آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر16؍محرم الحرام 1441ھ 16؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مشکل ترین معاشی دور، خسارے ورثے میں ملے، سابقہ حکمرانوں نے کرپشن کا بازار گرم کرکے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا، ان کا احتساب ہورہا ہے، صدر علوی

اسلام آباد (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ بھارت کی انتہا پسند قیادت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں ممکنہ نسل کشی سے چشم پوشی عالمی امن و استحکام کےلئے شدید خطرے کا باعث ہوگی۔

صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب


ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ پاکستان بھارت پر واضح کر دینا چاہتا ہے کہ مظلوم کشمیریوں کی نسل کشی قطعاً برداشت نہیں کی جائے گی‘پوری پاکستانی قوم اپنے کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہے ہم کسی موڑ پر انہیں تنہا نہیں چھوڑیں گے، ہم ان کے ساتھ تھے، ساتھ ہیں اور ہمیشہ ساتھ رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم بھارتی حکمرانوں سے کہتے ہیں کہ وہ ہوش کے ناخن لیں اور حالات کو اس نہج تک نہ لے جائیں جہاں سے واپسی ممکن نہ ہو، ہماری امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے،مسئلے کے حل کے لئے دنیا کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

معاشی اعتبار سے وطن عزیز اس وقت تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے‘ حکومت کو کرنٹ اکاؤنٹ اور بجٹ خسارہ اور گردشی قرضے ورثے میں ملے‘ سابقہ حکمرانوں نے کرپشن کا بازارگرم کرکے ملکی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا‘ملکی خزانے اور وسائل کو لوٹنے والوں کا احتساب جاری ہے‘ہم نے پاکستان کو ایک فلاحی ریاست بنانا ہے‘مدینہ جیسی فلاحی ریاست کا قیام اسی وقت ممکن ہے جب قوم کا ہر فرد ریاست کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالے۔

پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ نہ صرف دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہے بلکہ اس کی تکمیل سے خطے کا مستقبل بھی تابناک ہو گا‘اپنی قابل فخر اور بہادر افواج کو سلام پیش کرتا ہوں‘پوری قوم وطن عزیز کے دفاع اور سلامتی کے لیے پاکستان کی قابل فخر اور بہادر افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس کے بلوں میں کمی کی طرف توجہ مرکوز کی جائے‘آبادی میں تیز تر اضافہ ایک سنگین اور فوری توجہ طلب مسئلہ ہے‘ادارہ جاتی اصلاحات کے عمل کو جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔

معاشرے کی اصلاح کے لئے مسجد و منبر رسول بہترین فورم ہے‘وطن عزیز کا مستقبل صرف جمہوریت سے وابستہ ہے‘پائیدار ترقیاتی اہداف کا حصول اور عام آدمی تک ان کے ثمرات کو پہنچانا ہمارا قومی فریضہ ہے‘ دوسروں کی جنگ لڑنا ہماراسب سے بڑاغلط فیصلہ تھا‘ ہر فیصلہ کرتے ہوئے ہمیں ملکی مفاد کو مقدم رکھناہوگا۔حکومت سوشل میڈیا کے حوالے سے ایک جامع اور موثر پالیسی وضع کرے۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار جمعرات کو پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

صدر نے کہا کہ بھارت نے اپنے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات سے نہ صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے بلکہ شملہ معاہدے کی روح کو بھی ٹھیس پہنچائی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کی بہت بڑی سفارتی کامیابی ہے کہ 50 سال بعد مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ِزیربحث لایا گیا ‘مسئلہ کشمیر پر دہائیوں بعد سلامتی کونسل کے اجلاس میں گفت وشنیداس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں بلکہ ایک عالمی تصفیہ طلب مسئلہ ہے جس کے حل کے لئے عالمی برادری خصوصاً اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا، ورنہ یہ مسئلہ علاقائی و عالمی امن کے لئے شدید خطرے کا سبب بن سکتا ہے۔

صدر مملکت کا کہنا تھا کہ پاکستان امریکا کی مقبوضہ کشمیر کے منصفانہ اور دیرپا حل کے لئے ثالثی کی ہر کوشش کا خیرمقدم کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ 9 لاکھ بھارتی فوجیوں کی موجودگی کی وجہ سے مقبوضہ جموں و کشمیر اس وقت دنیا کا سب سے زیادہ تعداد کا حامل فوجی علاقہ ہے‘بھارت جابرانہ ہتھکنڈے استعمال کرکے کشمیریوں کی آواز سلب نہیں کر سکتا۔

آج بھارت کی سیکولرازم اور جمہوریت آر ایس ایس کی جنونیت کی نذر ہو رہی ہے۔ بھارت کو ہندو نسل پرست نظریے اور فاشسٹ سوچ کے حامل لوگوں نے ایسے یرغمال بنایا ہے جیسے نازیوں اور نازی ازم نے جرمنی کو بنایا تھا۔90 لاکھ کشمیریوں کی زندگی کوشدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔

میں اقوام متحدہ سے اپیل کرتا ہوں کہ کشمیر میں اپنے مبصرین بھیج کر موجودہ مخدوش حالات کے صحیح تناظر کو واضح کرے‘غاصب بھارتی افواج قتل و غارت گری، تشدد، غیر قانونی گرفتاریوں، پیلٹ گنز کے استعمال اور کشمیری خواتین کی عصمت دری جیسے درندانہ اور سفاکانہ جرائم کے ذریعے کشمیریوں کے انسانی حقوق کی دھجیاں اڑا رہی ہے۔

بھارت کی انتہا پسندقیادت مقبوضہ جموں و کشمیر کا آبادیاتی ڈھانچہ مسخ کرنے پر تلی ہوئی ہے اور یہ مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی جیسی انسانیت سوز پالیسی کو اپناتے ہوئے یوگوسلاویہ میں کی گئی انسانی حقوق کی پامالی کی تاریخ کو دہرا نے کے درپے ہے۔

آج اگر دنیا نے کشمیر میں ممکنہ نسل کشی کا نوٹس نہ لیا تو مجھے ڈر ہے کہ عالمی امن ایک بہت بڑے بحران کا شکار ہوجائے گا۔پوری پاکستانی قوم اس وقت تک ان کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی مددکرتی رہے گی جب تک انہیں حق خودارادیت نہیں مل جاتا۔بھارت کی غیر ذمہ دارانہ اور جارجانہ کارروائیوں سے جنوبی ایشیاءمیں امن، سلامتی اور استحکام کو شدید خطرہ لاحق ہے۔

بھارت ہمیشہ پاکستان کے اندر تخریبی کارروائیوں میں ملوث رہا اور وطن عزیز میں دہشت گردی کی سرپرستی کرتا رہا۔ اس کی ایک مثال کمانڈر کلبھوشن یادیوکی گرفتاری کی صورت میں سامنے آئی ۔دنیا کو اس بات کا ادراک کرنا ہوگا کہ بھارت پر آج ہندو انتہاپسندانہ سوچ نے اپنا غلبہ قائم کر لیا ہے۔ دنیا کو ان فاشسٹ پالیسیوں کے خلاف مزاحمت کرنی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ آج بھی معاشرے کی اصلاح کے لئے مسجد و منبر رسول بہترین فورم ہے۔ علمائے کرام کو چاہئے کہ وہ آگے بڑھیں اور معاشرتی اور سماجی برائیوں کے خلاف اپنا کردار ادا کریں۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنے پہلے خطاب میں پاکستان کو ریاست مدینہ کا رول ماڈل بنانے کا تصور پیش کیا تھا، حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی سیاسی، معاشرتی و معاشی ترقی اور استحکام اسی سوچ سے وابستہ ہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ وطن عزیز کا مستقبل صرف جمہوریت سے وابستہ ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ پچھلے مالیاتی سال کی نسبت درآمدات میں کمی اور برآمدات میں اضافے کی وجہ سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں خاطر خواہ کمی ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ترسیلات زر میں اضافہ ہوا ہے اور ہمارے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر بھی بڑھے ہیں۔ اب پائیدار ترقیاتی اہداف کا حصول اور عام آدمی تک ان کے ثمرات کو پہنچانا ہمارا قومی فریضہ ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت معیشت سے وابستہ تمام کاروبار کی دستاویز بندی کر کے حکومتی دائرہ اختیار میں لائے اور اسمگلنگ کی لعنت کا قلع قمع کرے۔

گزشتہ ادوار میں ذاتی مفادات کی جنگ میں کرپشن کا بازار گرم رہا اور غیر منصفانہ فیصلے کیے گئے۔ احتساب کے اصول کو بالائے طاق رکھتے ہوئے حکمرانوں نے ملکی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ یہی وجہ ہے کہ معیشت کو جدید اصولوں پر استوار نہیں کیا جا سکا اور اس کا ایک بڑا حصہ کالے دھن کی نذر ہوگیا جس کے اثرات کا ہم آج تک خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ان بے شمار چیلنجز سے نمٹنے کے لیے حکومت کوبجٹ میں مشکل فیصلے کرنے پڑے۔

ٹیکس نظام میں اصلاحات جیسے سخت اقدامات معیشت کی بہتری کے لیے اہم ہیں۔ اس کے علاوہ میں چاہتا ہوں کہ ایف بی آر میں اصلاحات لائی جائیں اور ٹیکس گزاروں کیلئے آسانیاں پیدا کی جائیں۔میں چاہوں گا کہ ادارہ جاتی اصلاحات کا عمل جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔ بدقسمتی سے وطن عزیز میں کرپشن کی لعنت بری طرح پھیل چکی ہے۔ ملکی خزانے اور وسائل کو لوٹنے والوں کا احتساب جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ میری حکو مت کو تاکید ہے کہ آبادی میں اضافہ روکنے پرفوری توجہ دے اور عوام میں اس سلسلے میں شعور بیدار کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے۔ہم نے پاکستان کو ایک فلاحی ریاست بنانا ہے۔

اہم خبریں سے مزید