہماری طرف دیکھا۔ ’’ہاں جی۔ ابھی بلاتا ہوں ابّے کو۔‘‘ بچہّ اندر بھاگ گیا، کچھ دیر میں تیس پینتیس سالہ گہرے سانولے رنگ اور مضبوط جسم کا ایک جوان مرد باہر آیا۔ ’’جی… میرا نام ماجد ہے۔ آپ کون؟‘‘ ’’ہمیں حکیم یعقوب صاحب نے آپ کا پتا دیا ہے۔ ہم کچھ دن ان کے مہمان تھے۔ شاید آپ سے بات ہوئی ہو ان کی؟‘‘ ماجد ایک دَم چونکا۔ ’’اچھا اچھا…ہاں۔ بالکل، چاچے نے بتایا تھا۔ آپ لوگ یہیں ٹھہرو، میں بیٹھک کادروازہ کھولتا ہوں۔ یہاں کھڑے رہنا ٹھیک نہیں ہے۔‘‘ ماجد جلدی سے اندر پلٹ گیا۔ شاید حکیم نے اُسے ہماری ساری حقیقت بتا رکھی تھی۔ تبھی اُس نے عجلت میں ہمیں گلی میں کُھلتے بیٹھک کے دروازے سے اندر بلا لیا۔ ’’مجھے چاچے کا فون آگیا تھا۔ شُکر ہے آپ لوگ خیر خیریت سے رحیم گڑھ پہنچ گئے۔کہیے، کیاخدمت کرسکتاہوں میں آپ لوگوں کی؟‘‘ ’’مہرو کے اغوا کے بارے میں کیا جانتے ہو؟‘‘ ماجد نے چونک کر ہماری طرف دیکھا۔ ’’بس اتنا ہی کہ وہ چاچے کرم داد کی انتہائی لاڈلی بیٹی تھی اور ہمارے چوہدری احمد کی محبّت کی منگ۔ پر سب برباد ہوگیا جی۔ سب لُٹ گیا ایک ہی رات میں۔‘‘ مہرو کی کہانی زیادہ لمبی نہیں تھی۔ ماجد نے بتایا کہ وہ چوہدری احمد کے پاس ہی منشی کی ملازمت کرتا ہے اور اُس کے مالک کو کرمے کی لاڈلی مہرو گائوں کی کسی شادی کی تقریب میں پہلی بار اتفاقیہ دکھائی دی تھی۔ مگر یہی اتفاق احمد کی زندگی کا سب سے بڑا روگ بن گیا۔ مہرو کی ایک ہی جھلک نے اس کے دن کا چین، رات کی نیند غارت کرکے رکھ دی تھی۔ احمد نے مہرو سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو اُسے ٹکا سا جواب ملا کہ جو بھی بات کرنی ہے، والدین سے کرے، کیوں کہ اُس کے دل، صحن کے دروازے کی کُنجی اس کے باپ کے پاس ہے اور کوئی اَجنبی اُس کے باپ کی اجازت کے بنا یہ دروازہ کبھی نہیں کھول پائے گا۔ احمد بھی دُھن کا پکّا تھا اس نے کرم داد تک اپنا مُدعا پہنچانے میں دیر نہیں کی اور یوں مہرو کا رشتہ چوہدری احمد کے ساتھ طے ہوگیا۔ نکاح کی تاریخ مقرر ہوگئی اور شادی دو ماہ بعد طے کر دی گئی۔ وقت پَر لگا کر اُڑنے لگا۔ احمد اور مہرو دِن گِن گِن کر اپنے ملن کی گھڑیوں کا انتظار کر رہے تھے۔ اور پھر شادی کی رسمیں بھی شروع ہوگئیں۔ مہرو پر خُوب نکھار آیا۔ سارے مہمانوں کی نظریں اُبٹن، مایوں اور منہدی کی رسموں کے دوران شرمیلی مہرو ہی کو نہارتی رہیں، مگر مگر کِسے خبر تھی کہ کبھی کبھی اپنوں کی نظر ہی غیروں سے بڑھ کر ’’نظرِ بد‘‘ ثابت ہوتی ہے۔ احمد اور مہرو کی خوشیوں کو بھی شاید اُن کے کسی اپنے ہی کی نظر لگ گئی اور منہدی والی رات ہی مہرو کو چوہدری کرم داد کے پائیں باغ کے ایک ویران گوشے سے کوئی اُٹھا کر لے گیا۔ سارے گھر میں کہرام مچ گیا۔ شادی والا گھر ماتم کدہ بن گیا۔ احمد کی تو دُنیا ہی اُجڑ گئی۔ اور وہ دیوانوں کی طرح مہرو کی تلاش میں نکل پڑا۔ مگر، کرم داد اور اس کی بیوی کی زندگی میں چھانے والی کالی رات پھر کبھی رُخصت نہیں ہوئی۔ چاروں طرف ہرکارے دوڑائے گئے۔ پہرے لگے، راستے بند کر کے ایک ایک راہ گیر اور سواری کو چھانا گیا، تلاشیاں ہوئیں، مگر جو ایک بار کھو جائیں، وہ بھلا تلاشیوں سے کہاں ملتے ہیں۔ مہرو بھی ایسی کھوئی کہ پھر دوبارہ اُس کا کوئی سراغ نہ ملا۔‘‘ ماجد بولتے بولتے یکایک چپ ساہوگیا۔ ’’وہ جی… کہتے ہیں کہ خود چوہدری احمد نےبھی مہینہ ڈیڑھ بعد دل چھوڑ دیا تھا مہرو کی تلاش سے۔ لڑکی جب رات بھر گھر سے باہر گزار دے، پھر اسے کم ہی دِل والے دِل سے قبول کرتے ہیں۔ صرف کرم داد ہی تھا، جو پاگلوں کی طرح اپنی بیٹی کو شہر شہر، قریہ قریہ ڈھونڈتا رہا، لیکن پھر وہ بھی قتل کے الزام میں پھانسی چڑھ گیا۔ ماں پاگل ہو کر مزاروں، ویرانوں میں رُل گئی اور مہرو کا قصّہ لوگوں کے ذہن میں ایک بھولی بسری یاد بن گیا۔‘‘

ماجد خاموش ہوا تو کمرے میں بھی گہری خاموشی چھا گئی۔ بخت خان بولا، تو اُس کی آواز میں بھی ایک عجیب سا درد تھا۔ ’’اور پھر… اُس کا کچھ پتا نہیں چلایا کسی نے؟‘‘ ’’نہ جی۔ چوہدری احمد نے تو چھے مہینے بعد ہی پروین سے شادی کرلی۔ اور اب وہ ہنسی خوشی اپنے بیوی، بچّے کے ساتھ زندگی گزار رہا ہے۔ اب تو اس کا بیٹا بھی ایک سال کا ہونے والا ہے۔‘‘ مَیں پروین کے نام پر چونک پڑا۔ یہ نام تو آج ہی میں نے مہرو کی ماں کی زبان سے سُنا تھا۔ ہاں! مائی بھاگی نے مہرو کی سب سے عزیز اور گہری سہیلی کا نام پروین ہی تو بتایا تھا۔ مَیں نے ماجد سے تصدیق چاہی۔ ’’ہاں جی، یہ وہی پروین ہے، سُنا ہے خود چوہدری ہی نے اس کے گھر شادی کا نیوتا بھیجا تھا۔ کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ چوہدری نے مہرو کی محبت کی یاد دل میں زندہ رکھنے کے لیے ہی اس کی سہیلی سے نکاح کرلیا۔‘‘ میرے ذہن میں چیونٹیاں سی رینگنے لگیں۔ پتا نہیں کیوں، مجھے پروین اور احمد کی شادی میں مہرو کی اُلجھی ہوئی گتھی کا کوئی سِرا کُھلتا محسوس ہو رہا تھا۔ مَیں نے ماجد سے پوچھا۔ ’’کیا تم ہماری ملاقات احمد سے کروا سکتے ہو، ہماری شناخت بتائے بغیر…؟‘‘ ماجد سوچ میں پڑ گیا۔ ’’مشکل کام ہے جی۔ مہرو کا نام درمیان میں آئے گا، تو وہ آپ دونوں کی شناخت تو ضرور پوچھے گا۔ اور بِنا شناخت جانے شاید وہ مِلے بھی نہیں۔‘‘ پھر اچانک جیسے ماجد کو کچھ یاد آ گیا۔ ’’ہاں… مگر ایک کام ہو سکتا ہے۔ کل چوہدری احمد کے بیٹے کی پہلی سال گرہ ہے۔ وہ بڑے پیر کے مزار پر بیٹے اور بیوی کے ساتھ حاضری دینے آئے گا۔ آپ چاہو تو وہاں کسی طریقے سے اُس سے مل سکتے ہو۔ کل چوہدری کی طرف سے سارے زائرین اور مزار کے عملے میں لنگر، نیاز اور تحائف بھی بانٹے جائیں گے۔‘‘ مَیں نے بخت خان کو اُٹھنے کا اشارہ کیا۔

ہم مزار واپس پہنچے تو رات گہری ہو چُکی تھی۔ مزار کی منڈیر پر جلتے آخری دیے کی لَو نے پھڑپھڑا کر ہماری طرف دیکھا اور بُجھ گیا۔ کچھ راتیں زمین پر نہیں، سیدھی ہمارے دل پر اُترتی ہیں۔ مَیں اور بخت خان بھی اپنے اپنے دِلوں کے اندر بَسے تاریک اندھیرے لیے سر ٹِکا کر سونے کی کوشش کرنے لگے۔ اگلی صبح مزار کے احاطے میں کچھ غیرمعمولی چہل پہل تھی۔ صبح ہی سے بڑے لنگر والوں نے زردے، پلائو کی دیگیں بیرونی صحن میں دھیمی آنچ پرچڑھا دی تھیں۔ صحن کو جھنڈیوں، رنگین قمقموں سے سجایا گیا اور زائرین اِدھر اُدھر بھاگتے پانی کے چھڑکائو اور صفائیاں کرتے دکھائی دے رہے تھے۔ ڈھولچیوں کی ٹولیاں اور دھمال ڈالنے والے مجذوب جمع ہونے لگے۔ عصر کے بعد یکایک احاطے میں شور سا مچ گیا۔ کسی حویلی کے بہت سے مزارعے رنگین رُومالوں اور ریشمی چادروں سے ڈھکے خوان اور نیاز کی بڑی پراتیں اُٹھائے مزار میں داخل ہوئے، تو حاجت مند قطاروں میں بیٹھ گئے۔ نذر نیاز کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ چوہدری احمد نے اپنےبیٹےکےجنم دن پر واقعی اپنے خزانوں کے منہ کھول دیئے تھے۔ انسان بھی کتنی مجبور مخلوق ہے، اس کے پاس اپنی خوشی منانے کے ذرائع بھی کتنے محدود ہیں۔ اس بات کا احساس بھی مجھے اُسی روز ہوا۔ جانے انسان خوشی میں لُٹاتا کیوں ہے اور غم اور یاس میں چُھپاتا کیوں ہے۔ جو بھی ہو، دونوں جذبے وقتی ہوتے ہیں۔ احمد، اپنی چوہدرائن بیوی پروین کے ساتھ اپنے بچّے کو گود میں اُٹھائے سب سائلوں اور مزارعوں میں کچھ بانٹتا ہوا، قطار میں بڑھتا میری اور بخت خان کی سمت چلا آ رہا تھا۔ ہم کُھلی چادروں اور لمبے کھیسوں میں اُسی قطار کے آخر میں بیٹھے تھے۔ انسان کے لیے حلیہ بنانا کتنا مشکل اور بگاڑنا کتنا آسان ہوتاہے اور یہ سادہ لوح انسان ہی اس بگڑے حلیے، اُلجھی لٹوں اور شکن زدہ مٹّی سے اَٹی پوشاک میں پوشیدہ شخص کو کتنی آسانی سے ملنگ اور مجذوب مان لیتے ہیں۔ چوہدری کی بیوی پروین نے اپنے بیٹے کا سر میرے سامنے کیا۔ ’’اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر دُعا کر دو سائیں لوکو… شالا رَبّ اسے لمبی حیاتی دیوے۔‘‘ مَیں نے مہرو کی جگری سہیلی کی طرف دیکھا۔ دُھوپ میں اس کا حُسن اور ناک کا کوکا دونوں ہی دَمک رہے تھے۔ میری زبان بے اختیار پھسل پڑی۔ ’’لائی بے قدراں نال یاری… تے ٹُٹ گئی تڑک کر کے۔‘‘ پروین نے تڑپ کر میری طرف دیکھا، اتنے میں اس کا شوہر، مہرو کا محبوب بھی ہمارے قریب پہنچ چُکا تھا۔ بیوی کی عاجزی اور نیازمندی دیکھ کر وہ بھی دو لمحے کے لیے ہمارے پاس رُکا۔ ’’کیا خدمت کروں آپ کی سائیں جی… حُکم تو کرو۔‘‘ مَیں نے احمد کی طرف دیکھا۔ ’’تھوڑی سی وفا اُدھار دے سکتے ہو… فقیر کو اور کسی چیز کی ضرورت نہیں۔ مگر اس معاملے میں تو تم بھی میری طرح بھکاری ہی دکھائی دے رہے ہو۔ جائو، لے جائو اپنی یہ سوغاتیں۔ تم سے کچھ نہیں چاہیے۔‘‘ احمد کے چہرے پر پَل بھر میں کئی رنگ آ کر گزر گئے۔ پروین پہلے ہی نڈھال سی بیٹھی تھی، ’’اتنی جلدی نئی دُنیا بسا لی اور وہ بھی اُس کی ہم جولی کے ساتھ۔ یہ بھی نہ سوچا کہ اس پر کیا گزرے گی۔ اس کی وفائوں کا اچھا مول دیا… بڑا اچھا مول دیا تم نے۔‘‘

مَیں بات ختم کرکے وہاں سے اُٹھ گیا۔ احمد بے چینی سے میرے پیچھے لپکا۔ مگر ضرورت مندوں اور فقراء نے اُسے آگے بڑھنے نہیں دیا۔ میں نے اندھیرے میں تیر تو چلا دیا تھا، مگر یہ نہیں جانتا تھا کہ وہ اتنی گہرائی میں جا کر اُس کسی کےدل میں پیوست ہو جائے گا۔ باہر کا ڈاکہ خاموشی سے ڈالا جاتا ہے۔ مگر مَن کے اندر کا چور خود ہی شور مچا کر سب کو اکٹھا کرلیتا ہے۔ بخت خان نااُمید سا تھا، مگر اگلی صبح وہ چوہدری کی بیوی کو مزار کے احاطے میں اپنی نوکرانیوں کے جھرمٹ میں داخل ہوتے دیکھ کر حیرت زدہ رہ گیا۔ ’’وہ آگیا ہے عبداللہ خاناں۔‘‘ پروین اپنی نوکرانی اور خادمائوں کو پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھی اور میرے سامنے ہاتھ جوڑ کر بیٹھ گئی۔ ’’آپ نے میرے بیٹے کو دُعا نہیں دی سائیں… کیا مجھ سے کوئی بڑی خطا ہو گئی ہے…؟‘‘ (جاری ہے)

سنڈے میگزین سے مزید